?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے سابق ڈپٹی رجسٹرار نذر عباس کی انٹرا کورٹ اپیل پر تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کمیٹی ممبران کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کالعدم قرار دے دی۔
ڈان نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں سابق ڈپٹی رجسٹرار نذر عباس کی انٹرا کورٹ اپیل پر تفصیلی فیصلہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی ممبران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی غیر پائیدار ہے۔
فیصلہ جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ نے دیا، بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی شامل تھے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریگولر بینچ کے 21 اور 27 جنوری کے احکامات مؤثر نہیں رہے، آرٹیکل 204 کے تحت ججز ایک دوسرے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں کرسکتے۔
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ججز کو آئینی تحفظ حاصل ہے، صرف سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی کرسکتی ہے، ججز کے مابین توہین عدالت کارروائی انصاف کے نظام کو نقصان پہنچائے گی۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریگولر بینچ کو آئینی ترمیم کے بعد مقدمات سننے کا اختیار نہیں تھا، پارلیمنٹ کی 26ویں آئینی ترمیم کے بعد کیسز صرف آئینی بینچ ہی سن سکتے ہیں۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ریگولر بینچ نے آئین کی شقوں کے برعکس کارروائی جاری رکھی۔
خیال رہے کہ رواں سال 21 جنوری کو سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کو عہدے سے ہٹانے کا اعلامیہ جاری کیا تھا۔
اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس سنگین غلطی کے مرتکب ہوئے۔
مزید کہا گیا کہ ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے آئینی بینچ کا مقدمہ غلطی سے ریگولر بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا، نتیجتاً سپریم کورٹ اور فریقین کے وقت اور وسائل کا ضیاع ہوا۔
خیال رہے کہ وفاق نے ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کیخلاف توہین عدالت کیس کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل دائر کی تھی، جس میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔
ڈان نیوز کے مطابق وفاق نے سپریم کورٹ میں دائر کردہ اپیل میں موقف اپنایا تھا کہ 2 رکنی بینچ کا 27 جنوری کا فیصلہ اختیار سے تجاوز ہے، مرکزی مقدمےمیں بھی بینچ کےدائرہ اختیار پر اعتراض اٹھایا تھا۔
درخواست میں کہا گیا تھا کہ آئینی ترمیم کےبعد ریگولربینچ قانون چیلنج کرنے پر مبنی مقدمہ نہیں سن سکتا، کسی بینچ کو اختیار نہیں کہ بینچ تشکیل دینےکا حکم دے، فیصلےمیں سپریم کورٹ ججزکمیٹی کو عملی طورپر غیرفعال کردیاگیا۔
واضح رہے کہ 27 جنوری کو سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل بینچ نے ایڈیشنل رجسٹرار نذرعباس کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیاتھا اور جوڈیشل کمیٹیز کے اختیار پر فل کورٹ تشکیل دینے کے لیے فائل چیف جسٹس کو ارسال کردی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی نہیں کی، ایسا ثبوت نہیں ملا جس سے ظاہر ہو کہ ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کا مقدمے سے کوئی ذاتی مفاد ہے، ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کی جانب سے بدنیتی کا ثبوت نہیں ملا، ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کے خلاف توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لیا جاتا ہے۔


مشہور خبریں۔
امریکا کی حمایت حاصل کرنے کیلئے حکومت اور پی ٹی آئی کی کوششوں میں تیزی
?️ 23 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) موجودہ سیاسی بحران کے دوران بھی پاکستان اور امریکا
مارچ
پہلگام واقعے کو جواز بنا بھارت کو جج، جیوری اور سزا دینے والا بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ترجمان پاک فوج
?️ 9 مئی 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد
مئی
ہنیہ کا لبنان کا دورہ؛ فلسطینی وفد کی شامی وزیر خارجہ سے ملاقات
?️ 21 جون 2022سچ خبریں: لبنان میں حماس کے میڈیا دفتر نے اعلان کیا کہ
جون
شیلی کی طرف سے فلسطین میں سفارت خانہ کھولنے پر صیہونیوں کا غصہ
?️ 26 دسمبر 2022سچ خبریں: شیلی اور فلسطین کے درمیان تعلقات جو اب تک
دسمبر
افغانستان ایک انتہائی قبائلی اور قدامت پسند معاشرہ ہے: پاکستان
?️ 7 جون 2023سچ خبریں:افغانستان کے امور کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے آصف علی
جون
برطانوی وکلاء نے محمد بن زاید پر جنگی جرائم کا مقدمہ دائر کیا
?️ 23 اکتوبر 2021سچ خبریں: برطانوی اخبار گارڈین نے کہا کہ وکلاء کا ایک گروپ
اکتوبر
عراق سے امریکی فوجیوں کا اخراج ناقابل واپسی
?️ 17 جنوری 2023سچ خبریں:عراق کے ایک سیاسی ذریعے نے پیر کے روز کہا کہ
جنوری
ایران پر حملے کا مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ پاکستانی سرحد تک لانا ہے۔ خواجہ آصف
?️ 3 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے
مارچ