آئی ایم ایف جائزے کے دوران پی ٹی آئی نے ’ن لیگ‘ کو معاشی بحران کا ذمہ دار قرار دے دیا

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) ایک طرف عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) ملک کے لیے 71 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط جاری کرنے سے متعلق جائزہ لے رہا ہے، وہیں پی ٹی آئی نے ایک وائٹ پیپر جاری کیا ہے جس میں مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت مخلوط حکومت کو معاشی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے ملک کی تیزی سے گرتی ہوئی معیشت کو وبائی مرض کووڈ 19 جس نے عالمی سطح پر تباہی مچائی، کے باوجود تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن کیا، عمران خان کی حکومت کے خلاف سازش کرکے پی ڈی ایم حکومت کو مسلط کیا گیا جس نے سیلاب، زلزلے اور کورونا سے ہونے والے مجموعی نقصان سے زیادہ ملک کو معاشی پہنچایا۔

اس میں کہا گیا ہے کہ معاشی اشاروں سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ جب اگست 2018 میں پی ٹی آئی نے حکومت سنبھالی تو معیشت تباہی کے دہانے پر تھی، ملک کا مالی سال 2018 کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 19 ارب 20 کروڑ ڈالر تھا، اسٹیٹ بینک کے ذخائر 9.4 ارب ڈالر تھے اور 32 ڈالر قرضوں کی ادائیگی فوری کرنے کی ضرورت تھی۔

پی ٹی آئی نے مزیدکہا کہ اس وقت روپیہ 23 فیصد اوور ویلیو تھا، برآمدات میں پانچ برسوں میں 10 فیصد کم ہوئی جب کہ درآمدات میں 23 فیصد اضافہ ہوا جس سے ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر میں 33 کمی ہوئی، اس کے علاوہ مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 7.6 فیصد تھا۔

وائٹ پیپر میں الزام لگایا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے کیپیسٹی چارجز ادائیگیوں کو ڈالر کے ساتھ منسلک کرکے اور درآمد شدہ ایندھن کے پلانٹس لگا کر بجلی فراہمی کے شعبے کو تباہ کردیا، پی ٹی آئی حکومت کو وراثت میں ملا گردشی قرضہ 16 کھرب روپے تھا اور مالی سال 2018 میں سالانہ کیپیسٹی چارجز 450 ارب روپے تھے جو مالی سال 2023 میں بڑھ کر 14 کھرب روپے تک پہنچ گئے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے رابطہ کیا جس نے ڈسکاؤنٹ ریٹ 325 بی پی ایس کے علاوہ بجلی، گیس کے نرخوں اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی سخت شرائط عائد کیں، پی ٹی آئی حکومت نے ایک ہی سال میں ٹیکس کلیکشن میں اضافہ کرکے خسارے کو جی ڈی پی کے 5.5 فیصد تک کم کر دیا تھا۔

وائٹ پیپر میں میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر اجناس کے سپر سائیکل جس کی وجہ سے درآمدی اشیا جیسے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 115 ڈالر فی بیرل، خوردنی تیل کی قیمت 780 ڈالر فی ٹن سے 1500 ڈالر فی ٹن اور کوئلہ 80 ڈالر فی ٹن سے 280 ڈالر فی ٹن ہوگیا، کے باوجود پی ٹی آئی مارچ 2022 میں مہنگائی سے متعلق سی پی آئی کو 12.7 فیصد اور ایس پی آئی 14 فیصد رکھنے میں کامیاب رہی، اس کے علاوہ فعال مانیٹری اور مالیاتی اقدامات کی وجہ سے ماہانہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہونا شروع ہوا۔

وائٹ پیپر میں الزام لگایا گیا ہے کہ 16 مہینوں میں قرضوں کے بوجھ میں تقریباً 200 کھرب روپے کا اضافہ ہوا جب کہ پی ٹی آئی نے 40 مہینوں میں کوویڈ 19 کے باوجود 183 کھرب کا قرض لیا۔

مشہور خبریں۔

چینی کی قیمتوں کی ہیرا پیری میں مزید شوگر گروپس کا نام سامنے آیا ہے

?️ 26 مارچ 2021لاہور(سچ خبریں) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے ‘قیاس آرائیوں

70% برطانوی مسلمانوں نے کام کی جگہ پر اسلام مخالف رویے کا تجربہ کیا

?️ 8 جون 2022سچ خبریں:   برطانیہ میں کام کرنے والے 10 میں سے سات مسلمانوں

امریکہ ہمارے تیل کی لوٹ مار بند کرے:شام

?️ 23 اپریل 2023سچ خبریں:شام کی وزارت خارجہ نے امریکہ کی طرف سے اس ملک

لندن اور یوکرین، برطانوی انتخابات سے قبل موسم بہار کی جنگ کے لیے تیار

?️ 30 اپریل 2024سچ خبریں: سیاستدانوں اور برطانوی معاشرے کے ایک حصے کا خیال ہے کہ

مادورو: تمام لوگوں کو صبح سویرے سے ہی ملک کے دفاع کے لیے متحرک ہونا چاہیے

?️ 12 نومبر 2025سچ خبریں: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے "وطن کے دفاع کے

لکی مروت میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 2 خوارج ہلاک 2 زخمی

?️ 9 جولائی 2025لکی مروت: (سچ خبریں) صوبہ خیبرپختونخواہ کے علاقہ لکی مروت میں سکیورٹی

ٹرمپ کا امریکی محکمہ انصاف سے 230 ملین ڈالر ہرجانے کا مطالبہ

?️ 22 اکتوبر 2025ٹرمپ کا امریکی محکمہ انصاف سے 230 ملین ڈالر ہرجانے کا مطالبہ

فیصلہ کن گھڑی میں پوری قوم حق کے ساتھ ہے:سینیٹر فیصل جاوید خان

?️ 25 مارچ 2022اسلام آباد(سچ خبریں)تحریکِ انصاف کے رہنما و سینیٹر فیصل جاوید خان نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے