لبنان کی جنگ میں اسرائیلی فوج مشکلات کا شکار، داخلی اختلافات اور جانی نقصان میں اضافہ

لبنان کی جنگ میں اسرائیلی فوج مشکلات کا شکار، داخلی اختلافات اور جانی نقصان میں اضافہ

?️

سچ خبریں:جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کو شدید جانی نقصان کا سامنا ہے اور اندرونی اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں، جس سے جنگی حکمت عملی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق لبنان کے خلاف جنگ نے اسرائیلی قیادت کو تقسیم کر دیا ہے، حزب اللہ کے خلاف شمالی سرحدوں پر ہونے والی جھڑپوں میں بڑی تعداد میں اسرائیلی فوجی اور افسران ہلاک ہو چکے ہیں، جس سے صیہونی حکام میں اتحاد کی کمی نمایاں ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانوی فوجی کی حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے خوفناک تجربے کی داستان

اکتوبر کا مہینہ اسرائیل کے لیے انتہائی خونریز ثابت ہوا، جس میں 88 فوجی اور شہری ہلاک ہوئے، صیہونی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، 37 فوجی جنوبی لبنان میں ہلاک ہوئے۔

داخلی اختلافات اور حکومتی اقدامات پر تنقید

سابق صیہونی آرمی چیف شائول موفاز نے اسرائیلی کابینہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کی حکومت کا مقصد سیاسی حل کے بجائے جنگی کارروائیوں کو طول دینا ہے۔

موفاز نے شہریوں کے انخلا کے حکومتی فیصلے کو بھی غلط قرار دیا اور کہا کہ اس سے فوجی قوت پر غیر ضروری بوجھ پڑا ہے۔

معاشی اور عسکری اثرات

عسکری تجزیہ کار یوآف لیمور نے لبنان میں بڑھتے جانی نقصانات کے پیش نظر صیہونی کابینہ کو مشورہ دیا کہ وہ عسکری کامیابیوں کو سیاسی معاہدے کے لیے استعمال کرے۔

لیمور نے خبردار کیا کہ جنگ کے جاری رہنے سے اسرائیل کی عالمی ساکھ اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور سردیوں میں اس جنگ کی شدت بڑھ سکتی ہے۔

لبنان میں جنگ کا اختتام فی الحال ممکن نہیں

عرب امور کے تجزیہ کار جاکی خوجی کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے اپنی عسکری طاقت بحال کر لی ہے اور اسرائیل کے لیے حزب اللہ پر اپنی شرائط منوانا ایک مشکل چیلنج بن چکا ہے۔

خوجی کے مطابق حزب اللہ اس جنگ کے فوری اختتام کا ارادہ نہیں رکھتا اور تیار ہے کہ اسرائیلی فوج کی لبنان میں مزید گہرائی میں آمد کا مقابلہ کرے۔

سیاسی حل کی ضرورت

خوجی نے کہا کہ اسرائیل کے بڑھتے جانی نقصانات کو دیکھتے ہوئے بہتر ہوگا کہ حکومت موجودہ فائدے کو سیاسی معاہدے کے لیے استعمال کرے۔

مزید پڑھیں: جنوبی لبنان میں زمینی حملے کے آغاز سے اسرائیلی فوج کو ہونے والا نقصان

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ موقع ضائع ہوا تو حزب اللہ اپنی طاقت مکمل طور پر بحال کر کے جنگ جاری رکھنے کے لیے مزید عزم کے ساتھ میدان میں اترے گا۔

مشہور خبریں۔

اسٹیبلشمنٹ کب پیچھے ہٹے گی؟؛ رانا ثناء اللہ اور اسد قیصر کی زبانی

?️ 2 جولائی 2024وزیر اعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا

ٹرانس جینڈر ایکٹ خود منظور کیا تو عدالت کیا لینے آئے ہیں؟ عدالت کا جے یو آئی وکیل سے سوال

?️ 3 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی شرعی عدالت نے جمعیت علمائے اسلام (پاکستان)

 غزہ سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے:صہیونی وزیر جنگ

?️ 26 دسمبر 2025 غزہ سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے اسرائیلی وزیرِ جنگ یسرائیل کاتس

پاکستان اور ایران کا باہمی تجارتی حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ

?️ 17 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان اور ایران کے درمیان بائیسویں مشترکہ اقتصادی

مسجد اقصیٰ کے خلاف صیہونی اقدامات مسلمانوں کے مقدسات پر حملہ ہے:حزب اللہ

?️ 22 اپریل 2022سچ خبریں:لبنان کی حزب اللہ کی مرکزی کونسل کے رکن نے ایک

کیا مغربی ممالک روس کو شکست دے سکتے ہیں؟

?️ 18 نومبر 2023سچ خبریں: وال اسٹریٹ جرنل نے کارنیگی فار انٹرنیشنل پیس تھنک ٹینک

عمان کا اسلامی اور عرب ممالک سےغزہ کے لیے فوری اقدام کا مطالبہ

?️ 21 جولائی 2025سچ خبریں:شیخ احمد الخلیلی، مفتی اعظم سلطنت عمان، نے اعلان کیا ہے

فلسطینی بچوں کے قتل عام پر شمالی کوریا کا رد عمل

?️ 8 جون 2021سچ خبریں:شمالی کوریا کی وزارت خارجہ نے گذشتہ 12 روز کے دوران

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے