عراق پر حملہ 20 سال بعد بھی امریکہ اور برطانیہ کے گلے میں ہڈی

عراق

?️

سچ خبریں:امریکہ اور انگلینڈ کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کی افواج کے عراق پر جرائم، جارحیت اور قبضے کی 20 ویں برسی کے موقع پر کئی مغربی ذرائع ابلاغ نے اس حملے کے تباہ کن نتائج کے بارے میں بتایا ہے کہ یہ جنگ کس طرح واشنگٹن اور لندن کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی ہے۔

امریکی افواج کی عراق پر جارحیت اور قبضے کے جرم کی 20ویں برسی کے موقع پر برطانوی اخبار گارجین اور امریکن انٹرسیپٹ ویب سائٹ نے اپنی رپورٹوں میں کہا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے اور اس کو انجام دینے والے جنگی مجرموں کو نہ صرف یہ کہ جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا بلکہ انہیں متعدد حکومتی عہدوں پر بھی فائز کیا گیا۔

اس سلسلے میں برطانوی اخبار گارجین نے لکھا ہے کہ عراق جنگ کو 20 سال گزر جانے کے باوجود اس جنگ میں ہونے والی خلاف ورزیاں اور انٹیلی جنس کی ناکامیاں اب تک انگلینڈ کا پیچھا کر رہی ہیں،عراق پر امریکی حملے کے 20 سال مکمل ہونے کے موقع پر ایک رپورٹ میں اس اخبار نے لکھا ہے کہ یہ جنگ بہت سے تنازعات کے ساتھ شروع ہوئی جس نے کئی دہائیوں سے برطانوی مسلح افواج اور انٹیلی جنس آلات کی ساکھ کو داغدار کیا ہوا ہے۔

عراق میں برطانوی فوج میں خدمات انجام دینے والے اور اب لیبر پارٹی کے نمائندے ڈان جارویس کا کہنا ہے کہ عراق کے خلاف جنگ نے رائے عامہ کے اعتماد کو جو نقصان پہنچایا جو وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہونے کے بجائے مزید واضح ہوتا جا رہا ہے، اس کے علاوہ امریکی ویب سائٹ انٹرسیپٹ نے ایک طویل رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ عراق پر حملے کے 20 سال بعد، جسے عراق کی آزادی کا نام دیا گیا، اس تباہ کن جنگ کا آغاز کرنے والے مردوں اور عورتوں نے گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران کوئی قیمت ادا نہیں کی بلکہ اس کے برعکس ان کے گھر پیسے سے بھر گئے اور وہ بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوئے۔

اس رپورٹ میں امریکی حکام اور رہنماؤں کے ناموں کی فہرست ہے جس میں سب سے پہلا نام جارج بش کا ہے جو اس حملے کے پیچھے ہیں، اور کہا گیا ہے کہ اس جنگ کے اسباب میں بش نے بڑی رقم ہڑپ لی کیونکہ وہ ایک گھنٹے کام کے بدلہ میں 100000 ڈالر وصول کرتے تھے۔

انٹرسیپٹ کے مطابق جارج بش نے حال ہی میں عراق پر ایک شخص کے وحشیانہ اور مکمل طور پر بلا اشتعال حملہ کرنے کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور مزید کہا ہے کہ اس حملے میں دس لاکھ سے زیادہ عراقی مارے گئے۔ عراقی میڈیا کے مطابق گارجین اخبار اور انٹرسیپٹ ویب سائٹ کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹس میں جن دیگر جنگی مجرموں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں ڈک چینی،ڈونلڈ رمزفیلڈ،کولن پاول اور کونڈلیسا رائس بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ عراق جنگ، جسے عراق پر حملہ بھی کہا جاتا ہے، ایک فوجی آپریشن تھا جو 20 مارچ 2003 کو امریکہ اور انگلینڈ کی قیادت میں ایک بین الاقوامی اتحاد کی جانب سے کیا گیا ، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو تباہ کرنا اس جنگ کے آغاز کا ایک اہم جواز تھا۔

تاہم امریکی اور برطانوی خفیہ ایجنسیوں کے دعوؤں کے باوجود ان دونوں ممالک کی افواج کے قبضے کے بعد عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہیں ملے ،تاہم اس جنگ کی وجہ سے دس لاکھ سے زائد عراقی مارے گئے۔

مشہور خبریں۔

انتخابات کے دوسرے دور میں ایرانیوں کی شرکت میں اضافہ

?️ 6 جولائی 2024سچ خبریں: ایرانی صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ووٹوں کی گنتی کے

صیہونی عوام کی اکثریت جنگ کے نتائج سے مایوس

?️ 3 اپریل 2026سچ خبریں:ایک تازہ سروے کے مطابق 63 فیصد صیہونی عوام کا ماننا

عمان کے سلطان کا دورہ ایران کامیاب رہا :عمان ڈیلی

?️ 30 مئی 2023سچ خبریں:عمان کے سلطان طارق بن ہیثم اسلامی جمہوریہ ایران کے اپنے

مفتاح اسمٰیل پارٹی عہدوں سے مستعفی، انتخابی سیاست سے کنارہ کشی کا ارادہ

?️ 25 جون 2023سچی خبریں:(سچ خبریں) سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے پاکستان مسلم

قاتلوں کے ہم نوا غزہ کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتے: برطانوی اخبار

?️ 15 اکتوبر 2025سچ خبریں:برطانوی اخبار نے اجلاس شرم الشیخ کو منافقانہ اور شرمناک قرار

امریکی سپریم کورٹ نے TikTok  پرلگایی پابندی 

?️ 18 جنوری 2025سچ خبریں: امریکی سپریم کورٹ نے آج ملک میں TikTok ایپ پر

اسرائیل ایران جنگ میں واضح شکست خوردہ فریق بن چکا ہے: روسی سینیٹر

?️ 2 جولائی 2026سچ خبریں:روسی فیڈریشن کونسل کے نائب سربراہ کے مطابق اسرائیل ایران کے

جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے کی ضمانت منظور

?️ 3 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں) جہانگیر ترین اور ان کے صاحبزادے علی ترین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے