کیا ریاض صیہونیوں کے ساتھ سمجھوتے کی ٹرین میں شامل ہو گا؟

صیہونی

?️

سچ خبریں:خلیج فارس کے دو عرب ممالک متحدہ عرب امارات اور بحرین کے واشنگٹن میںسابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں صیہونی حکومت کے ساتھ 25 ستمبر 2019 کو طے پانے والے سمجھوتے کے بعد نظریں ریاض کی طرف اٹھیں کہ کیا سعودی عرب صیہونی سازش میں شامل ہوگا یا نہیں؟

متحدہ عرب امارات اور بحرین کے صیہونی حکومت کے ساتھ مفاہمتی معاہدے کے آغاز کے ساتھ ہی امریکی-مغربی صیہونی اور کبھی عرب میڈیا کی جانب سے شدید پروپیگنڈہ (سیاسی پروپیگنڈا) شروع کیا گیا کہ سعودی عرب سمیت کئی عرب ممالک اس معاہدے میں شامل ہوں گے، لیکن اس واقعہ کے ڈھائی سال بعد صرف دو افریقی ممالک مراکش اور سوڈان اس ٹرین میں سوار ہوئے اس کے علاوہ کوئی دوسرا ملک اس ٹرین میں سوار نہیں ہوا۔

حالیہ برسوں میں تل ابیب کے رہنماؤں نے سعودی عرب کے رہنماؤں کے ساتھ کی بھی طرح سے سیاسی معاہدے تک پہنچنے کی بہت کوشش کی ہے، تاہم اب تک ایسا ہوا نہیں حالانکہ صہیونی چند ماہ قبل صیہونی جنوب مشرقی ایشیا جانے جانے والے اپنے مسافربردار اور تجارتی جہازوں کے سعودی فضائی حدود سے گزرنے کے لیے ریاض کی اجازت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔

یاد رہے کہ گزشتہ ڈھائی سالوں کے دوران ریاض حکام نے ریاض اور تل ابیب کے درمیان تعلقات قائم ہونے کے امکان کے بارے میں خاموشی اختیار کرنے کی کوشش کی ہے یا یہ اعلان کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کاروائی کے لیے ابھی بہت جلدی ہے اور حالات سازگار نہیں ہیں۔

اس دوران سعودی انٹیلی جنس آرگنائزیشن کے سابق سربراہ ترکی الفیصل کا تل ابیب کے ساتھ ریاض کے تعلقات بحال کرنے کے لیے اس ملک کی شرائط کے حوالے سے تبصرہ اہم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ریاض اپنی شرائط پر اصرار کرتا ہے تو تعلقات کی بحالی ہر گز ممکن نہیں ہوگی یا یہ شرطیں بدل جائیں۔

الفیصل نے اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے سعودی عرب کی شرائط کے حوالے سے کہا کہ ان شرطوں میں فلسطینی ریاست کی تشکیل جس کا دارالحکومت یروشلم ہو اور فلسطینی پناہ گزینوں کی ان کے وطن واپسی شامل ہیں۔

انہوں نے ان شرائط کے بغیر تعلقات کو معمول پر لانے کے امکان کے بارے میں یہ بھی کہا کہ افسران ایسی باتیں کہتے ہیں، میں نہیں،جب وہ کہتے ہیں تو میں بھی تصدیق کرتا ہوں۔ میڈیا میں جو کچھ کہا جاتا ہے وہ صرف ان کی خبر ہے اور میں اس خبر پر توجہ نہیں دیتا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بارے میں باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ ریاض نے صیہونی حکومت کے ساتھ امن معاہدے کے بدلے میں سکیورٹی کی ضمانتیں اور جوہری پروگرام کو فروغ دینے کی اجازت مانگی ہے۔

اس تناظر میں ایک اور اہم نکتہ تین امیر عرب ممالک متحدہ عرب امارات، قطر اور سعودی عرب کے درمیان تیل کی بڑی آمدنی کے سہارے عرب دنیا کی قیادت سنبھالنے کا مقابلہ ہے،متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب صیہونی حکومت کے سائے میں اپنے خوابوں کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اگرچہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی دو حکومتیں یمن پر حملہ کرنے اور اس ملک کے مظلوم عوام کو قتل کرنے میں ایک ہی آواز کی حامل ہیں، لیکن ان دونوں ممالک کے درمیان متعدد علاقائی معاملات جیسے سرحدی ،جغرافیائی اور سیاسی معاملات میں اختلافات ہیں۔

گزشتہ دنوں ایک اہم مسئلہ جو سامنے آیا ہے وہ رواں ماہ 19 مارچ کو چین کی ثالثی سے تہران اور ریاض کے درمیان تعلقات کے قیام کی خبروں کا معاملہ ہے، ایک ایسا مسئلہ جو ریاض کی نظر بدل سکتا ہے حتیٰ کہ متحدہ عرب امارات تہران کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کر کے باہمی اعتماد قائم کرے اور یہ دونوں ممالک صیہونی حکومت یا امریکہ پر بھروسہ کرنے کے بجائے ایران جیسے مضبوط اسلامی ملک پر بھروسہ کر سکتے ہیں اور خطے کی سلامتی میں تعاون کر سکتے ہیں، ایک ایسا مسئلہ جو شام، لبنان، یمن، فلسطین اور عراق جیسے ممالک کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں درپیش متعدد مسائل کو حل کر سکتا ہے جبکہ یقیناً اس دوران تہران اور قاہرہ کے درمیان تعلقات کا قیام بھی اس راہ کو ہموار کرے گا۔

مشہور خبریں۔

ریاض ایئرپورٹ پر پروازیں ایک بار پھر معطل

?️ 8 اکتوبر 2026سچ خبریں:فلائٹ ریڈار کے مطابق سعودی عرب کے ریاض ایئرپورٹ پر آمد

فرانس کس حد تک یوکرین کی مدد کرتا ہے؛فرانسیسی صدر کی زبانی

?️ 8 مارچ 2024سچ خبریں: فرانسیسی صدر نے اندرونی تنقید اور روسی ریڈ لائنز کے

فلسطینی مجاہدین کا شکریہ کہ انھوں نے عربوں کا وقار لوٹا دیا

?️ 22 مئی 2021سچ خبریں:انٹر ریجنل رائے الیوم اخبار کے چیف ایڈیٹر اور عرب دنیا

لبنان میں نیا سکیورٹی زون صیہونی فوج کے لیے مہلک جال بن سکتا ہے؛ صیہونی اخبار کا اعتراف

?️ 22 مئی 2026سچ خبریں:صیہونی اخبار معاریو نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں نئی

پاک فوج مختلف علاقوں میں سیلاب میں پھنسے افراد کی زندگیاں بچانے میں مصروف

?️ 17 جولائی 2025راولپنڈی (سچ خبریں) پاک فوج نے کامیاب ہیلی ریسکیو مشن مکمل کرکے

کیا امریکی فوج عراق سے جا رہی ہے؟

?️ 25 جنوری 2024سچ خبریں: روئٹرز خبر رساں ادارے نے اپنے ذرائع کا حوالہ دیتے

آبنائے ہرمز میں پائیدار بحری سلامتی تہران کے فریم ورک کے بغیر ممکن نہیں

?️ 28 ستمبر 2026سچ خبریں: ایران کے ایک سیکیورٹی عہدیدار نے روسیا الیوم سے گفتگو

پاکستان نے آئی ایم ایف کو جون تک کوئی منی بجٹ نہ لانے پر منا لیا

?️ 14 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے آئی ایم ایف کو جو ن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے