صیہونی عہدیداروں کے درمیان لفظی جنگ، وجہ؟

صیہونی

?️

سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں جنگ کے طول پکڑنے اور اس علاقے میں تل ابیب کے اہداف کی تکمیل نہ ہونے سے صیہونی حکام کے درمیان زبانی تنازعات میں شدت آگئی ہے۔

الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی پر صیہونی حکومت کی جارحیت کے آغاز کے 200 سے زائد دن گزر جانے کے بعد بھی اس حکومت کی فوج قیدیوں کی واپسی یا تحریک حماس کے خاتمے جسیے پہلے سے اعلان کردہ اہداف میں سے کسی ایک کو بھی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے،یہ مسئلہ صہیونی حکام کے درمیان زبانی تنازعات اور اختلافات میں اضافے کا سبب بنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو کے ترجمان کو کس بات پر برطرف کیا گیا؟

اس سلسلے میں صیہونی آبادکاری کے وزیر نے اس حکومت کے آرمی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی کابینہ 22 یا 33 قیدیوں کی واپسی کے لیے سب کچھ قربان کر رہی ہے جو زندہ رہنے کے لائق نہیں ہیں۔

صیہونی وزیر برائے آبادکاری کے یہ الفاظ اس حکومت میں حزب اختلاف کی تحریک کے رہنما یائر لاپڈ کے ردعمل کا باعث بنے۔

لاپڈ نے اس صہیونی وزیر کے جواب میں تاکید کی کہ اسرائیلی کابینہ 22 یا 33 انتہا پسند ارکان پر مشتمل ہے جنہیں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

ادھر مقبوضہ علاقوں میں حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں اور صیہونی آباد کاروں نے گزشتہ رات بھی صیہونی وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے خلاف اپنے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا۔

الجزیرہ کے رپورٹر کا کہنا ہے کہ سینکڑوں صیہونی آباد کاروں نے تل ابیب میں اسرائیلی وزارت جنگ کی عمارت کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور غزہ کی پٹی میں صیہونی حکومت اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر دستخط کرنے کا مطالبہ کیا۔

نیز صیہونی ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا کہ احتجاج کرنے والے آباد کاروں نے تل ابیب کی بیگن سڑک کو بند کر دیا ہے تاکہ صیہونی قیدیوں کو غزہ کی پٹی سے واپس لانے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی مظاہرین کا نیتن یاہو سے مطالبہ

غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمت کے پاس موجود صیہونی قیدیوں کے اہل خانہ نے صیہونی وزیر اعظم سے فوری ملاقات کا مطالبہ کیا تاکہ اس حکومت اور غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے نئے طریقہ کار کے بارے میں جان سکیں۔

مشہور خبریں۔

سویلین کا ملٹری ٹرائل: میری تجویز مان لی جائے تو قانون نہیں ٹرائل کالعدم ہوگا، وکیل فیصل صدیق

?️ 3 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں فوجی عدالتوں

امریکا میں روزگار کا بحران شدت اختیار کر گیا،ریپبلکنز کے معاشی وعدے ناکام

?️ 20 اکتوبر 2025امریکا میں روزگار کا بحران شدت اختیار کر گیا،ریپبلکنز کے معاشی وعدے

ڈی جی عالمی ایٹمی ایجنسی کے دورے میں جوہری پروگرام روکنا ایجنڈا پر ہے نہ اس پر بات ہوئی، دفتر خارجہ

?️ 16 فروری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زاہرہ بلوچ نے کہا

کورونا بندشیں برقرار رہیں گی: وزیر اعلیٰ سندھ

?️ 20 مئی 2021کراچی(سچ خبریں)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدات کورونا وائرس

کسی بھی مہم جوئی کا جواب دینےکیلئے تیارہیں: آرمی چیف

?️ 11 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا

پاکستان کی اسرائیل کی جانب سے غزہ امن معاہدے کی خلاف ورزی کی شدید مذمت

?️ 22 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے غزہ امن

مخالفین کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں، بہتر ہے صلح صفائی ہو۔ بیرسٹر گوہر

?️ 21 جنوری 2026راولپنڈی (سچ خبریں) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ

مغربی ممالک کی دھوکہ بازیوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے:آیت اللہ خامنہ ای

?️ 20 جولائی 2022سچ خبریں:ایران نے روحانی پیشوا اور اسلامی انقلاب کے رہبر آیت اللہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے