تیل بردار جہازوں کی ضبطی میں لندن کی شراکت شرمناک ہے

برطانیہ

?️

تیل بردار جہازوں کی ضبطی میں لندن کی شراکت شرمناک ہے

برطانیہ میں جنگ مخالف سب سے بڑی تحریک سمجھے جانے والے اتحاد ’اسٹاپ دی وار جس کے اراکین کی تعداد تقریباً دس لاکھ ہے، نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے امریکی کارروائیوں میں تیل بردار جہازوں کی ضبطی کے سلسلے میں برطانوی حکومت کی حمایت کی شدید مذمت کی ہے اور اسے شرمناک اور انتہائی غیر ذمے دارانہ اقدام قرار دیا ہے۔

جمعرات کو ایرنا کے مطابق، اس اتحاد کے بیان میں کہا گیاہمیں یہ جان کر سخت صدمہ پہنچا ہے کہ برطانیہ کے ایک فوجی اڈے اور مسلح افواج کو امریکی افواج کی جانب سے برطانوی ساحل کے قریب روسی پرچم بردار ایک تیل بردار جہاز کی ’غیر قانونی‘ ضبطی میں استعمال کیا گیا۔ حکومت نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ رائل ایئر فورس (RAF) نے فضائی نگرانی کی معاونت فراہم کی۔

بیان میں امریکہ کے اس اقدام کو ’سمندری قزاقی‘ قرار دیا گیا ہے، جو وینزویلا پر امریکی فوجی حملے اور اس ملک کے صدر کے اغوا کے بعد سامنے آیا۔ اس دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن اب وینزویلا کا کنٹرول سنبھال چکا ہے اور وہاں سے اربوں ڈالر مالیت کا تیل حاصل کر رہا ہے۔

اسٹاپ دی وار‘ اتحاد نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی پانیوں میں روسی تیل بردار جہاز کی فوجی ضبطی ممکنہ طور پر ایک جنگی اقدام کے مترادف ہو سکتی ہے، اور کہا:

اس معاملے میں برطانیہ کی شراکت داری سراسر شرمناک اور ہر قسم کی غیر ذمے داری سے بھی آگے ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ بات “تقریباً ناقابلِ یقین” ہے کہ برطانوی وزیر دفاع نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نام نہاد ’شیڈو فلیٹ‘ کی سرگرمیوں کے خلاف اپنے اقدامات میں مزید شدت لائے گی۔

اتحاد نے آخر میں زور دیا دنیا کے لیے یہ بات واضح ہے کہ امریکہ کے اقدامات ہمیں ایک بڑے تصادم اور ممکنہ تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ برطانوی حکومت فوری طور پر صدر ٹرمپ کی غیر قانونی، اشتعال انگیز اور بڑھتی ہوئی انتہا پسندانہ کارروائیوں میں اپنی ہر قسم کی شمولیت ختم کرے اور ان کی غنڈہ گردی کی کھلے عام مذمت کرے۔

واضح رہے کہ امریکی یورپی کمان نے ایک روز قبل بین الاقوامی پانیوں میں دو تیل بردار جہازوں کی ضبطی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے چند گھنٹوں بعد برطانیہ کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں اس کارروائی میں لندن کی فوجی معاونت کی تصدیق کی اور بتایا کہ برطانوی بحریہ کا سپورٹ جہاز RFA Tideforce امریکی افواج کے ساتھ ایک تیل بردار جہاز کی تعاقب اور روک تھام میں شریک رہا، جبکہ رائل ایئر فورس نے فضائی نگرانی فراہم کی۔

مشہور خبریں۔

پاکستان میں بھی انسٹاگرام ریلز ڈاؤن لوڈ کرنے کا فیچر متعارف

?️ 23 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) کیا آپ بھی انسٹاگرام پر پسندیدہ ریلز کو

آئرن گنبد غزہ کی حالیہ جنگ میں ناکارہ ثابت ہوا: صیہونی فضائیہ کا کمانڈر کا اعتراف

?️ 29 ستمبر 2021سچ خبریں:صیہونی فوج کے فضائی دفاع کے کمانڈر نے ایک انٹرویو میں

اردگان ایک نئے سیکورٹی میکنزم کی تلاش میں

?️ 1 نومبر 2023سچ خبریں:ترک صدر رجب طیب اردگان نے آنکارا میں صدارتی کمپلیکس میں

لاس اینجلس میں 50 ہزار سے زائد مزدوروں کی ہڑتال، عوامی خدمات مفلوج

?️ 29 اپریل 2025 سچ خبریں:لاس اینجلس میں 50 ہزار سے زائد عوامی شعبے کے

شام کے بارے میں سعودی عرب کا کیا موقف ہے؟

?️ 19 ستمبر 2023سچ خبریں: سعودی حکومت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی

یمنیوں کو شکست دینا کیوں مشکل ہے؟ عبرانی میڈیا

?️ 5 مئی 2025سچ خبریں: یدعیوت احارونوت کی رپورٹ کے مطابق آج بین گوریون ایئرپورٹ کو

جوہری پروگرام سے متعلق میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جارہا ہے، وزیر خزانہ

?️ 21 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان

صیہونی حکومت کے جرائم میں امریکہ برابر کا شریک

?️ 10 اگست 2024سچ خبریں: اسلامی مزاحمتی تحریک نے اعلان کیا ہے کہ الدرج کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے