اسرائیلی فوج خان یونس سے کیوں پیچھے ہٹ گئی؟

فوج

?️

سچ خبریں: حماس کے نمائندے نے 50 دن سے زائد عرصے کے بعد خان یونس سے صیہونی فوج کے انخلاء کے موقع پر اسے صیہونیوں کی فوجی اور تزویراتی ناکامی کا مظہر قرار دیا۔

الجزائر میں فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک کے نمائندے یوسف حمدان نے خان یونس سے صہیونی فوج کے انخلاء کے جہتوں پر گفتگو کی۔

الزنہ کے علاقے پر گھات لگا حملے کرنے کے بعد قابضین خان یونس سے اچانک نکل گئے اس لیے کہ مزاحمت نے قابض افواج کو بھاری نقصان پہنچایا اور انہیں واپس لوٹنے پر مجبور کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کیا صہیونی واقعی پسپائی اختیار کر رہے ہیں؟

قابضین کا خیال تھا کہ خان یونس میں رہ کر وہ حماس کی تحریک پر دباؤ ڈالیں گے کیا خان یونس سمیت غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں میں مزاحمت کے کارناموں نے حماس کی تحریک اور اس کے عسکری ونگ کی ان علاقوں میں بازیابی کی طاقت کو اجاگر کیا جہاں قابضین کا خیال تھا کہ انہوں نے اس تحریک کا کام جلد ہی تمام کر دیا ہے۔

اس مسئلے نے یہ بھی ظاہر کیا کہ تحریک حماس اور اس کی مجاہدین قابضین کے خلاف انوکھا آپریشن کر سکتے ہیں اور غزہ میں قیام کے منظر نامے کو ایک ڈراؤنے خواب میں بدل سکتے ہیں جو ان کی سیاسی اور عسکری سطح کی آنکھوں سے نیندیں چرا دے گا۔

قابضین کا خیال ہے کہ مذاکرات کے نئے دور سے کچھ دیر پہلے ان کا انخلاء کسی ایسے معاہدے تک پہنچنے کے ممکنہ نتائج کی اہمیت کو کم کر دے گا جو انہیں غزہ سے انخلاء پر مجبور کر دے گا۔

یاد رہے کہ اگر فلسطینی قوم کا استحکام اور مزاحمت کی ضربیں نہ ہوتیں تو قابض اپنی بریگیڈ اور فوجیں وہاں سے نہ نکالتے۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ سے صیہونیوں کو کیا ملا ہے؟فوجی تجزیہ کار کی زبانی

واضح رہے کہ حماس اور صیہونیوں کے درمیان سیاسی جنگ بھی اسی طرح اور اسی طاقت کے ساتھ چل رہی ہے جس طرح میدان جنگ میں ہے،قابضین کے پاس معاہدے پر رضامندی کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے، بصورت دیگر فلسطینی جانتے ہیں کہ کس طرح قابضین اور ان کے شراکت داروں کو ایک باعزت معاہدے پر راضی ہونے پر مجبور کرنا ہے۔ ایک ایسا معاہدہ جو جارحیت کے خاتمے، قابضین کے انخلا، غزہ تک امداد کی آمد اور قابضین کی جیلوں سے فلسطینی اسیروں کی رہائی کا باعث بنے گا۔

حماس طاقت کی زبان میں بات کرتی ہے، اس کے ہاتھ ٹریگر پر ہیں اور مجاہدین میدان میں موجود ہیں۔

مشہور خبریں۔

امریکی میڈیا نے محمد بن سلمان کے سب سے واضح جرائم کی رپورٹنگ کی

?️ 21 دسمبر 2021سچ خبریں:   نیویارک ٹائمز نے سعودی ولی عہد  محمد بن سلمان پر

صیہونیوں کے تعلقات بحال کروانے کا امریکی مقصد؛امریکی عہدیدار کی زبانی

?️ 4 اکتوبر 2023سچ خبریں: امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان نے کہا کہ صیہونی

ملک بھر میں نومبر کے دوران عسکریت پسندوں کے حملوں میں 34 فیصد اضافہ ریکارڈ

?️ 3 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں 2

سردار ایاز صادق کو وزیر قانون و انصاف کا اضافی قلمدان سونپ دیا گیا

?️ 31 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے سردار ایاز صادق

امدادی کارکنوں کے خلاف صیہونی جارحیت؛برطانوی اخبار کا اعتراف  

?️ 6 اپریل 2025 سچ خبریں:برطانوی اخبار گارڈین نے غزہ پٹی میں صیہونی قبضہ کاروں

صیہونی جارحیت کے بارے میں قطر کا عالمی برادری سے مطالبہ

?️ 9 دسمبر 2023سچ خبریں: مقبوضہ بیت المقدس میں صیہونی مظاہروں کے ردعمل میں قطر

اسٹیٹ بینک سے آئی پی پیز کی اوور انوائسنگ کی تفصیلات طلب

?️ 23 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے

’موجودہ کیس دائرہ کار سے باہر ہے‘، بحریہ ٹاؤن کیس میں ملک ریاض کا سپریم کورٹ میں جواب

?️ 23 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں جمعرات کو بحریہ ٹاؤن کراچی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے