?️
سچ خبریں: سلامتی کونسل کی قرارداد 2735 کے حوالے سے اہم ترین لفظ ابہام ہے جبکہ امریکی فریق نے مزاحمت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس منصوبے اور اس کے تین مراحل کو فوراً قبول کرے لیکن تل ابیب کے لیے کوئی عہد نظر نہیں آتا۔
تین مرحلے کے جنگ بندی منصوبے کا آغاز
بائیڈن کے تین مرحلے کے جنگ بندی منصوبے کے آغاز میں سلامتی کونسل میں 2735 قرارداد کی منظوری اور جنوبی لبنان پر اسرائیل کے ممکنہ حملے کے بارے میں بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کے باعث امریکی وزیر خارجہ انتونی بلینکن کے مشرق وسطیٰ کے آٹھواں دورے پر ہیں ،ڈیموکریٹس چاہتے ہیں کہ 27 جون سے قبل اور پیرس میں شروع ہونے والے سمر اولمپکس سے پہلے غزہ میں جنگ کی آگ بجھ جائے، اس معاملے میں، واشنگٹن نے فلسطینی فریق کے بعض جائز مطالبات کو نظرانداز کر دیا ہے، جس سے اس منصوبے کی کامیابی کے امکانات کم ہو گئے ہیں اور فلسطینی مزاحمت کی جانب سے اس منصوبے کی مکمل قبولیت کا امکان ختم ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بائیڈن کے منصوبے پر حماس اور تل ابیب کا ردعمل کیا ہے؟
کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکی، حماس کے بنیادی مطالبات پر توجہ نہ دے کر، مزاحمت کو بظاہر ذمہ دار قرار دینے اور اسرائیلی حکام کو جنگ کا الزام سے بری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کلیدی نکتہ یہ ہے کہ اگر فلسطینی مزاحمت جنگ بندی کو قبول کرتی ہے جو جنگ کے خاتمے کے مطالبے کو نظرانداز کرتی ہے تو یہ اقدام شمالی محاذ پر صہیونی فوج کی آمد کا موقع فراہم کرے گا، اس تجزیے میں ہم اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کریں گے کہ حماس جنگ بندی کو کیوں نہیں قبول کر رہی ہے؟
سلامتی کونسلکی قرارداد 2735 ؛ بائیڈن کے منصوبے کا تسلسل
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، سلامتی کونسل کی قرارداد 2735 کو روس کی غیر حاضری اور 14 ووٹوں کے ساتھ اور منظور کیا گیا، یہ قرارداد، جو بائیڈن کے تین مرحلے والے منصوبے پر مبنی ہے اور غزہ میں جنگ کے خاتمے پر زور دیتی ہے، پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی، غیر فوجی قیدیوں کی رہائی اور مرنے والے قیدیوں کی لاشوں کی واپسی شامل ہے، دوسرے مرحلے میں قیدیوں کا مکمل تبادلہ اور غزہ سے اسرائیلی فوجیوں کا انخلا شامل ہے، تیسرے مرحلے میں غزہ کی دوبارہ تعمیر کے لیے طویل مدتی اور بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی شامل ہے۔
سلامتی کونسل کی جانب سے قرارداد 2735 کی منظوری
قرارداد کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ پہلے مرحلے کے نفاذ کے بعد، اگر دوسرے مرحلے کے مذاکرات چھ ہفتوں سے زیادہ چلتے ہیں تو جنگ بندی خود بخود جاری رہے گی، اس مدت کے دوران سلامتی کونسل اسرائیلی فریق کی طرف سے کسی بھی آبادیاتی تبدیلی یا غزہ کے علاقے میں کمی کے اقدامات کے خلاف ہے، ووٹنگ سے پہلے سلامتی کونسل میں امریکی نمائندے نے بتایا کہ اسرائیلی حکومت نے اس منصوبے کی ابتدائی منظوری دی ہے اور حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ فوراً اس منصوبے کو قبول کرے۔
مزید پڑھیں: بائیڈن کی تجویز پر السنوار کا ردعمل
یہ مسئلہ اس وقت اٹھایا گیا جب برٹ میک گورک اور ولیم برنز نے بائیڈن کے تین مرحلے والے منصوبے کی پیروی کے لیے علاقے کا دورہ کیا لیکن نیتن یاہو کی کابینہ کے سخت گیر ارکان نے انہیں دھمکی دی کہ اگر وہ موجودہ حالات میں غزہ میں طویل مدتی جنگ بندی پر راضی ہوئے تو وہ کابینہ چھوڑ دیں گے اور حکومت کو گرانے کا سبب بنیں گے۔
حماس کیوں امریکی منصوبے کو قبول نہیں کر رہی؟
ابہام قرارداد 2735 کی وضاحت کے لیے سب سے اہم لفظ ہے، امریکی فریق نے فلسطینی مزاحمت سے اس منصوبے اور اس کے تین مراحل کو فوراً قبول کرنے کا مطالبہ کیا ہے، لیکن مذاکرات کی شرائط یا اس قرارداد کے نفاذ کے لیے اسرائیلی فریق کے کسی بھی عہد کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔
جنگ کے خاتمے یا غزہ سے صیہونی فوجیوں کے انخلا کی کوئی ضمانت نہیں
دوسرے مرحلے کے آغاز اور قیدیوں کے مکمل تبادلے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسرائیلی فوج واقعی غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں کو روک دے گی؟ کیا صہیونی حکومت کی دائیں بازو کی کابینہ، جو غزہ میں دوبارہ بستیوں کی تعمیر اور سکیورٹی کنٹرول کی خواہاں ہے، فوجی انخلا کی اجازت دے گی؟ امریکی حکام ان مسائل پر مزاحمت کو کوئی ضمانت فراہم نہیں کر سکتے کیونکہ صہیونی حکومت کے عہدیداروں نے متعدد بار سرکاری اور غیر سرکاری چینلز کے ذریعے یہ پیغام بھیجا ہے کہ وہ حماس کے خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے اور غزہ چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
غزہ کے مستقبل کے بارے میں وضاحت کی کمی
اس منصوبے کا ایک اور ابہام غزہ کے سیاسی مستقبل اور اس کی تعمیر نو کے عمل کے بارے میں واضح جوابات کی عدم موجودگی ہے، تمام علاقائی اور بین الاقوامی کھلاڑی غزہ کے جنگ زدہ علاقے کی تعمیر نو کی ضرورت پر متفق ہیں، لیکن اختلاف اس وقت شروع ہوتا ہے جب تل ابیب غزہ کے حکومتی ڈھانچے یا تعمیر نو میں فعال ممالک کے بارے میں واضح جواب نہیں دیتا۔
خلاصہ
اگرچہ جنگ کا خاتمہ، قیدیوں کا تبادلہ، تعمیر نو کے منصوبے کی وضاحت اور انسانی امداد کی فراہمی غزہ میں جنگ بندی کے لازمی شرائط ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی مستقل جنگ بندی، اسرائیلی افواج کے انخلا اور غزہ میں فلسطینی حکمرانی کی ضمانت فراہم کرنے کے برابر نہیں ہے۔ بلنکن کے بے نتیجہ دورے کے بعد، یہ اقدامات امن کے بجائے غزہ میں جنگ کے تسلسل کا جواز فراہم کر سکتے ہیں۔ اگر واشنگٹن واقعی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنا چاہتا ہے، تو اسے پہلے اسرائیلی عہدیداروں کو جنگ جاری رکھنے اور مزاحمت کے خاتمے جیسے غیر حقیقی اہداف سے روکنا ہوگا۔


مشہور خبریں۔
سندھ میں سرکار گزشتہ 13 سالوں سے لوٹ مار کے مزے لوٹ رہی ہے
?️ 5 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا
ستمبر
بلوچستان: سی ٹی ڈی کا کامیاب آپریشن، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4 انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک
?️ 30 اگست 2023بلوچستان:(سچ خبریں) بلوچستان کے علاقے مہاجر کیمپ سرخاب پشین میں محکمہ انسداد
اگست
اسرائیل کا صومالی لینڈ میں سفارتی نمائندے کا تقرر، پاکستان سمیت 12 ممالک کی شدید مذمت
?️ 18 اپریل 2026اسلام آباد (سچ خبریں) اسرائیل کا نام نہاد صومالی لینڈ میں سفارتی
اپریل
پاکستانی یونیورسٹی کے پروفیسر: اسرائیلی جارحیت کا جواب ایران کی سٹریٹجک برتری کی نشاندہی کرتا ہے
?️ 15 جون 2025سچ خبریں: پاکستان کی فارمن کرسچن یونیورسٹی کے اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے پروفیسر
جون
صیہونیوں کے ہاتھوں قرآن پاک کی بے حرمتی
?️ 24 جون 2023سچ خبریں:مصر کے اوقاف کے وزیر نے عوریف بستی کی مسجد پر
جون
کیا اسرائیل جنگ میں اپنے مقاصد کو حاصل کر پایا ؟
?️ 27 نومبر 2024سچ خبریں: نیگیو کے وزیر یتزاک واسرلوف اور الجلیل جو کہ سیکورٹی
نومبر
شام میں بڑھتے ہوئے بحران سے ترکیہ کی مشکلات میں اضافہ
?️ 6 ستمبر 2025شام میں بڑھتے ہوئے بحران سے ترکیہ کی مشکلات میں اضافہ ترکیہ
ستمبر
پیپلز پارٹی پانی پر سیاست کرکے وفاق کی اکائیوں کو کمزور کررہی ہے
?️ 1 جون 2021لاہور(سچ خبریں) وزیر اعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات
جون