?️
سچ خبریں: غزہ کے رہائشی علاقوں پر قبضے اور جارحیت کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کا خواب دیکھنے والا اسرائیل کبھی بھی امن قائم کرنے والے عمل میں اہم کردار ادا نہیں کر سکتا۔
غزہ کی جنگ بندی کا معاہدہ اسرائیلی حکومت، خاص طور پر وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکہ ثابت ہوا ہے، جس نے ان کی ساکھ اور سیاسی حیثیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صیہونی فوج کی حماس کے خلاف ناکامی؛ صیہونی میڈیا کی رپورٹیں
غزہ سے فوجی انخلا؛ ایک ناکام منصوبہ
اسرائیلی فوج کے گیواتی بریگیڈ اور 162 آرمڈ ڈویژن جیسے یونٹس غزہ سے پسپائی اختیار کرنے والے اولین فوجی دستے بنے، یہ انخلا اس وقت ہوا جب اسرائیل شمالی غزہ میں "جنرلز پلان” کے تحت علاقے کی جغرافیائی سیاست کو تبدیل کرنے کا منصوبہ رکھتا تھا۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف حماس کو ختم نہیں کیا جا سکا بلکہ اس نے جنگ کے دوران اپنی زخمی بریگیڈز کی بحالی کا عمل بھی شروع کر دیا۔
امریکی وزیر خارجہ کے نیٹو میں خطاب کے دوران اس حقیقت کا اعتراف، اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی اور حامی کی طرف سے کھلی ناکامی کا اظہار ہے۔
جنگ بندی اور نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی
قطری ثالثوں کے مطابق، غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ ایک سال قبل بھی ممکن تھا، لیکن نیتن یاہو اور ان کی حکومت کی جنگ جاری رکھنے پر ضد نے اس عمل کو طول دیا، اس دوران سینکڑوں بے گناہ انسان نیتن یاہو کی سیاسی خواہشات اور ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھ گئے۔
دوسری جانب، حماس نے اپنی ناقابل شکست مزاحمت کے ذریعے اسرائیل کو اپنے اہم شرائط ماننے پر مجبور کر دیا۔
معاہدے کی شرائط اور اسرائیل کی پسپائی
حماس کی جنگی صلاحیت کو ختم کرنے میں ناکامی کے بعد، اسرائیلی فوج کو جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے مطابق غزہ سے انخلا کرنا پڑا۔
معاہدے کے تحت اسرائیل نے نتساریم کوریڈور خالی کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جبکہ اب بھی اسرائیل فیلادلفیا کوریڈور میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے پر اصرار کر رہا ہے۔
مصری حکام کو خدشہ ہے کہ اسرائیل غزہ میں اپنی شکست کے ازالے کے لیے کمپ ڈیوڈ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس سرحدی علاقے میں مستقل موجودگی اختیار کرنا چاہتا ہے۔
فلسطینی عوام کا موقف
فلسطینی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی صورت اسرائیل کی سرحدی موجودگی کو قبول نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو بالآخر فیلادلفیا کوریڈور سے انخلا کرنا پڑے گا، ورنہ فلسطینی مزاحمت جاری رہے گی۔
مزید پڑھیں: فلسطینی مزاحمت کو میدان جنگ میں کیوں فاتح قرار دیا گیا؟
نتیجہ
اسرائیل کی غزہ پر تسلط کے خواب کو ناکام بناتے ہوئے حماس نے اپنی مزاحمت سے ثابت کیا ہے کہ ایک مضبوط قوت ارادی اور اتحاد سے دنیا کی بڑی عسکری طاقتوں کو بھی جھکایا جا سکتا ہے، غزہ کی جنگ بندی کا معاہدہ اسرائیل کی ناکامی اور فلسطینی مزاحمت کی فتح کی داستان بن گیا ہے۔


مشہور خبریں۔
ہماری جماعت کی ترجیح جلد انتخابات ہیں:اسحاق ڈار
?️ 8 مئی 2022لندن(سچ خبریں)سابق وزیر اعظم نوازشریف کے سمدھی اورمسلم لیگ( ن) کے راہنما اسحاق ڈار نے کہا
مئی
جنگ کے بعد صیہونی معاشرے کا نفسیاتی بحران ٹائم بم بن چکا ہے؛ صہیونی جنرل کا انتباہ
?️ 24 ستمبر 2026سچ خبریں:ریٹائرڈ صیہونی جنرل اسحاق برک نے جنگوں کے نتیجے میں صیہونی
ستمبر
صیہونی حکومت کا یمن کو نشانہ بنانے کے لیے امارات اور سعودی عرب کا سہارہ لینے کی کوشش
?️ 13 جنوری 2025سچ خبریں:یمنی مسلح افواج کی جانب سے صیہونی حکومت پر مؤثر حملوں
جنوری
صہیونی وزیر کو ویزا جاری کرنے میں امریکہ کی ہچکچاہٹ
?️ 6 مارچ 2023سچ خبریں:Axios نیوز ویب سائٹ نے امریکی اور اسرائیلی ذرائع کا حوالہ
مارچ
امریکی عوام کا فلسطینی ڈاکٹر کی رہائی کے لیے مظاہرہ
?️ 7 جنوری 2025سچ خبریں:امریکی ریاست سان فرانسسکو میں سیکڑوں افراد نے فلسطینی ڈاکٹر حسام
جنوری
خاشقجی کیس میں بن سلمان کو امریکی استثنیٰ
?️ 20 نومبر 2022سچ خبریں:امریکی محکمہ انصاف نے استنبول میں ریاض کے ناقد صحافی کے
نومبر
بیجنگ نے چین کی جہاز سازی کی صنعت میں سیکشن 301 کی تحقیقات کو معطل کرنے کے امریکی اقدام کا خیرمقدم کیا
?️ 11 نومبر 2025سچ خبریں: چین کی جہاز سازی کی صنعت اور بعض دیگر متعلقہ
نومبر
صیہونی فوج کی حالت زار؛ریٹارڈ صیہونی جنرل کی زبانی
?️ 2 دسمبر 2024سچ خبریں:ریٹارڈ صیہونی جنرل اسحاق بریک نے اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے
دسمبر