کوئٹہ: پولیس موبائل کے قریب دھماکا، 2 افراد جاں بحق، 4 اہلکاروں سمیت 17 زخمی

🗓️

کوئٹہ: (سچ خبریں) کوئٹہ کے علاقے ڈبل روڈ پر پولیس موبائل کے قریب بم دھماکے کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 4 پولیس اہلکاروں سمیت 17 افراد زخمی ہوگئے۔

ڈان نیوز کے مطابق ترجمان سول ہسپتال کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کے ڈبل روڈ پر بم دھماکے کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہوگئے، زخمیوں کو سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کردیا گیا ہے۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ بم دھماکے سے پولیس موبائل، ایک گاڑی کو شدید نقصان پہنچا جبکہ ایک موٹرسائیکل میں آگ بھڑک اٹھی۔

حکومت بلوچستان نے بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے، ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، سرِ دست کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

شاہد رند نے کہا کہ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم ناکام بنائیں گے، واقعے میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو فوٹیج، جس کی ڈان نے تصدیق کی، سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھماکے کی جگہ پر لوگوں کا ہجوم جمع ہو رہا ہے، جبکہ جلی ہوئی پولیس وین کے ساتھ ایک موٹر سائیکل کا ملبہ جلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، اس کے ساتھ فریم میں تباہ سوزوکی آلٹو کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو میں ایک شخص کو موٹرسائیکل کے جلتے ملبے کو گاڑی سے ہٹاتے ہوئے بھی دیکھا گیا، جبکہ پس منظر میں سائرن کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔

ابھی تک کسی گروپ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

دریں اثنا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتوں جانوں کے ضیاع پر شدید افسوس کا اظہار کیا۔

پیپلزپارٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں اس طرح کی قابل مذمت کارروائیاں دہشت گردوں کے مذموم عزائم کی عکاسی کرتی ہیں، مزید کہا کہ صدر مملکت زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کوئٹہ کے علاقے بروری میں کرانی روڈ پر سڑک کنارے نصب بم سے پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں انسداد دہشت گردی فورس کا ایک اہلکار شہید اور 6 دیگر زخمی ہو گئے تھے جن میں سے 3 افراد کی حالت نازک تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال خراب ہوئی ہے اور علیحدگی پسند دہشت گرد اکثر پولیس اور مسلح افواج کے اہلکاروں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

خاص طور پر کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے زیادہ جانی نقصان پہنچانے اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو براہ راست نشانہ بنانے کے لیے نئے حربے اپنائے ہیں۔

گزشتہ سال وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ اگست 2021 میں افغان طالبان کے کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں خاص طور پر خیبرپختونخوا میں تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیاں، بلوچستان میں بلوچ قوم پرست بغاوت اور سندھ میں نسلی قوم پرست تشدد شامل ہے۔

مشہور خبریں۔

بھارتی آرمی چیف کے بیان کو مسترد کرتے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

🗓️ 16 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا

نیتن یاہو میں قتل و غارت کی پالیسی اپنانے کی ہمت نہیں / استقامتی محاذ پہلے سے زیادہ متحد ہے:عطوان

🗓️ 26 اپریل 2023سچ خبریں:ایک ممتاز عرب تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ آج استقامتی

کویت حیدرآباد میں کورونا وائرس کے علاج کے لئے ہسپتال قائم کرے گا:وزیر اعلی سندھ

🗓️ 6 اپریل 2021کراچی (سچ خبریں) وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہےکہ

گریٹر عراق میں ایک بڑے سیکورٹی آپریشن کا آغاز

🗓️ 19 جنوری 2022سچ خبریں:   فوج نے ایک بیان میں کہا کہ زمینی افواج کی

سپریم کورٹ کا فیصلہ،منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہو گا

🗓️ 17 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں)سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق

صیہونیوں کے خلاف 8 ماہ میں 7200 مزاحمتی کارروائیاں

🗓️ 6 ستمبر 2022سچ خبریں:فلسطینی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کے آخری

فرانس اور شیلی کے سربراہوں نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا

🗓️ 19 جون 2024سچ خبریں: فرانسیسی اور شیلی کے صدر ایمانوئل میکرون اور گیبریل بورک نے

بحرین میں صیہونی حکومت کے لئے نصابی کتابوں کو بدلنے پرانتباہ

🗓️ 28 جنوری 2023سچ خبریں: کی متعدد سیاسی انجمنوں نے آل خلیفہ کی تعلیمی پالیسیوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے