?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے ملک میں ’آزاد اور تنقیدی صحافت کے لیے تیزی سے کم ہوتی ہوئی گنجائش‘ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جس میں ڈان میڈیا گروپ کو سرکاری اشتہارات کی بندش بھی شامل ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متعدد میڈیا تنظیموں نے ڈان میڈیا گروپ کے ٹی وی اور ریڈیو کو سرکاری اشتہارات کی غیر اعلانیہ بندش کی مذمت کی ہے، یہ پابندی اس سے قبل ڈان کے مرکزی اخبار کو اشتہارات سے محروم کرنے کے بعد عائد کی گئی تھی۔
ایچ آر سی پی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر منگل کو جاری بیان میں کہا، ’ایچ آر سی پی ملک میں آزاد اور تنقیدی خبر رسانی کے لیے تیزی سے کم ہوتی ہوئی گنجائش پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے، جس میں ڈان میڈیا گروپ پر 13 ماہ سے جاری سرکاری اشتہارات کی پابندی بھی شامل ہے، جسے حال ہی میں ڈان نیوز اور سٹی ایف ایم 89 تک توسیع دی گئی ہے۔‘
کمیشن نے کہا، ’یہ امر ستم ظریفی سے کم نہیں ہے، ڈان کے بانی محمد علی جناح، آزادیٔ صحافت کے علمبردار تھے۔‘
ایچ آر سی پی کے مطابق، ریاستی اشتہارات جو عوامی وسائل پر مشتمل ہوتے ہیں، کو منتخب انداز میں روکنا تیزی سے ایک ’دباؤ ڈالنے کے ہتھیار‘ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، تاکہ میڈیا اداروں پر اثر انداز ہوا جا سکے، اداراتی فیصلوں کو بدلا جائے اور تنقیدی صحافت کو سزا دی جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ ’ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ اظہارِ رائے کی آزادی اور جمہوری احتساب وہاں زندہ نہیں رہ سکتے جہاں معاشی دباؤ کے ذریعے میڈیا کو تابع کرنے کی کوشش کی جائے۔‘
ایچ آر سی پی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ایسی ’امتیازی پالیسیوں‘ کا خاتمہ کرے اور آزاد، خودمختار اور ذمہ دار صحافت کے لیے سازگار ماحول بحال کرے۔
گزشتہ ہفتے کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے کہا تھا کہ ڈان پاکستان کے معتبر ترین میڈیا اداروں میں شامل ہے اور اس کو سرکاری اشتہارات سے محروم کرنا ادارے کو مالی طور پر مفلوج کرنے کے مترادف ہے۔
آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) نے بھی ڈان میڈیا گروپ کے اداروں کو سرکاری اشتہارات کی بندش پر ’شدید مایوسی‘ کا اظہار کیا تھا۔
پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے بھی ڈان میڈیا گروپ پر اشتہارات کی پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ ’اشتہارات کو میڈیا اور اظہارِ رائے کو کنٹرول کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے‘ کی مخالفت کرتی آئی ہے۔
متعدد صحافتی تنظیموں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے اے سی) نے بھی اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سرکاری اشتہارات کو میڈیا اداروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
اس سے قبل رواں سال پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے اپنی ’اسلام آباد ڈیکلریشن‘ میں نشاندہی کی تھی کہ ڈان کو اکتوبر 2024 سے وفاقی اور پنجاب حکومت کی جانب سے اشتہارات سے محروم رکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ اس کی ’پیشہ ورانہ اور تنقیدی رپورٹنگ اور اداریے‘ بتائے گئے تھے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ حکام نے ڈان کی رپورٹنگ میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی ہو، نام نہاد ’ڈان لیکس‘ کے بعد اخبار کی ترسیل ملک کے بڑے حصوں، خصوصاً کینٹونمنٹ علاقوں میں، روک دی گئی تھی۔


مشہور خبریں۔
لاہور ہائیکورٹ نے ایف بی آر کو روک دیا
?️ 8 جون 2021لاہور (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے ایف بی آر کو جہانگیر ترین
جون
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام
?️ 26 مئی 2022کوئٹہ(سچ خبریں)بی اے پی کی جانب سے وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس
مئی
ہم نے سعودی حکام کو سلمی الشہاب کی سزا پر اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا ہے:امریکہ
?️ 23 اگست 2022سچ خبریں:امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نےسعودی عرب میں خواتین کے حقوق
اگست
کسی بھی یورپی ملک کی شہریت حاصل کرنے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟
?️ 7 اگست 2024سچ خبریں: اگر آپ کسی خوبصورت یورپی ملک کی شہریت حاصل کرنا
اگست
دریائے چناب میں اونچے درجے کا سیلاب، تریموں ہیڈورکس پر 9 لاکھ کیوسک کا ریلا پہنچنے کا امکان
?️ 1 ستمبر 2025لاہور: (سچ خبریں) بھارت کی جانب سے سلال ڈیم کے گیٹ کھولنے
ستمبر
یمنی فوج کی سعودی عرب کے اندر اہم کاروائی
?️ 12 اپریل 2021سچ خبریں:یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحیی سریع نے سعودی
اپریل
امریکہ کا افغانستان کے منجمد اثاثے جاری نہ کرنے کا اعلان
?️ 16 اگست 2022سچ خبریں:امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن افغانستان کے ضبط
اگست
سابق حکومت نے سستی شہرت کیلئے غلط فیصلے کیے:شاہد خاقان عباسی
?️ 16 اپریل 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیراعظم
اپریل