عمران خان پارٹی کے ’فرینڈلی اپوزیشن‘ کے کردار سے نالاں

?️

راولپنڈی: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات پر مشروط رضامندی ظاہر کیے جانے کے ایک دن بعد سابق وزیراعظم عمران خان نے پی ٹی آئی قیادت کو ’سب ٹھیک ہے‘ جیسا برتاؤ کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت کو پھر خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات کو نظر انداز کیا جاتا رہا تو وہ سول نافرمانی کی کال دیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو توشہ خانہ کیس میں اہلیہ اور خود پر فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے نومبر کے آخری ہفتے میں ڈی چوک میں احتجاج کے دوران کیے گئے تشدد پر عوامی اعتراف اور احتساب کے فقدان پر مایوسی کا اظہار کیا۔

پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے اس کے کارکنوں پر براہ راست فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے مین 12 افراد ہلاک ہوئے، تاہم وفاقی حکومت نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

سابق وزیراعظم نے پی ٹی آئی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں پوری قوت کے ساتھ نہیں اٹھایا جبکہ انہوں نے پارٹی رہنماؤں کے ان بیانات پر بھی ناراضی کا اظہار کیا جن میں ’سب ٹھیک ہے‘ کا تاثر دیا گیا ہے۔

اس سے ایک روز قبل پی ٹی آئی کے عبوری چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر گولیاں بھی چلائی گئی ہیں تو کم از کم جواب دہی، پچھتاوے کے اظہار، معافی مانگنے، تحقیقات کرنے اور لوگوں کو معاوضہ دینے کی ہمت ہونی چاہیے‘۔

عمران خان نے حیرت کا اظہار کیا کہ پارٹی قیادت ’فرینڈلی اپوزیشن‘ ہونے کا تاثر کیوں دے رہی ہے، انہوں نے کہا کہ میں قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار نہیں کر رہا لیکن مجھے ڈی چوک واقعے سے نمٹنے پر تشویش ہے، انہوں نے پارٹی قیادت کو ہدایت کی کہ ڈی چوک احتجاج کے دوران لاپتا ہونے والوں کے نام اپ لوڈ کیے جائیں۔

عمران خان نے صحافیوں سے گفتگو میں ایک مرتبہ پھر ڈی چوک میں کریک ڈاؤن کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے اور پی ٹی آئی کے زیر حراست کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا، انہوں نے کہا کہ اگر یہ مطالبات 15 دسمبر تک پورے نہیں کیے گئے تو سابق حکمران جماعت احتجاجی مہم کو تیز کرے گی، جس میں سول نافرمانی کی کال میں شدت لانا اور یوم سوگ منانا شامل ہے۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید کے کورٹ مارشل کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ جنرل فیض اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے ماتحت تھے اور خود کام نہیں کر رہے تھے۔

عمران خان نے سابق خاتون اول بشریٰ بی بی پر بے بنیاد الزامات لگانے پر گلوکار سلمان احمد کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور سلمان احمد کے ٹوئٹس کو احمقانہ قرار دیا۔

مشہور خبریں۔

آباکاروں کی دہشتگردی کو روکو؛سابق صیہونی عہدیداروں کا نیتن یاہو کو انتباہ

?️ 19 جون 2026سچ خبریں:اسرائیل کے سابق وزرائے اعظم اور سکیورٹی حکام نے نیتن یاہو

ابتدائی حلقہ بندیاں رواں ماہ کے اختتام تک مکمل ہونے کا امکان

?️ 19 ستمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) انتخابات کے لیے ابتدائی حلقہ بندیاں رواں ماہ

اسرائیلی قیدیوں کے اہلِ خانہ کا کابینہ وزراء کے گھروں کے باہر احتجاج،جنگ ختم کرنے کا مطالبہ

?️ 25 اگست 2025اسرائیلی قیدیوں کے اہلِ خانہ کا کابینہ وزراء کے گھروں کے باہر

سعودی عرب میں سرکاری اہلکاروں کو حراست میں لینے کی مہم جاری

?️ 17 اپریل 2022سعودی حکام  نے کل رات رشوت ستانی، غبن، بدعنوانی اور منی لانڈرنگ

لاہور میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کے معاملے پر راولپنڈی میں احتجاج، 250 طلبہ گرفتار

?️ 17 اکتوبر 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) لاہور میں نجی کالج کی طالبہ سے مبینہ زیادتی

سیزفائر معاہدہ صحیح سمت میں پہلا قدم، افغان سرزمین سے دہشتگردی کے سدباب کیلئے اقدامات ضروری ہیں۔ اسحق ڈار

?️ 20 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحق ڈار نے

بیروت کے واقعات پر امریکی ردعمل

?️ 15 اکتوبر 2021سچ خبریں:امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان نے بیروت میں ہونے والے واقعات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے