حکومت نے شوگر انڈسٹری کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ، حتمی مسودہ تیار وزیراعظم کوآئندہ ہفتے پیش کیا جائیگا

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے شوگر انڈسٹری کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ، تجاویز کا حتمی مسودہ تیار کر لیا گیا ہے جوآئندہ ہفتے وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا، اب صرف 5 لاکھ ٹن چینی کا بفر سٹاک حکومت کے پاس ہوگا جبکہ بقیہ مارکیٹ معاملات نجی شعبہ خود سنبھالے گا۔

ذرائع کے مطابق ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے پاس چینی کا صرف ایک ماہ کی کھپت کے برابر ذخیرہ رکھا جائے گا تاکہ ہنگامی حالات میں فوری رسپانس ممکن ہو۔

اس کے علاوہ حکومت چینی کی پیداوار، قیمتوں یا فروخت میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔ذرائع کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے تمام متعلقہ شراکت داروں سے تفصیلی مشاورت کی گئی ہے۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد اس پالیسی کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق نئے مجوزہ فریم ورک کے تحت حکومت صرف ایک ماہ کی چینی کی کھپت کے برابر بفر سٹاک (چینی کے ذخائر) رکھنے کی اجازت دے گی جو ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے منظم کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ چینی کی قیمتوں اور ترسیل میں کسی قسم کی سرکاری مداخلت نہیں کی جائے گی۔حکام کا کہنا ہے کہ ڈی ریگولیشن سے نہ صرف مارکیٹ میں مسابقت بڑھے گی بلکہ کسان کو گنے کے بہتر نرخ بھی مل سکیں گے۔ ذرائع کے مطابق چینی کی وافر مقدار پیدا کرکے نہ صرف ملکی ضروریات پوری کی جائیں گی بلکہ برآمد کے ذریعے ملک کو قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔

تجاویز کے مطابق اگر چینی کی قیمتیں قابو میں نہ آئیں تو حکومت سبسڈی کے حجم میں اضافہ کر سکتی ہے تاکہ صارفین کو ریلیف دیا جا سکے۔ ڈی ریگولیشن کے بعد چینی کی قیمتیں قابو سے باہر ہوئیں، تو حکومت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سبسڈی کا حجم بڑھانے پر غور کرے گی تاکہ کم آمدنی والے افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔حکام کا کہنا ہے کہ ڈی ریگولیشن سے نہ صرف مارکیٹ میں مسابقت بڑھے گی بلکہ کسان کو گنے کے بہتر نرخ بھی مل سکیں گے۔

ذرائع کے مطابق چینی کی وافر مقدار پیدا کرکے نہ صرف ملکی ضروریات پوری کی جائیں گی بلکہ برآمد کے ذریعے ملک کو قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔شوگر ملز کی موجودہ صلاحیت تقریباً 50 فیصد ہے، جسے بڑھا کر 70 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف ملکی چینی کی ضروریات پوری ہوں گی، بلکہ اضافی 2.5 ملین ٹن چینی بھی پیدا کی جا سکے گی، جس سے تقریباً 1.5 ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہونے کی توقع ہے۔

مستقبل میں، نجی شعبہ چینی کی مارکیٹ کو خود ریگولیٹ کرے گا جبکہ حکومت صرف اسٹریٹجک ریزرو (بفر سٹاک) کی حد تک اپنا کردار ادا کرے گی۔حکومت کا ہدف ہے کہ شوگر ملز کی پیداواری صلاحیت 50 فیصد سے بڑھا کر 70 فیصد تک کی جائے جس سے سالانہ 2.5 ملین ٹن اضافی چینی تیار کی جا سکے گی۔ یہ اضافی چینی برآمد کر کے تقریباً 1.5 ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کرنے کی توقع ہے۔

مشہور خبریں۔

30 ہزار طلبہ ڈگریوں کی تصدیق کے منتظر ہیں، سینیٹ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف

?️ 3 جنوری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کی زیر صدارت

دوشنبے میں وزیر اعظم اور ایرانی صدر کے درمیان اہم ملاقات ہوئی

?️ 17 ستمبر 2021دشنبے(سچ خبریں)  تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر پر

واشنگٹن اور تل ابیب کا 500 پاؤنڈ بم بھیجنے پر اتفاق

?️ 28 جون 2024سچ خبریں: رفح میں صیہونی حکومت کی زمینی کارروائیوں کے آغاز کے بعد

پاکستان کی علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کی حمایت جاری رکھیں گے۔ چین

?️ 22 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ چین

امریکہ افغانستان میں قوم سازی میں ناکام، وجہ ؟

?️ 23 ستمبر 2023سچ خبریں:افغانستان کے لیے امریکہ کے سابق خصوصی نمائندے زلمے خلیل زادنے

امریکہ اور طالبان کے درمیان کوئی اعتماد نہیں

?️ 24 اکتوبر 2021سچ خبریں:بی بی سی کے مطابق، حال ہی میں مستعفی ہونے والے

اسرائیلی کابینہ کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کی جاسوسی

?️ 13 مئی 2025سچ خبریں: ٹیلی گراف کے مطابق، ایک مطلع ذرائع کے حوالے سے خبر

لبنان میں صیہونی جارحیت؛ 200 سے زائد بچوں کی شہادت

?️ 12 نومبر 2024سچ خبریں:اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی رپورٹ کے مطابق

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے