کیا تیونسی عوام صیہونی مخالف ہیں؟

صیہونی

?️

سچ خبریں: تیونس کی تجارتی تنظیموں کے ترجمان نے صیہونی دشمن کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کی اس ملک کے عوام کی وسیع مخالفت اور اس اقدام کے خلاف ان کی مزاحمت پر تاکید کی۔

اسپوٹنک نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق تیونس کی ٹریڈ یونین کے ترجمان سامی الطاہری نے اس بات پر زور دیا کہ کافی عرصے صیہونیوں کی جانب سے تیونس میں دراندازی کی وسیع کوششیں کی جارہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: صیہونی حکومت تیونس ساتھ کیوں سمجھوتا کرنا چاہتا ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ تیونس کے سابق صدر زین العابدین بن علی نے اس ملک میں ایک دفتر اور تل ابیب میں دوسرا دفتر قائم کیا لیکن وہ اسی شکل میں رہا اور اس کے علاوہ کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔

یاد رہے کہ تیونس میں انقلاب کے بعد حکومتی اداروں کی کمزور کارکردگی کے باعث پیدا ہونے والے خلا کا اس ملک اور صیہونی حکومت کے درمیان تجارتی اور ثقافتی تعلقات قائم کرنے کے لیے کا غلط استعمال کیا گیا۔

الطاہری نے مزید کہا کہ اس وقت ہم نے کچھ تیونس کے فنکاروں کو مقبوضہ سرزمین کا سفر کرتے ہوئے اور اس علاقے میں جشن مناتے ہوئے دیکھا، نیز صہیونی تاجروں کے ساتھ ہمارے کچھ تاجروں ے تعلقات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام کوششیں بے سود ہیں کیونکہ تیونس کی قوم صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے خلاف ہے اور فلسطینی قوم کے حقوق انہیں واپس کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر تیونس کی قوم پر تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تو اس ملک کے عوام اس عمل کی مزاحمت کریں گے اور تیونس کی سول سوسائٹی اور جماعتیں ان خیالات کے خلاف برسرپیکار ہو جائیں گی۔

الطاہری نے کہا کہ اس ملک کے لوگ واضح طور پر تیونس میں پرامن رہنے والے یہودیوں اور مقبوضہ علاقوں کے صیہونیوں میں فرق کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ اتوار کے روز الجزائر کی نیشنل کنسٹرکشن پارٹی کے سربراہ عبدالقادر بن قرینہ نے خبردار کیا کہ تیونس صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: صیہونیوں کے خلاف تیونسیوں کی زبردست مہم

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ ملک الجزائر کی آنکھیں کھلی ہوں گی اور وہ اس ملک کے ووٹ خریدنے کے لیے تیونس کے کچھ لوگوں کے مذموم دوروں کو دیکھے گا۔

یاد رہے کہ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جبکہ تیونس کی پارلیمنٹ نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ حقوق و آزادی کی کمیٹی نے صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کو جرم قرار دینے کے بل کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔

مشہور خبریں۔

جمہوریہ لوہانسک کے پراسیکیوٹر جنرل کا قتل

?️ 16 ستمبر 2022سچ خبریں:   روسی خبر رساں ایجنسی TASS نے اطلاع دی ہے کہ

گوادر میں جاری دھرنے کو مظاہرین کی جانب سے ختم کرنے کا اعلان کیا

?️ 16 دسمبر 2021کوئٹہ (سچ خبریں)گوادر میں گزشتہ کئی روز سے مظاہرین دھرنا دیے ہوئے

امریکہ کے پاس ایران، روس اور چین کے خلاف فوجی تیاری کا فقدان 

?️ 19 ستمبر 2024سچ خبریں: مشہور امریکی کالم نگار اور مصنف تھامس فریڈمین نے نیویارک ٹائمز

اسٹیٹ بینک نے شرح تبادلہ کے نرخوں پر غور کیلئے بینکوں کا اجلاس کل طلب کرلیا

?️ 27 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) کرنسی اسمگلنگ کے خلاف نئے کریک ڈاؤن کے

عمران دہشتگردوں کے حامی، تاثر ہے ٹی ٹی پی تحریک انصاف کا عسکری ونگ ہے۔ عطا تارڑ

?️ 11 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا

مقبوضہ کشمیر:بڑی تعداد میں قابض فوجیوں کی تعیناتی کی وجہ سے کشمیری طلباء کی تعلیم کا بری طرح حرج ہو رہا ہے

?️ 24 جنوری 2024سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و

آل پاکستان انجمن تاجران نے اہم اعلان کر دیا

?️ 1 نومبر 2021لاہور(سچ خبریں) آل پاکستان انجمن تاجران نے ٹیکس پالیسیوں کیخلاف 30 نومبرکو

اسٹارمر کا برطانوی عوام کی معیشت پر سیاسی جوا

?️ 4 جنوری 2026 اسٹارمر کا برطانوی عوام کی معیشت پر سیاسی جوا برطانیہ کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے