?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) کرنسی اسمگلنگ کے خلاف نئے کریک ڈاؤن کے بعد روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ہوا ہے، انٹربینک مارکیٹ میں ایک روپیہ 30 پیسے اور اوپن مارکیٹ میں ایک روپیہ 50 پیسے کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بینکاروں اور کرنسی ڈیلرز نے اس بہتری کو مارکیٹ کی بنیادی وجوہات کے بجائے انتظامی اقدامات کا نتیجہ قرار دیا۔
انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 284.80 روپے سے کم ہو کر 283.50 روپے پر آ گئی، جب کہ اوپن مارکیٹ میں یہ 286.50 روپے پر پہنچ گئی، یہ کریک ڈاؤن 23 جولائی کو اس وقت شروع کیا گیا جب یہ رپورٹس سامنے آئیں کہ امریکی ڈالر افغانستان اور ایران اسمگل کیے جا رہے ہیں۔
فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان نے کہا کہ کریک ڈاؤن کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، اور آئندہ ہفتے ڈالر کی مزید قدر میں کمی کی توقع ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے پیر کو بینکوں کے نمائندوں کا اجلاس طلب کیا ہے، تاہم اجلاس کا ایجنڈا ابھی سامنے نہیں آیا، کچھ بینکاری ذرائع کا ماننا ہے کہ مرکزی بینک بینکوں کو ڈالر ریٹ مزید کم کرنے کی ہدایت دے سکتا ہے، جب کہ دیگر کو توقع ہے کہ درآمد کنندگان کو درپیش مسائل پر بات ہو گی۔
بینکاروں کا کہنا ہے کہ درآمدات کے لیے لیٹرز آف کریڈٹ (ایل سیز) اکثر اس وقت کھولے جاتے ہیں جب جہاز پاکستان پہنچ جاتے ہیں، بجائے اس کے کہ بکنگ کے وقت کھولے جائیں، اس عمل سے سود کی ادائیگی سے بچا جاتا ہے، لیکن ڈالر کی اچانک طلب میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے اسٹیٹ بینک کے لیے شرح تبادلہ میں استحکام رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ایک کرنسی ماہر نے کہا کہ یہ ایک مسئلہ ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ اجلاس میں ڈالر کا ریٹ بھی زیر بحث آئے گا۔
برآمد کنندگان پیر کے اجلاس سے قبل فارورڈ مارکیٹ میں سرگرمی سے ڈالر فروخت کر رہے ہیں، اگر ایکسچینج ریٹ 282 روپے سے اوپر رہتا ہے تو برآمد کنندگان قلیل مدتی فارورڈ بکنگ جاری رکھیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے ڈالر کا ریٹ 282 روپے کے آس پاس مستحکم ہونے کی توقع ہے، جو ڈالر لیکویڈیٹی میں عارضی ریلیف دے سکتا ہے۔
تاہم، ماہرین انتظامی اقدامات کی طویل مدتی پائیداری پر شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔
ٹریس مارک کے سی ای او فیصل مامسا نے کہا کہ کریک ڈاؤن پر انحصار پرانی حکمت عملی ہے جو اب تک نہیں بدلی، ایک زیادہ ریگولیٹڈ مارکیٹ میں ہمیشہ قیاس آرائی کی قوتیں اور بلیک مارکیٹس جنم لیتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ چوں کہ ہم نے کبھی کوئی پلان اے نہیں بنایا (جو ساختی اصلاحات پر مبنی ہوتا) اس لیے پلان بی، یعنی دباؤ اور ریٹ فکسنگ پر مبنی حکمت عملی، صرف عارضی طور پر کامیاب ہوتی ہے۔
اسٹیٹ بینک اپنے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے ڈالرز کی خریداری جاری رکھے گا، مالی سال 2025 میں اب تک مرکزی بینک مارکیٹ سے تقریباً 9 ارب ڈالر خرید چکا ہے تاکہ ذخائر کو مستحکم کیا جا سکے۔


مشہور خبریں۔
میں نے پیوٹن کو قانع کیا کہ زیلنسکی کو قتل نہ کرے : نفتالی بینیٹ
?️ 6 فروری 2023سچ خبریں:اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے ہفتے کے روز کہا کہ
فروری
ایران نے پالانٹیر ٹیکنالوجیز کو کیوں نشانہ بنایا؟ واشنگٹن پوسٹ کا جواب
?️ 5 اپریل 2026سچ خبریں:امریکی مصنوعی ذہانت کمپنی پالانٹیر ٹیکنالوجیز پر الزام ہے کہ اس
اپریل
سوڈان میں اقوام متحدہ کی انسانی امداد کی لوٹ مار
?️ 3 جون 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ سے منسلک ورلڈ فوڈ پروگرام نے ایک بیان میں
جون
روس نے شام میں اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں: پیوٹن
?️ 20 دسمبر 2024سچ خبریں:روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے آج سال کے نتائج کے
دسمبر
برطانیہ میں غیر معمولی ہڑتالیں
?️ 16 دسمبر 2022سچ خبریں:برطانیہ میں سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اکتوبر میں
دسمبر
یمنی عوام طوفان القدس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
?️ 9 اکتوبر 2023سچ خبریں: یمن کے عوام نے اس ملک کے مختلف شہروں اور
اکتوبر
این ٹی ڈی سی کا چینی فرم کو ڈیفالٹ نوٹس
?️ 18 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) نیشنل گرڈ آپریٹر نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این
مارچ
حکومت کی طرف سے ایل این جی پالیسی میں تبدیلیوں کی منظوری
?️ 20 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف کے آئندہ ہفتے دوحہ کے
اگست