?️
سچ خبریں:معروف صیہونی مؤرخ ایلان پاپے نے طوفان الاقصیٰ کے بعد صہیونیت کو بے مثال بحران سے دوچار قرار دیتے ہوئے فلسطینیوں کی مزاحمت، اسرائیل کے داخلی اختلافات اور عالمی سطح پر صہیونیت کی گرتی ساکھ کو اس کے مستقبل کے لیے بڑے چیلنجز بتایا ہے۔
7 اکتوبر 2023 کو فلسطینیوں کی جانب سے طوفان الاقصیٰ کے نام سے انجام دیے گئے تاریخی آپریشن کے اثرات اور نتائج پر تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی تناظر میں معروف صیہونی مؤرخ ایلان پاپے نے، جنہوں نے فلسطینی اور صہیونی تنازع پر متعدد گہری اور مستند تحقیقات کی ہیں اور جو اس حکومت کے محققین اور مؤرخین میں ایک نمایاں شخصیت سمجھے جاتے ہیں، اپنے تجزیہ طوفان الاقصیٰ کے بعد صہیونیت کس سمت بڑھ رہی ہے؟ میں اس آپریشن کے صہیونیوں پر مرتب ہونے والے مختلف اثرات کا جائزہ لیا ہے۔ ان کے تجزیہ کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
نظریہ دراصل مفروضات، تشریحات اور نقطۂ نظر کا ایک مجموعہ ہوتا ہے، جسے ابتدا میں چند افراد تشکیل دیتے ہیں، لیکن بعد میں ایک بہت بڑا گروہ اسے قبول کر لیتا ہے۔ جب تحریکیں، ادارے اور پھر ریاستیں ان اصولوں کو اپنا لیتی ہیں تو یہ اصول لوگوں کے لیے اپنے اردگرد کی حقیقت کو سمجھنے اور اس کی تشریح کرنے کا ایک مخصوص طریقہ بن جاتے ہیں۔ ایسا بالخصوص اس وقت ہوتا ہے جب کم عمری ہی سے تعلیمی نظام، ذرائع ابلاغ، سیاسی گفتگو اور سماجی تربیت کے دیگر ذرائع سے یہ نظریات لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کیے جائیں۔
اس اعتبار سے صہیونیت بھی ایسے ہی نظریات میں سے ایک ہے۔ اس کا آغاز چند افراد سے ہوا، لیکن بالآخر یہ ایک ریاستی نظریے میں تبدیل ہو گئی۔
حقیقت کی یہ نظریاتی تشریح اکثر زمینی حالات سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا سامنا کرتی ہے۔ ایسے چیلنجز ذہنی تضاد پیدا کرتے ہیں، جسے صرف 2 طریقوں سے دور کیا جا سکتا ہے: یا تو نظریے کی بنیادی اساس میں تبدیلی لا کر اسے حقیقت سے ہم آہنگ کیا جائے، یا پھر حقیقت کو زبردستی تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ وہ نظریے کے مطابق ہو جائے۔
یہی ذہنی تضاد ان چیلنجز کو سمجھنے کے لیے بہترین زاویۂ نظر فراہم کرتا ہے جن کا آج صہیونیت کو ایک ریاستی نظریے کی حیثیت سے سامنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ہمیں اس کے مستقبل کا اندازہ لگانے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
تاریخی فلسطین میں زمینی حقائق نے صہیونی نظریے کے بنیادی مفروضات اور مقاصد کے سامنے 3 بڑے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ نظریاتی تضاد یا تو صہیونیت کو ترک کرنے سے دور ہو سکتا ہے یا پھر حقیقت پر اس نظریے کو زبردستی مسلط کرنے کی کوشش جاری رکھنے سے مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
صہیونیت کی جڑیں اور مقاصد
آئیے، ان صہیونی مقاصد کا خلاصہ پیش کرتے ہیں جنہیں فلسطین میں عملی جامہ پہنانا مقصود تھا۔ اس منصوبے کو نام نہاد یہود دشمنی کی ایک نئی شکل کے ظہور کے تدارک کے طور پر پیش کیا گیا، جو وسطی اور مشرقی یورپ میں نئی قوم پرست تحریکوں کے ابھرنے کے بعد سامنے آئی تھی۔
چنانچہ صہیونی تحریک کا پہلا اعلان کردہ مقصد دنیا بھر، خصوصاً یورپ، کے یہودیوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ تلاش کرنا تھا۔ دوسرا مقصد یہ تھا کہ یہودیت کو ایک متحد قوم کے طور پر متعین کیا جائے۔ متعدد پہلوؤں سے یہ تصور اس نسل پرستانہ اور یہود مخالف نقطۂ نظر کو قبول کرنے کا نتیجہ تھا جس کے مطابق یہودی ایک غیر یورپی نسل یا قوم ہیں اور وہ صرف یورپ سے باہر ہی ترقی کر سکتے ہیں۔
فلسطین پر قبضے کے مراحل
صہیونیت کے بانیوں نے اپنے توراتی دعوؤں کا حوالہ دیتے ہوئے فلسطین کو اس تحریک کے لیے منتخب کیا، لیکن اس فیصلے کو متعدد چیلنجز کا سامنا تھا۔ فلسطین ایک گنجان آباد ملک تھا اور وہاں کے لوگ ایک قوم کی حیثیت سے جدیدیت اور خودمختاری کی جانب واضح پیش رفت کر رہے تھے۔ ان کے نزدیک ان کا مستقبل یورپ میں ضم ہونے میں نہیں، بلکہ عرب دنیا کا حصہ بن کر رہنے میں تھا۔
اس صورتِ حال سے پیدا ہونے والے ذہنی تضاد کو ابتدا میں یہ دعویٰ کر کے دور کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ سرزمین خالی ہے۔ بعد ازاں اس کے اصل باشندوں کو وہاں سے بے دخل کرنے کے طریقے تلاش کیے گئے۔ اس عمل کا آخری مرحلہ اس عرب سرزمین کی عرب شناخت ختم کرنا تھا۔
اس مقصد کے حصول کے لیے صہیونی تحریک کو برطانوی سلطنت کی ثالثی اور حمایت سے ایک مضبوط اتحاد قائم کرنے کی ضرورت تھی۔ جب فلسطینیوں نے اپنی سرزمین پر استعمار مسلط کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا تو اس سے بھی زیادہ مضبوط اتحاد کی ضرورت محسوس ہوئی، جس میں پورا یورپ اور امریکہ شامل ہوں۔
تاہم، اس طاقتور اتحاد کے باوجود، جس نے صہیونی نظریے کو نافذ کرنے کے لیے طاقت اور تشدد کے استعمال کو ممکن بنایا، مقامی مزاحمت اور مقامی آبادی کی ثابت قدمی نے اس چیلنج کو آج تک حل طلب رکھا ہے۔ یہ صورتِ حال 1948 کی نسلی تطہیر اور 2023 میں غزہ میں نسل کشی کے بعد بھی برقرار ہے۔ صہیونیت اب ایک نوآبادیاتی آبادکار نظریے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
فلسطین میں صہیونیت کو درپیش 3 بڑے چیلنجز
1۔ سرزمین پر فلسطینیوں کی ثابت قدمی اور مزاحمت
صہیونیت کے اس چیلنج پر قابو پانے میں ناکامی، فلسطینیوں کی مزاحمت اور ثابت قدمی کے باعث، ان اقدامات میں شدت کا سبب بنی ہے جنہیں اسرائیل برسوں سے زمین پر اپنے نظریے کو نافذ کرنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔
اکتوبر 2023 تک، مشرقِ وسطیٰ کے قلب میں فلسطینیوں کی قیمت پر ایک یورپی یہودی ریاست قائم کرنے کے مقصد کے لیے جن طریقوں کو بروئے کار لایا گیا، ان میں درج ذیل اقدامات شامل تھے:
- 1948 میں نسلی تطہیر۔
- اسرائیل کے اندر فلسطینیوں پر فوجی حکمرانی اور بعد ازاں مقبوضہ علاقوں میں فوجی نظام کا نفاذ۔
- اسرائیل کے فلسطینی شہریوں، یعنی 1948 کے فلسطینیوں، پر مسلط کیا گیا نسلی امتیاز کا نظام (اپارتھائیڈ)۔
- 2010 سے غزہ میں بتدریج نسل کشی۔
- 2000 سے مغربی کنارے میں بتدریج نسلی تطہیر۔
اس دوران غزہ کی ناکہ بندی، بار بار کیے جانے والے فوجی حملوں اور مغربی کنارے میں مزاحمتی قوتوں کو ختم کرنے کی کوششوں سے بھی یہ چیلنج کم نہیں ہوا۔ فلسطینی تاریخی فلسطین کی نصف آبادی پر مشتمل ہیں اور وہ حقِ خود ارادیت اور آزادی سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
نومبر 2022 میں منتخب ہونے والی اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت کا خیال تھا کہ اقدامات میں شدت پیدا کرنے سے فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت شروع ہو جائے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
اسی لیے یہ حیرت کی بات نہیں کہ اس حکومت کی وزیر برائے آبادکاری اور قومی مشن، اوریت اسٹروک، نے طوفان الاقصیٰ آپریشن کو ایک معجزہ قرار دیا۔ ان کے اس بیان کا مطلب یہ تھا کہ اب انہیں غزہ کی پٹی کی مکمل تباہی اور اس کے تمام باشندوں کی نسلی تطہیر کے لیے جواز مل گیا ہے۔
درحقیقت، 7 اکتوبر 2023 سے غزہ کے خلاف اسرائیل کی تباہ کن جنگ، جو حقیقی نسل کشی میں تبدیل ہو گئی، محض فلسطینیوں کے آپریشن کا بدلہ لینے اور ہزاروں صیہونیوں کو ہلاک یا گرفتار کرنے کے ردعمل تک محدود نہیں تھی۔ بلکہ یہ ایک ایسے منصوبے کا نفاذ تھا جسے صیہونی فوج نے تیار کیا تھا اور جس پر عمل درآمد کے حوالے سے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو تذبذب کا شکار تھے۔
تاہم، نسل کشی کے 3 سال بعد بھی یہ منصوبہ نامکمل ہے۔ اسی وجہ سے متعدد دائیں بازو کی جماعتوں نے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ رواں اکتوبر میں ہونے والے آئندہ انتخابات میں کامیاب ہوئیں تو اس منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں گی۔
بدقسمتی سے، تاریخ ایسے منصوبوں کی مثالوں سے بھری پڑی ہے جن کا مقصد کسی آبادی کو مکمل طور پر مٹا دینا تھا اور جو کامیاب بھی ہوئے۔ لیکن ہم یہ قبول نہیں کر سکتے کہ دنیا، خطہ اور فلسطینی مزاحمت ایسا ہونے دیں گے۔
صہیونیت کے اس بڑے چیلنج کا مقابلہ کرنے میں ناکامی، یعنی مشرقِ وسطیٰ کے قلب میں فلسطینیوں کو جڑ سے اکھاڑ کر زبردستی ایک یورپی یہودی ریاست قائم نہ کر پانا، اسرائیل کے مستقبل کے لیے ایک وجودی خطرہ ہے۔ بالخصوص اس لیے کہ اسے بیک وقت 2 دیگر چیلنجز کا بھی سامنا ہے، جنہوں نے اسرائیل کے ریاستی نظریے کی حیثیت سے صہیونیت کو اب تک ناکامی سے دوچار کیا ہے۔
2۔ داخلی تقسیم اور صیہونیوں کی شناخت کا بحران
دوسرا چیلنج یہودی شناخت کو ایک قومی شناخت کے طور پر اسرائیل کی روزمرہ زندگی میں عملی حقیقت بنانے سے متعلق ہے۔
ایک مذہبی اور مذہبی پیشوائیت پر مبنی یہودی ریاست کا تصور لبرل جمہوریت کے تصور سے مطابقت نہیں رکھتا، خواہ اس ریاست کی شہریت صرف یہودیوں تک محدود کیوں نہ ہو۔ یہ محض نظریاتی سوال نہیں، بلکہ عوامی زندگی، عدالتی نظام، تعلیمی اداروں اور ثقافتی نظام سے بھی تعلق رکھتا ہے۔
مالیاتی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں سے وابستہ اشرافیہ کی اکثریت ایسی یہودی ریاست میں رہنے کو قبول نہیں کرتی جو یہودی قوانین کی سخت گیر تشریح کے تحت چلائی جائے۔ ان میں سے بہت سے افراد پہلے ہی یہ سمجھتے ہوئے ملک چھوڑ چکے ہیں کہ وہ یہ کشمکش ہار چکے ہیں۔
لہٰذا، موجودہ حالات میں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی ریاست ان اشرافیہ کے بغیر برقرار رہ سکتی ہے؟ اور کیا ایسی ریاست کو مغربی حکومتوں کی غیر مشروط حمایت بدستور حاصل رہے گی، خصوصاً اس وقت جب مغربی معاشروں کے بڑے حصوں کی حمایت پہلے ہی کم ہو چکی ہے؟
اس کا جواب وقت ہی دے گا، لیکن یہودی ریاست کا مستقبل بدستور انتہائی غیر یقینی ہے۔
3۔ عالمی سطح پر صہیونی منصوبے کی قانونی و اخلاقی ساکھ کا خاتمہ
آخری چیلنج اس بات سے متعلق ہے کہ عالمی سطح پر صہیونیت کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ غزہ میں نسل کشی نے صہیونیت کے بارے میں عالمی مباحثے کو کس طرح تبدیل کیا ہے، اس کی نمایاں مثال برطانیہ کی گرین پارٹی کا اسرائیل کو نسل پرست قرار دینا ہے۔
فلسطین اور غزہ کی حمایت میں سڑکوں پر نکلنے والے لاکھوں افراد نے صہیونیت کے خلاف بھی کھل کر احتجاج کیا۔ اسی تناظر میں مقبول نعرہ دریا سے سمندر تک، فلسطین آزاد ہوگا ایک صہیونی ریاست کے متبادل کے طور پر ایک متحدہ جمہوری ریاست کے قیام کے مطالبے میں تبدیل ہو گیا۔
آج صہیونیت کا تصور مسئلۂ فلسطین کے حوالے سے عالمی سطح پر ہونے والی بات چیت اور تعامل کا مرکزی موضوع بن چکا ہے۔ درحقیقت، دنیا بھر میں فلسطین کے حامیوں کا خیال ہے کہ مسئلہ صرف نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی قوتوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کی جڑ خود صہیونی نظریے میں ہے۔
چنانچہ آج دنیا بھر، بالخصوص مغربی دنیا، میں صہیونی تحریک کی اپنی ساکھ اور قانونی و اخلاقی جواز پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بالآخر، صیہونی سیاست کا موجودہ راستہ اسی ساکھ کو مسلسل چیلنج کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے، خواہ نیتن یاہو آئندہ انتخابات میں شکست ہی کیوں نہ کھا جائیں۔
اسی طرح مغربی جامعات اور علمی مراکز میں صہیونیت کا آبادکار نوآبادیاتی نظام کے طور پر مطالعہ اور تدریس معمول بنتا جا رہا ہے۔ اب یہ محض ایک سیاسی رائے نہیں رہی، بلکہ علمی تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آنے والا نقطۂ نظر بن چکا ہے۔
یہ 3 چیلنجز مل کر صہیونیت کے خلاف عالمی نفرت میں اضافے کا سبب بنیں گے۔ اس رجحان کو روکنے کا واحد راستہ صہیونی نظریے کو زمینی حقیقت سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ اس کے لیے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ فلسطین عرب دنیا کا حصہ ہے اور فلسطینیوں کی آبائی سرزمین ہے۔
اس سرزمین کا مستقبل صرف اسی صورت میں تعمیر ہو سکتا ہے جب تمام باشندے ایک متحدہ جمہوری ریاست میں زندگی گزاریں اور فلسطینی پناہ گزینوں کو واپسی کا حق دیا جائے۔


مشہور خبریں۔
عمران خان کی بہنوں کے ساتھ ناروا سلوک کا وقت آنے پر حساب لیا جائے گا، علی امین گنڈاپور
?️ 9 اپریل 2025پشاور: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ
اپریل
اگلے مہینے میں خیبر پختوانخواہ اور پنجاب کے وزیر اعلی تبدیل ہو سکتے ہیں
?️ 31 مارچ 2021اسلام آباد (سچ خبریں)تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی ضمیر حیدر نے کہا
مارچ
سچ بولنے پر برطرف; فلسطین کا دفاع کرنے پر برطانوی ڈاکٹر کو معطل کر دیا گیا
?️ 15 ستمبر 2025سچ خبریں: برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس نے ایک متنازعہ اقدام میں ایک
ستمبر
ٹرمپ جلد غزہ میں جنگ بندی کا اعلان کریں گے؛صہیونی میڈیا کا دعویٰ
?️ 26 مئی 2025 سچ خبریں:صہیونی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر
مئی
طالبان کو اپنے مخالفین کو بھی حکومت میں شامل کرنا چاہیے: یورپی یونین
?️ 4 فروری 2022سچ خبریں:افغانستان میں یورپی یونین کے نائب سفیر نے طالبان کی حکومت
فروری
سابق کمشنر راولپنڈی کے مبینہ دھاندلی کے الزامات پر پی ٹی آئی کا جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ
?️ 18 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) رہنما پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان نے
فروری
حماس کو نیتن یاہو کی خفیہ تجویز کی دستاویز میڈیا پر جاری
?️ 11 جون 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے 12 ٹی وی چینل کے نیوز چینل
جون
اسرائیل نے ہمیں حیرت میں ڈال دیا:یوکرینی صدر
?️ 26 ستمبر 2022سچ خبریں:یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کے ساتھ جنگ کے
ستمبر