?️
سچ خبریں:فلسطینی تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے سعودی عرب کو تل ابیب کے نئے جال سے خبردار کرتے ہوئے ایران کی جانب سے ریاض اور صنعا کے درمیان سیاسی مذاکرات کی تجویز کو اہم قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، یہ اقدام امریکہ اور اسرائیل کے منصوبے کو ناکام بنا سکتا ہے۔
انٹر ریجنل اخبار رائے الیوم کے چیف ایڈیٹر اور معروف فلسطینی تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے اپنے الیکٹرانک اخبار کے تازہ اداریے میں خطے کی حالیہ صورت حال، بالخصوص یمن اور سعودی عرب کے درمیان جنگ، پر تبصرہ کیا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ صہیونی ذرائع ابلاغ میں حالیہ دنوں شائع ہونے والی خبروں پر انہیں حیرت نہیں ہوئی۔ ان خبروں کے مطابق، قابض حکومت کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو امریکہ کی ثالثی کے ذریعے سعودی عرب کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ یمن کے ساتھ جاری جنگ میں اسرائیل کو مداخلت کی اجازت دے دے۔
سعودی عرب کے لیے مگرمچھ کے آنسو بہانے کے پیچھے نیتن یاہو کا مقصد!
عطوان نے مزید لکھا کہ عبرانی اخبار ہارٹز نے ان انکشافات پر مبنی رپورٹ میں بتایا کہ ریاض کے ہوائی اڈے پر یمنی میزائل حملے میں 13 افراد کی ہلاکت اور سیکڑوں افراد کے زخمی ہونے کے بعد نیتن یاہو نے اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر سعودی عرب سے تعزیت کا بیان جاری کیا۔ اس اقدام کا مقصد اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینا، اس ملک کے ساتھ باضابطہ معاہدۂ تعلقات قائم کرنا اور اسے نام نہاد ابراہیم معاہدوں میں شامل کرنے کی راہ ہموار کرنا تھا۔
انہوں نے زور دیا کہ صہیونی ذرائع ابلاغ کی جانب سے سامنے آنے والی یہ معلومات ان باتوں کی تصدیق کرتی ہیں جن کا ذکر وہ اپنے سابقہ مضامین اور ویڈیوز میں کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی ترغیب پر سعودی عرب اور صنعا کی حکومت کے درمیان اختلافات کو ہوا دی، خواہ اس کے لیے یمن کی ناکہ بندی سخت کی گئی ہو، صنعا کے ہوائی اڈے پر بمباری کی گئی ہو یا دونوں فریقوں کے درمیان جنگ کو مزید بھڑکایا گیا ہو۔
عطوان کے تجزیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ناکام نیتن یاہو دونوں فریقوں، یعنی یمن اور سعودی عرب، سے انتقام لینا چاہتے ہیں۔ یمن نے غزہ میں مزاحمتی مجاہدین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطین کے مرکز، خصوصاً حیفا اور تل ابیب، کو ہائپرسونک میزائلوں اور کلسٹر وارہیڈز سے نشانہ بنایا، جبکہ ایلات کی بندرگاہ کو تباہ کرکے اسے ناقابل استعمال بنا دیا۔ دوسری جانب، سعودی عرب اب تک صہیونی حکومت کے ساتھ باضابطہ طور پر تعلقات معمول پر لانے کے معاہدوں میں شامل نہیں ہوا ہے۔
رائے الیوم کے چیف ایڈیر نے وضاحت کی کہ صہیونی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، سعودی عرب کے 90 فیصد شہری، بلکہ ممکنہ طور پر اس سے بھی زیادہ، اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات قائم کرنے کے سخت مخالف ہیں۔ عطوان کے بقول، یہ ایک معروف حقیقت ہے جس کی تصدیق کے لیے ان اخبارات یا کسی دوسرے ذریعے کی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق، سعودی عرب کو بھی اپنے عوام کے مؤقف کے مطابق چلنا چاہیے۔
امریکہ سب سے بڑا نقصان اٹھانے والا فریق ہوگا
اس اداریے کے مطابق، نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ کے دلدل میں لے گئے، لیکن ٹرمپ اپنے کسی بھی ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ ان اہداف میں ایران میں نظام کی تبدیلی، اس کے جوہری پروگرام کی تباہی اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنا شامل تھا۔
عطوان کے مطابق، ٹرمپ کا خیال ہے کہ سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ کو بھڑکانے سے ایران کمزور اور تھک جائے گا اور اسے براہ راست یا بالواسطہ طور پر سعودی عرب کے ساتھ فرقہ وارانہ جنگ میں دھکیل دیا جائے گا۔
عبدالباری عطوان نے نشاندہی کی کہ ٹرمپ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس صورت حال میں ایران مزید کمزور ہو جائے گا اور پھر امریکہ کو اس پر دوبارہ حملہ کرنے کا موقع مل جائے گا۔ تاہم، اب تک زمینی حقائق ٹرمپ کے تصورات سے بالکل مختلف ثابت ہوئے ہیں۔
اس فلسطینی تجزیہ نگار کے مطابق، امریکہ اس صورت حال میں سب سے بڑا نقصان اٹھانے والا فریق ہے، خواہ بات اس کی ساکھ کی ہو یا خطے اور دنیا میں اس کی فوجی طاقت کی۔
انہوں نے لکھا کہ امریکی ساختہ تھاڈ (THAAD) اور پیٹریاٹ جیسے میزائل شکن دفاعی نظام یمنی میزائلوں کو روکنے میں بری طرح ناکام رہے، جبکہ ان میں سے بیشتر میزائل کامیابی کے ساتھ سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں تک پہنچے، جن میں ریاض، دمام، ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران کے ہوائی اڈے شامل ہیں۔
تجزیہ میں مزید زور دیا گیا ہے کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی اس درخواست کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جس میں انہوں نے یمن کے خلاف جنگ میں امریکہ کی براہ راست شرکت کا مطالبہ کیا تھا۔ عطوان کے مطابق، یہ درخواست امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کے مطابق تھی۔ تاہم، ٹرمپ نے صرف اتنا کہا کہ یمنی بہت غلط کام کر رہے ہیں اور یہ بالکل اچھی بات نہیں ہے۔
ایران کی تجویز امریکی اور صہیونی سازش کو ناکام بنا سکتی ہے
عطوان نے اپنے تجزیہ میں چند روز قبل ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور ان کے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس گفتگو کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے سعودی عرب اور یمن کے درمیان سیاسی حل تک پہنچنے اور فوجی راستے سے گریز کے لیے مذاکرات شروع کرانے میں مدد کی تجویز اس معاملے میں پیش کی جانے والی بہترین تجویز ہے، خصوصاً اس لیے کہ اس وقت کوئی عرب ثالث موجود نہیں ہے۔
اس اداریے کے مطابق، اس موقع پر سب کو، بالخصوص سعودی عرب کو، یہ یاد رکھنا چاہیے کہ غزہ کی جنگ کے دوران، جب یمنیوں نے فلسطینی عوام کی حمایت میں اس تنازع میں حصہ لیا تھا، امریکہ کو اپنے طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی حفاظت کے لیے صنعا کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ ان میں سے بعض امریکی بحری جہاز یمنی میزائلوں کا نشانہ بن کر نقصان اٹھا چکے تھے۔
سعودی عرب اپنے اتحادیوں کی غداریوں سے سبق سیکھے
رائے الیوم کے چیف ایڈیٹر نے زور دیا کہ یمن اور سعودی عرب، دونوں کو ایران کی تجویز کا مثبت جواب دیتے ہوئے جلد از جلد مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے، کیونکہ ایسا کرنے سے امریکہ اور اسرائیل کے زہریلے منصوبے کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب سمیت تمام متعلقہ فریقوں کو جنگ بندی کے معاہدے کی شرائط پر مکمل طور پر عمل کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کے جائز مقاصد اور مطالبات پورے کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
تجزیہ کے اختتام پر عبدالباری عطوان نے ایران اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان سے رابطہ کرنے میں پہل کی اور جنگ روکنے کے لیے ثالثی کی تجویز پیش کی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ سعودی عرب اپنے ان تمام اتحادیوں کی بار بار کی جانے والی غداریوں سے سبق سیکھے گا، جنہیں وہ اپنا اتحادی سمجھتا رہا ہے، خواہ وہ عرب اور مسلم ممالک ہوں یا مغربی ممالک، خصوصاً امریکہ۔ عطوان کے مطابق، ان اتحادیوں نے سعودی عرب کو منافقانہ بیانات کے سوا کچھ نہیں دیا اور اسے اس کے حال پر تنہا چھوڑ دیا۔ انہوں نے سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ اپنی اس بڑی غلطی سے رجوع کرے۔


مشہور خبریں۔
ٹیکس کے پیسوں سے متعلق فرخ حبیب کا اہم بیان
?️ 6 فروری 2022لاہور (سچ خبریں) وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے
فروری
مریم نواز نے پارٹی معاملات سنبھال لئے ہیں
?️ 19 ستمبر 2022لاہور: (سچ خبریں) مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز پارٹی تنظیم سازی کے
ستمبر
برطانیہ کے وزیراعظم کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی تیاری
?️ 30 جولائی 2025سچ خبریں: ٹائمز کے مطابق، برطانیہ کے وزیراعظم کیر اسٹارمر اس ہفتے ایک
جولائی
پاکستان کی جانب سے غزہ کیلئے مزید 200 ٹن امدادی سامان کی نئی کھیپ روانہ
?️ 8 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر پاکستان کی جانب
اگست
امریکی بدعنوانی کے معروف کیس سے "ٹرمپ” کا نام خفیہ طور پر حذف
?️ 3 اگست 2025سچ خبریں: بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، امریکی وفاقی تحقیقاتی بیورو (FBI) نے
اگست
قابض حکومت حماقت نہ کرے: فلسطینی استقامت
?️ 10 مئی 2022سچ خبریں: فلسطین کی استقامتی تنظیموں نے آج منگل کو سیف القدس
مئی
افغانستان میں یونیورسٹی کے پروفیسروں اور طلبا کے قافلے پر حملہ
?️ 29 مئی 2021سچ خبریں:افغانستان میں البیرونی یونیورسٹی کے پروفیسروں اور طلباء کے قافلے پر
مئی
شمالی کوریا کی جانب سے میزائل تجربہ، جو بائیڈن نے شدید دھمکی دے دی
?️ 27 مارچ 2021واشنگٹن (سچ خبریں) شمالی کوریا کی جانب سے میزائل تجربے کے بعد
مارچ