شکست کا تلخ ذائقہ یا فتح کی شام؟ امریکی ذرائع ابلاغ ٹرمپ کے بیانیے کے خلاف

ایران کے ساتھ

?️

سچ خبریں:ایران کے ساتھ چالیس روزہ جنگ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید داخلی دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکی میڈیا، سیاسی شخصیات اور عوام جنگی پالیسیوں کو مہنگائی، معاشی بحران اور سیاسی ناکامی کا سبب قرار دے رہے ہیں۔

ٹرمپ اس وقت ایسی صورتحال میں ہیں جہاں انہیں سخت معاشی و سیاسی حقائق اور ایران کے مقابل فتح کے بیانیے کو برقرار رکھنے کی کوشش کے درمیان ایک راستہ منتخب کرنا ہوگا۔

بین الاقوامی گروہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ چالیس روزہ جنگ کے بعد کے مہینوں میں بھرپور کوشش شروع کر دی ہے تاکہ ایک اسٹریٹجک ناکامی کو داخلی اور عالمی رائے عامہ کے سامنے فتح کے بیانیے میں تبدیل کیا جا سکے۔ تاہم زمینی حقائق، معاشی اخراجات اور امریکی ذرائع ابلاغ و سیاسی اشرافیہ کے ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بیانیہ سازی نہ صرف ناکام رہی بلکہ اس نے امریکہ کے اندرونی اختلافات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے نقطۂ نظر کے مطابق، وہ جنگ جو ایران کی علاقائی صلاحیت کو کمزور کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی تھی، امریکہ کی طاقت کے مظاہرے اور مغربی ایشیا میں اس کی بالادستی کو دوبارہ مستحکم کرنے کا ذریعہ بننی تھی۔ لیکن عملی طور پر جو کچھ سامنے آیا وہ سیاسی کمزوری، بڑھتے ہوئے معاشی اخراجات اور اندرونِ ملک تنقید کی ایسی لہر تھی جس نے اب خود ٹرمپ حکومت کو دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی بیانیہ سازی تنقید کے مرکز میں

اسی تناظر میں اہم امریکی ذرائع ابلاغ نے بھی وائٹ ہاؤس کے سرکاری بیانیے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے، امریکی اخبار دی نیویارک  ٹائمز نے ایک سخت اور تنقیدی مضمون میں تحقیر آمیز لہجے میں لکھا: مسٹر ٹرمپ، یہ فتح کی شام نہیں بلکہ شکست کا تلخ ذائقہ ہے۔ یہ مختصر مگر بھاری جملہ امریکہ کے اندر بدلتی ہوئی ذرائع ابلاغی فضا کی عکاسی کرتا ہے؛ ایسی فضا جہاں مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ بھی حکومتی بیانیے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

اخبار نے اپنی رپورٹ میں مزید زور دے کر کہا کہ ایران کے خلاف جنگ میں ٹرمپ کے مبینہ کامیاب اقدامات درحقیقت بھاری اور بے قابو نتائج کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ فوجی اخراجات میں اضافے سے لے کر امریکی معاشرے کے متوسط اور نچلے طبقے پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ تک، سب کچھ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس جنگ کی قیمت ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ رہی ہے۔

سیاسی سطح پر بڑھتی ہوئی تنقید

سیاسی سطح پر بھی ٹرمپ حکومت پر تنقید میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی کانگریس کے رکن Salud Carbajal نے ایک سروے کے نتائج جاری کرتے ہوئے، جس کے مطابق تقریباً ستتر فیصد امریکیوں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے زندگی کے اخراجات میں اضافہ کیا ہے، حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کی۔

انہوں نے واضح ردعمل دیتے ہوئے کہا: امریکی عوام بجا طور پر اس بات پر ناراض ہیں کہ ٹرمپ کی غیرقانونی جنگ کے باعث خوراک، پٹرول اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں آسمان تک پہنچ گئی ہیں۔ اس حکومت نے خاندانوں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے جبکہ اس بحران کے خاتمے کا کوئی اشارہ بھی موجود نہیں۔

یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ جنگ کے اثرات صرف فوجی یا جغرافیائی سیاست تک محدود نہیں رہے بلکہ براہِ راست امریکی شہریوں کی روزمرہ زندگی میں داخل ہو چکے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی نظام میں رکاوٹیں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کو ٹرمپ حکومت کی کشیدہ پالیسیوں کے براہِ راست یا بالواسطہ نتائج کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

واشنگٹن کے لیے کئی جہتی بحران کا ظہور

ایسے حالات میں وہ جنگ جو ایران کو کمزور کرنے اور امریکہ کی علاقائی حیثیت کو مستحکم بنانے کے لیے شروع کی گئی تھی، اب خود واشنگٹن اور شخصی طور پر ٹرمپ کے لیے کئی جہتی بحران میں تبدیل ہو چکی ہے۔ امریکی سیاست میں اندرونی تقسیم، عوامی بے چینی میں اضافہ اور حکومتی بیانیوں پر اعتماد کی کمزوری اس صورتحال کے اہم نتائج میں شامل ہیں۔

دوسری جانب ٹرمپ کی جانب سے فتح کے بیانیے کی تشکیل کی کوشش کو عوامی رائے کی سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ امریکی معاشرے کا ایک بڑا حصہ نہ صرف اس بیانیے کو قبول نہیں کرتا بلکہ اسے ناکامی اور شکست کی حقیقت کو چھپانے کے لیے سیاسی دھوکا قرار دیتا ہے۔ نتیجتاً وائٹ ہاؤس اور عوامی رائے کے درمیان فاصلہ غیرمعمولی حد تک بڑھ چکا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے میدان میں بھی یہی صورتحال دکھائی دیتی ہے۔ متعدد آزاد امریکی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ حکومت محدود کامیابیوں کو نمایاں کر کے جنگ میں مجموعی ناکامی کے تاثر کو دھندلا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اس جنگ کے وسیع معاشی اور سیاسی اثرات نے ایسی کوششوں کی تاثیر کو محدود کر دیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آج امریکہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ صرف ایک عام سیاسی اختلاف نہیں بلکہ بیانیے کا بحران ہے۔ حکومت خود کو ایک جنگ کا فاتح ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ، سیاسی اشرافیہ اور عوامی رائے کا بڑا حصہ اس جنگ کو ایک مہنگی ناکامی کے سوا کچھ نہیں سمجھتا۔

اس کے علاوہ جنگ سے پیدا ہونے والا معاشی دباؤ حکومت پر تنقید کا مرکزی محور بن چکا ہے۔ بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ، توانائی کے اخراجات میں بڑھوتری اور گھریلو بجٹ پر دباؤ کو حکومت کی جنگ پسند پالیسیوں کے براہِ راست نتائج قرار دیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کے سابق حامی بھی اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

وسیع تر سطح پر یہ تبدیلیاں ظاہر کرتی ہیں کہ جارحانہ خارجہ پالیسی اور فوجی تصادم پر مبنی حکمت عملی اب ماضی کی طرح داخلی قیمت ادا کیے بغیر جاری نہیں رہ سکتی۔ امریکی معاشرہ جنگوں کے معاشی اثرات کے حوالے سے پہلے سے زیادہ حساس ہو چکا ہے اور بیرونی مہم جوئی کے مقابلے میں کم برداشت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

خلاصہ

آخرکار ایران کے ساتھ چالیس روزہ جنگ نہ صرف اپنے اعلانیہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی بلکہ امریکہ کے اندرونی بحران کو مزید شدت دینے کا سبب بھی بنی۔

ٹرمپ اس وقت ایسی صورتحال میں ہیں جہاں انہیں سخت معاشی و سیاسی حقائق اور فتح کے بیانیے کو برقرار رکھنے کی کوشش کے درمیان ایک انتخاب کرنا ہوگا؛ ایسا انتخاب جس کے دونوں راستے ان کی حکومت کے لیے بھاری قیمت رکھتے ہیں۔

آج سب سے زیادہ واضح ہونے والی حقیقت یہ ہے کہ جنگ کا میدان صرف مشرقِ وسطیٰ کے جغرافیے میں طے نہیں ہوتا بلکہ اس کے اثرات امریکہ کی سیاست اور معیشت کے قلب تک بھی پہنچتے ہیں؛ ایسی جگہ جہاں فتح کا بیانیہ اب آسانی سے تعمیر نہیں کیا جا سکتا اور جہاں حقائق جلد یا بدیر خود کو مسلط کر دیتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

ہمیں شامی حکومت سے بات کرنی چاہیے: سعودی وزیر خارجہ

?️ 19 فروری 2023سچ خبریں:سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اپنے شام

صہیونی حکومت کا یونانی وفد کو رام اللہ میں داخل ہونے کی اجازت دینے انکار

?️ 22 جون 2026سچ خبریں:صہیونی حکومت نے رام اللہ کا دورہ کرنے کے لیے آنے

صیہونی نوجوان اسرائیل سے بھاگنے کا سوچ رہے ہیں

?️ 21 جولائی 2025سچ خبریں: تازہ ترین سروے کے نتائج کے مطابق جو اسرائیل ہیوم

ترکی میں مظاہرہ کرنے والے متعدد افراد گرفتار

?️ 30 جون 2021سچ خبریں:ترکی میں ذرائع نے استنبول میں ایک ریلی میں شرکت کرنے

کانگریس مین: ٹرمپ اور ریپبلکن امریکی عوام کے لیے کاروبار کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے

?️ 20 اکتوبر 2025سچ خبریں: امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹس کے رہنما نے حکومتی شٹ ڈاؤن

وفاقی آئینی عدالت نے صحافی ارشد شریف قتل کیس مقرر کردیا

?️ 27 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی آئینی عدالت نے صحافی ارشد شریف قتل

صہیونی تجزیہ کاروں کی نیتن یاہو کے غزہ پر بڑے حملے کے منصوبے پر شدید تنقید

?️ 5 مئی 2025 سچ خبریں:صہیونی  تجزیہ کاروں نے قابض وزیراعظم نیتن یاہو کے غزہ

افغانستان کی صورتحال خطے اور دنیا کے مفاد میں نہیں: وزیر خارجہ

?️ 10 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی کا افغانستان کی صورتحال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے