سچ خبریں: عراق کے النجباء مزاحمتی گروپ نے امریکہ کو ہتھیاروں کے ذریعے نکال باہر کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک معاہدے یا ڈپلومیسی کی زبان نہیں سمجھتا ،اسے عراق سے نکل جانا چاہیے۔
عراق میں امریکی سفیر ایلینا رومنسکی نے اس ملک کے وزیر خارجہ فواد حسین کے ساتھ ملاقات میں شام اور اردن کے ساتھ سرحدی علاقوں میں امریکی فوج کی مشکوک فوجی نقل و حرکت کی وضاحت اور جواز پیش کرنے کی کوشش کی۔
یاد رہے کہ یہ ملاقات عراق کے سیاسی اور عسکری حلقوں کی جانب سے گذشتہ دو ہفتوں کے دوران شام اور اردن کے ساتھ عراق کے سرحدی علاقوں میں امریکہ کی مشکوک کاروائیوں پر شدید احتجاج اور واشنگٹن سے اس کا جواب دینے کا مطالبہ کرنے کے بعد ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عراق میں امریکی فوجی نقل و حرکت کی وجہ؟
درایں اثنا الحشد الشعبی نے کہا کہ وہ اس نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس نے سرحدی علاقوں میں اپنی افواج کو تعینات کر دیا ہے۔
عراق کی النجباء تحریک نے بھی اس مسئلے پر رد عمل کا اظہار کیا اور ایک بیان شائع کرتے ہوئے تاکید کی کہ اگرچہ عراقی عوام اپنی حکومت کی کاروائی کے منتظر تھے، جسے قابض امریکہ کی موجودگی کو ختم کرنے اور اسے نکال باہر کرنے کا کام سونپا گیا تھا لیکن ہماری قوم کو اچانک جنوب سے شمال اور مغرب تک امریکی فوجی گروہوں کی مشکوک حرکات کا سامنا کرنا پڑا جسے دیکھ کر وہ حیران رہ گئی۔
النجباء نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ امریکی فوج نے اس کاروائی سے عراق کی خودمختاری کا مذاق اڑایا ہے، مزید کہا کہ ہم اسلامی مزاحمت میں اب بھی اپنے موقف اور الفاظ پر قائم ہیں کہ سیاسی، سفارتی حل یا بین الاقوامی معاہدے قابض امریکیوں کے خلاف کام نہیں کرتے کیونکہ دھوکہ دہی، زیادتی اور ملکوں کے وسائل کو لوٹنا اس ملک کا وطیرہ ہے۔
النجباء نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ امریکہ صرف ہتھیاروں کی زبان سمجھتا ہے، وہ صرف فوجی ذرائع سے اور شکست خوردہ انداز میں عراق سے نکل سکتا ہے، عراق کے تمام سیاسی، مذہبی اور سماجی گروہوں سے کہا کہ وہ ان جارحیتوں کے خلاف ڈٹ جائیں۔
انہوں نے کہا کہ عراقی سرزمین پر قبضہ جارحوں کے لیے آسان نہیں ہوگا اور ہمارا ملک ان ممالک کی جارح قوتوں کے لیے راستہ نہیں بنے گا جو اقوام کو لوٹنا چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکہ عراق میں مہم جوئی کیوں نہیں کر رہا ہے؟
ایلینا رومانسکی نے کچھ باتوں کو افواہیں قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ نقل و حرکت موجودہ افواج کی منتقلی کے عمل کا حصہ تھی جس کا عراق کے اندرونی مسائل سے قطعاً کوئی تعلق نہیں جبکہ امریکی حکومت عراق کے ساتھ تعاون جاری رکھنے اور مشترکہ مفادات کو فروغ دینے کے لیے بہت بے چین ہے۔
مشہور خبریں۔
عوام کی جانب سے بی بی سی پر عدم اعتماد میں شدید اضافہ، ایک سال میں 5 لاکھ شکایات موصول
جولائی
پارک بنانے کے لیے فلسطینی اراضی پر اسرائیلی قبضہ
جنوری
صیہونی حکومت کے جرائم صرف استقامت کی توسیع کا سبب
مارچ
انتظامی معاملات موثر انداز میں چلانے کیلئے صوبے، انتظامی یونٹس چھوٹے ہونے چاہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
دسمبر
یورپ کے معاندانہ رویہ پر ترکی کا ردعمل
ستمبر
عراق سے امریکی فوجیوں کا اخراج ناقابل واپسی
جنوری
آیت اللہ خامنہ ای کا عالمی امور پر گہرا اور وسیع مطالعہ ہے؛پاکستانی عہدیدار
جون
جون کے اختتام تک پاکستان کو 3 ارب 70 کروڑ ڈالر قرض ادا کرنا ہوگا، فچ
مئی