ضم شدہ قبائلی اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن میں نان کسٹم پیڈگاڑیوں کی پروفائلنگ جاری

?️

خیبر پختونخوا: (سچ خبریں) پختونخوا میں ضم شدہ اضلاع اور  مالاکنڈ ڈیویژن میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی پروفائلنگ کی جا رہی ہے۔محکمہ ایکسائز حکام کے مطابق قبائلی اضلاع اور مالاکنڈ ڈیویژن انگریز دور حکومت سے ٹیکس فری زون رہا ہے جس کے باعث یہاں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے استعمال پر کوئی ممانعت نہیں، اس وقت ان علاقوں میں 5 سے 6 لاکھ تک نان کسٹم پیڈ گاڑیاں موجود ہیں۔

حکام کے مطابق یہ گاڑیاں  منشیات اسمگلنگ سمیت دیگر جرائم کے لیے بھی استعمال ہوتی ہیں، جرائم کی روک تھام کے لئے ان گاڑیوں کی پہلی بار پروفائلنگ کی جارہی ہے۔

ڈسٹرکٹ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر محمد خالد نے جیونیوز کو بتایا کہ قبائلی اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن میں تقریبا 5 سے 6 لاکھ تک نان کسٹم پیڈ گاڑیاں شہریوں کے استعمال میں ہیں، ان کے مطابق یہ گاڑیاں مختلف اوقات میں  خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں افغانستان کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں سے غیر قانونی طورپر درآمد کی گئی ہیں۔

ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر کے مطابق درآمد کرنے کے بعد نان کسٹم پیڈ گاڑیاں ضم شدہ قبائلی اضلاع اور مالاکنڈ ڈیویژن پہنچا دی جاتی ہیں،  یہ علاقے ٹیکس فری زون میں آتے ہیں اور  ان علاقوں میں نان کسٹم  پیڈگاڑیوں کی استعمال کی ممانعت نہیں ہے۔

ڈسٹرکٹ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیس نے مزید بتایا کہ لوگ نان کسٹم پیڈگاڑیاں بطور ٹیکسی استعمال کرتے ہیں۔  یہ گاڑیاں ذاتی یا گھریلو ضروریات کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہیں، تاہم معمول کے استعمال کے علاوہ دہشت گردی، منشیات  اسمگلنگ سمیت دیگر جرائم میں بھی یہ گاڑیاں  استعمال کی جاتی ہیں۔ 

محمد خالد کے مطابق چونکہ ان گاڑیوں کے مالکان کو ٹریس نہیں کیاجاسکتا  اور  دوران تفتیش اداروں کو  مشکلات اور رکاوٹوں کاسامنا ہوتا ہے، اس  لیے پروفائلنگ کا مقصد ان گاڑیوں کا آن لائن ریکارڈ مرتب کرنا ہے  تاکہ ضرورت کے وقت اس گاڑی کا مالک ٹریس کیا جاسکے اور  پروفائلنگ کا بنیادی مقصد بھی یہی ہوتا ہے۔

محمد خالد کے مطابق ان وجوہات کی بنیاد پر حکومت نے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی پروفائلنگ کا فیصلہ کیا اور اس پر اکتوبر 2023 سے عمل درآمد شروع کردیا گیا ہے، اس دوران مالاکنڈ ڈویژن اور قبائلی اضلاع میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 5 ہزار نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی پروفائلنگ مکمل ہوچکی ہے جبکہ مزید کی پروفائلنگ جاری ہے۔

 دوسری جانب نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے بارگین مالکان نے جیونیوز کو بتایا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی خرید وفروخت اور  بطور ٹیکسی استعمال سے لاکھوں افراد کا روزگار  وابستہ ہے۔

 انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے رجسٹریشن کے لیے حکومت کی طرف سے ایمنسٹی اسکیم کے اجراء سے ملکی خزانے کو اربوں روپےکا ریونیو حاصل ہوگا۔

محکمہ ایکسائز حکام کے مطابق کسٹم ڈیوٹی کی صورت میں فی گاڑی پر 15 لاکھ سے 20 لاکھ روپے تک اخراجات آتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

آف شور مالکان کی کے-الیکٹرک کا براہ راست کنٹرول حاصل کرنے کیلئے کوششیں

?️ 13 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) کے-الیکٹرک لمیٹڈ کے مالکان کے درمیان لڑائی جھگڑے کے

دنیا کے سامنے غزہ کے بچوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے: یونیسیف

?️ 15 دسمبر 2024سچ خبریں: بین الاقوامی اداروں اور اقوام متحدہ نے متعدد رپورٹوں میں

ترکی دنیا کی 10 بڑی معیشتوں کے قریب ہے: اردغان

?️ 26 دسمبر 2021سچ خبریں: ترک صدر نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وہ چاہتے

پوپ نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو کنٹرول کرنے کا مطالبہ کر دیا

?️ 25 مئی 2026سچ خبریں: دنیا بھر کے کیتھولکوں کے رہنما نے اپنے پہلے سرکاری

اسلام آباد میں اتحادیوں کی پریس کانفرنس

?️ 25 جولائی 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)اسلام آباد میں اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کی اہم

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان نے قسط کے اجرا کے لیے آخری شرط پوری کرلی ہے۔

?️ 2 اگست 2022اسلام آباد(سچ خبریں)اسلام آباد میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی

پی آئی اے کا قبل از وقت ریٹائر ہونے والے ملازمین کے حق میں اہم اعلان

?️ 19 فروری 2021کراچی(سچ خبریں) پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے قبل از وقت ریٹائر ہونے والے

صہیونیوں کے جرائم کے خلاف خاموشی بہت سنگین گناہ: الازہر

?️ 4 مارچ 2025سچ خبریں: مصر کی الازہر یونیورسٹی نے ایک بیان میں جنگ بندی کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے