?️
سچ خبریں: عراق کے النجباء مزاحمتی گروپ نے امریکہ کو ہتھیاروں کے ذریعے نکال باہر کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک معاہدے یا ڈپلومیسی کی زبان نہیں سمجھتا ،اسے عراق سے نکل جانا چاہیے۔
عراق میں امریکی سفیر ایلینا رومنسکی نے اس ملک کے وزیر خارجہ فواد حسین کے ساتھ ملاقات میں شام اور اردن کے ساتھ سرحدی علاقوں میں امریکی فوج کی مشکوک فوجی نقل و حرکت کی وضاحت اور جواز پیش کرنے کی کوشش کی۔
یاد رہے کہ یہ ملاقات عراق کے سیاسی اور عسکری حلقوں کی جانب سے گذشتہ دو ہفتوں کے دوران شام اور اردن کے ساتھ عراق کے سرحدی علاقوں میں امریکہ کی مشکوک کاروائیوں پر شدید احتجاج اور واشنگٹن سے اس کا جواب دینے کا مطالبہ کرنے کے بعد ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عراق میں امریکی فوجی نقل و حرکت کی وجہ؟
درایں اثنا الحشد الشعبی نے کہا کہ وہ اس نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس نے سرحدی علاقوں میں اپنی افواج کو تعینات کر دیا ہے۔
عراق کی النجباء تحریک نے بھی اس مسئلے پر رد عمل کا اظہار کیا اور ایک بیان شائع کرتے ہوئے تاکید کی کہ اگرچہ عراقی عوام اپنی حکومت کی کاروائی کے منتظر تھے، جسے قابض امریکہ کی موجودگی کو ختم کرنے اور اسے نکال باہر کرنے کا کام سونپا گیا تھا لیکن ہماری قوم کو اچانک جنوب سے شمال اور مغرب تک امریکی فوجی گروہوں کی مشکوک حرکات کا سامنا کرنا پڑا جسے دیکھ کر وہ حیران رہ گئی۔
النجباء نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ امریکی فوج نے اس کاروائی سے عراق کی خودمختاری کا مذاق اڑایا ہے، مزید کہا کہ ہم اسلامی مزاحمت میں اب بھی اپنے موقف اور الفاظ پر قائم ہیں کہ سیاسی، سفارتی حل یا بین الاقوامی معاہدے قابض امریکیوں کے خلاف کام نہیں کرتے کیونکہ دھوکہ دہی، زیادتی اور ملکوں کے وسائل کو لوٹنا اس ملک کا وطیرہ ہے۔
النجباء نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ امریکہ صرف ہتھیاروں کی زبان سمجھتا ہے، وہ صرف فوجی ذرائع سے اور شکست خوردہ انداز میں عراق سے نکل سکتا ہے، عراق کے تمام سیاسی، مذہبی اور سماجی گروہوں سے کہا کہ وہ ان جارحیتوں کے خلاف ڈٹ جائیں۔
انہوں نے کہا کہ عراقی سرزمین پر قبضہ جارحوں کے لیے آسان نہیں ہوگا اور ہمارا ملک ان ممالک کی جارح قوتوں کے لیے راستہ نہیں بنے گا جو اقوام کو لوٹنا چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکہ عراق میں مہم جوئی کیوں نہیں کر رہا ہے؟
ایلینا رومانسکی نے کچھ باتوں کو افواہیں قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ نقل و حرکت موجودہ افواج کی منتقلی کے عمل کا حصہ تھی جس کا عراق کے اندرونی مسائل سے قطعاً کوئی تعلق نہیں جبکہ امریکی حکومت عراق کے ساتھ تعاون جاری رکھنے اور مشترکہ مفادات کو فروغ دینے کے لیے بہت بے چین ہے۔


مشہور خبریں۔
فیض آباددھرناکیس: کمیشن نے سابق سربراہ آئی ایس آئی فیض حمید کو طلب کرلیا
?️ 29 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) فیض آباد دھرنا کیس میں تحقیقاتی کمیشن نے
دسمبر
اسلامی نظام کو کمزور کرنے والے ہر اقدام کا دندان شکن جواب دیا جائے گا:ایران
?️ 26 ستمبر 2022سچ خبریں:اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکہ کی
ستمبر
پنجاب میں سیلاب سے 3 ہزار سے زائد اسکول متاثر، ہزاروں طلبہ کا تعلیمی سلسلہ خطرے میں
?️ 26 ستمبر 2025لاہور: (سچ خبریں) صوبہ پنجاب میں تباہ کن سیلاب کے باعث 3
ستمبر
امریکہ غزہ میں اسرائیل کے جرائم میں شریک ہے۔ ہمیں غزہ میں داخل ہونا چاہیے
?️ 7 ستمبر 2025سچ خبریں: "صمود” بین الاقوامی یکجہتی بیڑے کے ایک امریکی رکن نے
ستمبر
غزہ پر اسرائیل کے حملوں میں کتنے طالب علم مارے جا چکے ہیں؟
?️ 28 دسمبر 2023سچ خبریں: غزہ کی وزارت تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی
دسمبر
صہیونی اب بھی "سنوار” سے خوفزدہ ہیں
?️ 28 جولائی 2025سچ خبریں: اخبار میں صیہونی تجزیہ نگار نے اس بات کی طرف
جولائی
کورونا: اگلے 48 گھنٹوں میں نئی پابندیوں کا اعلان متوقع
?️ 17 جنوری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا اہم اجلاس منعقد
جنوری
ٹرمپ کی حکمتِ عملی کی دستاویز میں دنیا کا نقشہ
?️ 7 دسمبر 2025 ٹرمپ کی حکمتِ عملی کی دستاویز میں دنیا کا نقشہ ڈونلڈ
دسمبر