ایرانی ڈرون امریکی فضائی دفاعی نظام کو کیسے عبور کرتے ہیں؟ الجزیرہ کا تجزیہ

ایرانی ڈرون

?️

سچ خبریں:الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں ایرانی ڈرون اور میزائلوں کی امریکی فضائی دفاعی نظام میں نفوذ کی وجوہات کا جائزہ لیا ہے۔

الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطقابق عسکری ماہر الیاس حنا کے مطابق اردن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کا واقعہ جنگ کے آئندہ مرحلے پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق ایران کی جانب سے اردن میں امریکہ کے ایک فوجی اڈے پر میزائل حملے کے اعلان، واشنگٹن کی جانب سے اس حملے کی تصدیق اور متعدد امریکی فوجیوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاع کے بعد خطے میں موجود امریکہ کے جدید فضائی دفاعی نظام کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ جدید دفاعی نظام ایرانی میزائلوں اور ڈرونوں کو روکنے میں کس حد تک مؤثر ہیں۔

خطے کے عسکری اور تزویراتی ماہر بریگیڈیئر الیاس حنا نے اس پیش رفت کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونوں کا اپنے اہداف تک پہنچ جانا اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ کوئی بھی دفاعی نظام خواہ کتنا ہی جدید کیوں نہ ہو، مکمل اور سو فیصد تحفظ فراہم نہیں کر سکتا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے قبل بھی ایرانی میزائل مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو نشانہ بنا چکے ہیں، حالانکہ صہیونی حکومت کے پاس آئرن ڈوم اور ایرو جیسے جدید فضائی دفاعی نظام موجود ہیں۔

ان کے مطابق امریکی فوجی اڈوں پر تھاڈ اور پیٹریاٹ جیسے دفاعی نظاموں کی موجودگی بھی اس بات کی ضمانت نہیں کہ تمام میزائل یا ڈرون راستے ہی میں تباہ کر دیے جائیں، کیونکہ بعض ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

الیاس حنا نے مزید کہا کہ اگر امریکی فوجیوں کی ہلاکت براہ راست ایرانی حملے کے نتیجے میں ہوئی ہے تو اس سے جنگ کے تزویراتی منظرنامے میں نہیں بلکہ صرف عملیاتی سطح پر تبدیلی آ سکتی ہے، جبکہ مجموعی جنگی حکمت عملی میں فوری طور پر کوئی بنیادی تبدیلی متوقع نہیں۔

دباؤ کے تبادلے کا نیا مرحلہ

الیاس حنا کے مطابق موجودہ واقعات واشنگٹن اور تہران کے درمیان باہمی دباؤ کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اپنی حکمت عملی کو ایران کے خلاف بحری محاصرے کو مزید سخت کرنے اور اس پر معاشی دباؤ بڑھانے پر استوار کیا ہے، جبکہ ایران کا جواب دو متوازی راستوں پر مبنی ہے۔

  1. آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو متاثر کرنا، جس کے اثرات عالمی معیشت اور خطے کے ممالک پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

  1. حملوں کے دائرۂ کار کو جغرافیائی طور پر وسیع کرنا، جس کی مثال اردن کی سرزمین تک حملوں کا پہنچنا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ واشنگٹن نے ابھی تک اردن میں اپنے فوجیوں کی ہلاکت کے واقعے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم الیاس حنا کا ماننا ہے کہ امریکی تحقیقات کے نتائج اور اس کے بعد ممکنہ جوابی کارروائی آئندہ مرحلے کی سمت کا تعین کرے گی، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی اور تصادم کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

اسرائیلیوں کو رات کو بے چینی سے سونا چاہیے: صہیونی جرنل

?️ 29 مارچ 2023سچ خبریں:وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی طرف سے قابض حکومت کے

شام میں امریکی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے ہاتھوں متعدد نوجوان اغوا

?️ 8 جنوری 2022سچ خبریں:سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے نام سے مشہور یکی حمایت یافتہ جنگجوؤں

اسرائیل کے لبنان سے فوری انخلاء کی وجہ کیا ہے ؟

?️ 28 نومبر 2024سچ خبریں: خطے میں امریکہ کے خصوصی ایلچی آموس ہوکسٹین نے الجزیرہ نیوز

حزب اللہ کی جانب سے العصف المأکول جنگ کے دوران صہیونی حکومت کے خلاف کارروائیوں کے جامع اعداد و شمار 

?️ 19 اپریل 2026 سچ خبریں:حزب اللہ لبنان نے صیہونی جارحیت کے خلاف 45 روزہ

میٹا کا 5 بر اعظموں میں زیر سمندر کیبل بچھانے کے منصوبے کا اعلان

?️ 20 فروری 2025سچ خبریں: فیس بک اور انسٹا گرام کی پیرنٹ کمپنی میٹا نے

امریکہ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ

?️ 6 جنوری 2022سچ خبریں:شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کی دھمکیوں کی پرواہ

شہباز شریف کی 37 رکنی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا

?️ 19 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیراعظم شہباز شریف کی 37 رکنی وفاقی کابینہ میں سب

روس کا یوکرین کی توانائی اور نقل و حمل تنصیبات پر بڑا حملہ

?️ 28 جون 2026سچ خبریں:روسی افواج نے یوکرین کی توانائی، ایندھن اور نقل و حمل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے