آبنائے ہرمز کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں، امریکہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا:امریکی میگزین

آبنائے ہرمز

?️

سچ خبریں:امریکی میگزین نیشنل انٹرسٹ نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کو تزویراتی برتری حاصل ہے اور امریکہ اپنی خواہشات مسلط کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ رپورٹ میں آبنائے ہرمز کے مستقبل سے متعلق 3 ممکنہ منظرنامے بھی پیش کیے گئے ہیں۔

امریکی میگزین نیشنل انٹرسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں جغرافیائی خطرات کے تجزیہ کار واسای مر کے حوالے سے لکھا ہے کہ آبنائے ہرمز کے علاقے میں جغرافیائی حالات ایران کے حق میں ہیں اور یہ صورتحال تہران کو نمایاں تزویراتی برتری فراہم کرتی ہے۔

 رپورٹ کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کے شمالی ساحل پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور ساحلی میزائلوں اور تیز رفتار کشتیوں کی مدد سے بغیر کسی بڑے بحری بیڑے کی تعیناتی کے اس حساس آبی گزرگاہ پر مؤثر نگرانی اور کنٹرول برقرار رکھ سکتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو عالمی سمندری راستوں سے ملانے والی واحد آبی گزرگاہ ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل اور بڑی مقدار میں قدرتی گیس منتقل ہوتی ہے۔

 سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی تیل پائپ لائنیں اس مقدار کا صرف ایک محدود حصہ منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اسی لیے آبنائے ہرمز کو نظر انداز کرنا یا اس کا متبادل راستہ اختیار کرنا عملی طور پر ممکن نہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے بندر عباس اور آبنائے ہرمز میں واقع قشم اور لارک جیسے جزیروں پر اپنے فوجی اڈوں کے ذریعے اپنی عسکری پوزیشن کو مزید مضبوط بنایا ہے۔

تجزیہ نگار کے مطابق تہران کے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی لاگت اس حد تک بڑھا دے کہ بیمہ فراہم کرنے والی کمپنیاں اس کے اخراجات برداشت نہ کر سکیں۔

رپورٹ میں آبنائے ہرمز کے مستقبل کے حوالے سے 3 ممکنہ منظرنامے بیان کیے گئے ہیں۔

پہلا منظرنامہ یہ ہے کہ ایران چین، روس، ترکی، بھارت، پاکستان، عراق اور بعض دیگر ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے جبکہ مغربی ممالک کے جہازوں پر پابندیاں یا سختیاں عائد کرے۔

دوسرا منظرنامہ یہ ہے کہ امریکہ فوجی طاقت کے ذریعے آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کی کوشش کرے، لیکن رپورٹ کے مطابق خطے کی جغرافیائی صورت حال کے پیش نظر یہ منصوبہ عملی طور پر قابلِ عمل نہیں۔

اس میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی حملوں کے باوجود حالات پہلے جیسے نہیں ہوئے اور صرف فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

 رپورٹ کے مطابق ایران امریکی حملوں کے مقابلے میں اپنی غیر روایتی عسکری صلاحیت کو زیادہ تیزی سے بحال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی طرح امریکہ کا تجارتی جہازوں کو فوجی حفاظت فراہم کرنے کا منصوبہ بھی علاقائی اور بین الاقوامی حمایت نہ ملنے کے باعث ناکام رہا ہے۔

تیسرا منظرنامہ آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی کے ساتھ بعض اثرات کے برقرار رہنے پر مبنی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے بدلے اس کے جوہری وعدوں کی پاسداری اور جہاز رانی کی آزادی کی ضمانت ایک پائیدار معاہدے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ اس میں یاد دلایا گیا کہ گزشتہ معاہدے کے دوران کچھ عرصے تک آبنائے ہرمز میں معمول کے مطابق جہازوں کی آمد و رفت جاری رہی تھی۔

رپورٹ کے اختتام پر نیشنل انٹرسٹ نے لکھا کہ امریکہ کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ اس تنازع کے حل میں فوجی برتری مؤثر ثابت نہیں ہوئی اور موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد راستہ سیاسی حل اور سفارت کاری ہے۔

مشہور خبریں۔

مس ایڈونچر کیا تو بھارتی نیوی کو بحیرہ عرب میں غرق کر دیں گے، پاک بحریہ

?️ 10 مئی 2025کراچی: (سچ خبریں) پاک فضائیہ کے بعد پاک بحریہ بھی بھارت کو

محاصرے کے باوجود مزاحمتی قوت کو مزید مضبوط کرتے رہیں گے:حماس

?️ 27 مارچ 2025 سچ خبریں:فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ خلیل

افغانستان میں داعش کا اہم سرغنہ گرفتار

?️ 11 اپریل 2021سچ خبریں:افغانستان کے نائب صدر نے کابل میں داعش دہشت گرد گروہ

حماس کی حزب اللہ کی جنگی حکمت عملی کی تقلید

?️ 31 دسمبر 2024سچ خبریں: معاریو اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج  نے

ہیرس نے اپنے اقتصادی منصوبے کی نقاب کشائی کی

?️ 18 اگست 2024سچ خبریں: 5 نومبر 2024 کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹک

پاکستانی اخبار: ٹرمپ کو ایران کے ساتھ سمجھوتے کے لیے اپنی نیت ثابت کرنی ہوگی

?️ 22 اپریل 2026سچ خبریں: پاکستانی اخبار "ڈان” نے آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی جڑ

صہیونی ٹیم کی یمن میں موجودگی کی وجہ کیا ہے ؟

?️ 13 ستمبر 2025سچ خبریں: یروشلم پوسٹ اخبار نے اعلان کیا ہے کہ اس اخبار سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے