صیہونی حکومت کی غزہ میں فتنہ، بھوک اور انسانی بحران کی سازش بے نقاب

صیہونی حکومت کی غزہ میں فتنہ، بھوک اور انسانی بحران کی سازش بے نقاب

?️

سچ خبریں:بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی پشت پناہی سے غزہ میں امدادی سامان کے ذریعے سماجی انتشار اور بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے،اقوام متحدہ، آنروا اور یورپ-میڈیٹرین ہیومن رائٹس سینٹر نے اس خطرناک منصوبے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے امریکی کمپنی کے ذریعے غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم کے طریقہ کار پر شدید تنقید کی ہے اور اسے اسرائیلی حکومت کا ایک خطرناک منصوبہ قرار دیا ہے جو اس علاقے میں سماجی انتشار پھیلانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق، فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی آنروا نے زور دیا ہے کہ امدادی سامان کو غزہ کے تمام شہریوں تک بلامانع اور محفوظ طریقے سے اقوام متحدہ کے توسط سے پہنچایا جائے۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق نے بھی غزہ ہومینیٹرین انسٹیٹیوٹ کے قیام پر سخت اعتراض کیا ہے جو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر غزہ کے شہریوں میں امداد تقسیم کرنے کے لیے بنایا ہے۔ انہوں نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ ادارہ امدادی سامان کو ذلت آمیز طریقے سے بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کو اب تک انتہائی محدود مقدار میں امداد موصول ہوئی ہے،غزہ انسٹیٹیوٹامریکہ کی حمایت سے دانستہ طور پر بچوں کو بھوکا رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آنروا کی طرف سے فراہم کردہ خدمات غزہ کے شہریوں کے لیے بہت اہم ہیں، لیکن اسرائیل کا ردعمل حد سے زیادہ ہے اور وہ عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
اسی دوران، یورپ-میڈیٹرین ہیومن رائٹس سینٹر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی میڈیا کی جانب سے غزہ میں جرائم پیشہ گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے کی خبروں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر بھوک کے ذریعے طاقتور مسلح افراد کو استعمال کر رہا ہے تاکہ امداد کی ترسیل میں خلل ڈالا جا سکے۔ یہ گروہ امدادی سامان کو لوٹتے ہیں، اس کی تقسیم میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور غیر مسلح شہریوں پر گولیاں چلاتے ہیں۔
اس تنظیم نے مزید کہا کہ اسرائیل صرف غزہ کو بھوکا رکھنے پر اکتفا نہیں کر رہا بلکہ دانستہ طور پر یہاں سماجی اور شہری ڈھانچے کو منہدم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ جنگ حماس کے خلاف نہیں بلکہ غزہ کے شہری نظام کو منظم طریقے سے تباہ کرنے کا منصوبہ ہے، عوام کو دانستہ طور پر بھوکا رکھنا ایک جنگی جرم ہے، اور اگر اس کا مقصد فلسطینیوں کا خاتمہ ہو تو یہ نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے۔”
تنظیم نے صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ ان جرائم پیشہ گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنا اسرائیلی فوجیوں کی جان بچانے کے لیے ضروری ہے”۔ بیان کے مطابق یہ موقف بین الاقوامی فوجداری قانون سے متصادم ہے۔
یورپ-میڈیٹرین ہیومن رائٹس سینٹر نے زور دیا کہ اسرائیل نے ایک جعلی کمپنی کے ذریعے امداد کا انتظام سنبھالا ہے اور بھوک کو فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے،تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ غزہ کا محاصرہ ختم کریں، مسلح گروہوں کو غیر مسلح کریں اور امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل کو یقینی بنائیں۔ ساتھ ہی، اسلحہ کی ترسیل اور بھوک کے بطور ہتھیار استعمال کرنے پر آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔

مشہور خبریں۔

آنے والے دنوں میں اسرائیل پر کیا بیتنے والی ہے؟؛ صیہونی تجزیہ نگاروں کی زبانی

?️ 26 نومبر 2023سچ خبریں: صیہونی تجزیہ کار اس حکومت کو درپیش خطرناک مستقبل اور

غزہ شہداء اور زخمیوں کی تازہ ترین تعداد

?️ 18 جون 2026سچ خبریں:غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ 24

پاکستان نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی میں ایران کے مخالفین کو مسترد کر دیا

?️ 17 جون 2025سچ خبریں: پاکستان کے وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ ان کے

قرارداد 2803 کے بارے میں چند نکات غزہ کے لیے امریکی منصوبہ کیوں ناکام ہوا

?️ 28 نومبر 2025سچ خبریں: سلامتی کونسل میں منظور ہونے والی غزہ پر امریکی قرارداد عملاً

اقوام متحدہ غیر مؤثر ادارہ بننے کی جانب گامزن

?️ 28 ستمبر 2025اقوام متحدہ غیر مؤثر ادارہ بننے کی جانب گامزن ایک مغربی میڈیا

امریکی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی 2025 امریکہ کی عالمی برتری کے خاتمے کا باضابطہ آغاز

?️ 7 دسمبر 2025سچ خبریں:امریکہ کی نئی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی 2025 خود امریکہ

ہرتزوگ کا دورہ آنکارا تل ابیب تعلقات کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے: فلسطینی گروہ

?️ 12 مارچ 2022سچ خبریں:  اسرائیل کے صدر اسحاق ہرتزوگ آنکارا اور تل ابیب کے

وزیراعلی سہیل آفریدی کا فیصلہ انتہائی قابل افسوس ہے۔ طلال چوہدری

?️ 20 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وزیراعلی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے