امریکا کی بدنام زمانہ جیل، گوانتاناموبے سے پاکستانی بے گناہ قیدی کو رہائی کا اشارہ مل گیا

امریکا کی بدنام زمانہ جیل، گوانتاناموبے سے پاکستانی بے گناہ قیدی کو رہائی کا اشارہ مل گیا

?️

کیوبا (سچ خبریں)  امریکا کی بدنام زمانہ جیل، گوانتاناموبے جس میں ہزاروں بے گناہ افراد بغیر کسی جرم کے شدید تشدد کا نشانہ بنائے جاتے ہیں اور ان پر دنیا کا ہر ظلم و ستم کیا جاتا ہے ان میں سے ایک پاکستانی بے گناہ قیدی سیف اللہ پراچہ بھی ہیں جنہیں اب 16 سال بعد رہائی کا اشارہ مل گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کیوبا میں امریکا کی بدنام زمانہ جیل گوانتاناموبے میں سیف اللہ پراچہ کی وکیل شیلبی سلیوان بیلس نے بتایا کہ ان کے مؤکل کو القاعدہ سے تعلق رکھنے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا لیکن اس پورے عرصے کے دوران ان پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوسکا۔

انہوں نے بتایا کہ قیدیوں کے نظر ثانی بورڈ نے ان کے ساتھ دو دیگر افراد کو بھی تمام الزامات سے بری کردیا ہے، سیف اللہ پراچہ کی وکیل نے کہا کہ نوٹی فکیشن میں فیصلے کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی اور صرف یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ سیف اللہ پراچہ امریکا کے لیے مسلسل خطرہ نہیں رہے، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ سیف اللہ کی رہائی یقینی ہے لیکن قیدیوں کے نظر ثانی بورڈ کا فیصلہ ان کی وطن واپسی کے لیے اہم ہے اور اس ضمن میں دونوں ممالک کی حکومتیں سیف اللہ کی ملک واپسی کے لیے معاہدہ کریں گی۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے کہا تھا کہ وہ حراستی مرکز کو بند کرنے کی کوششیں دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور یہ عمل سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روک دیا تھا, سیف اللہ پراچہ کی وکیل نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ اگلے کئی مہینوں میں انہیں وطن واپس لایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی انہیں واپس چاہتے ہیں اور ہماری سمجھ بوجھ یہ ہے کہ ان کی واپسی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے, پینٹاگون کے ترجمان نے فوری طور پر اس کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

علاوہ ازیں 2002 میں حراست میں لیے گئے یمنی نوجوان عثمان عبد الرحیم عثمان کو بھی گوانتاناموبے سے نجات مل گئی, ان کے وکیل بیت جیکب نے عثمان کو فون کرکے مطلع کیا۔

سیف اللہ پراچہ جو امریکا میں ہی رہائش پذیر اور نیو یارک سٹی میں جائیداد کی مالک تھے اور پاکستان میں ایک مالدار تاجر تھے, امریکی حکام نے الزام لگایا تھا کہ وہ القاعدہ کا ایک ‘سہولت کار’ ہے انہوں نے 11 ستمبر کے حملے میں مالی مدد فراہم کی تھی, سیف اللہ پراچہ کا مؤقف تھا کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ القاعدہ سے تھے اور دہشت گردی میں ملوث ہونے سے انکار کرتے رہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے سیف اللہ پراچہ کو 2003 میں تھائی لینڈ سے حراست میں لیا اور ستمبر 2004 سے انہیں گوانتانامو میں قید رکھا تھا۔

مشہور خبریں۔

امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سیکورٹی اور فوجی تعاون کو مضبوط بنانے کا معاہدہ

?️ 17 جولائی 2022سچ خبریں:   ریاستہائے متحدہ اور متحدہ عرب امارات کی حکومتوں نے شدید

مضبوط معیشت کے بغیر ملک کی سیکیورٹی ممکن نہیں، معید یوسف

?️ 21 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے

پی ٹی آئی کے حامد زمان کی ضمانت منظور

?️ 23 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچی خبریں) بینکنگ جرائم کی خصوصی عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے

اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو افغانستان سے جنگ ممکن ہے: پاکستان کا انتباہ

?️ 26 اکتوبر 2025سچ خبریں:پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے خبردار کیا ہے

یمن کے خلاف نئی امریکی اور برطانوی پابندیاں

?️ 26 جنوری 2024سچ خبریں:امریکہ اور برطانیہ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ پابندیوں میں

پنجاب میں ہمارے گھروں میں بنا وارنٹ چھاپے مارے جا رہے ہیں،عمرایوب

?️ 26 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا

افواہوں کے سائے میں نیتن یاہو کی جسمانی حالت کی رپورٹ شایع

?️ 17 فروری 2025 سچ خبریں: معاریو اخبار کے مطابق ڈاکٹروں نے اعلان کیا ہے

افغان فوج کی طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری

?️ 27 جون 2021سچ خبریں:افغانستان کےصوبے پروان کی سکیورٹی فورسز کے کوآرڈینیٹر نے آج اعلان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے