?️
کابل (سچ خبریں) افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کو اہم پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں ماضی سے سبق سیکھنا چاہیئے اور اب وقت ہے کہ جنگ کا خاتمہ کیا جائے اور اس کے لیئے طالبان کو اقتدار میں حصہ دیا جائے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے انادولو کی رپورٹ کے مطابق مجاہدین کے جانب سے کابل میں سوویت حکومت کے خاتمے کی 29 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے پیغام میں افغان صدر نے کہا کہ امن عمل میں ماضی کے تلخ تجربات اور دانشمندی سے سبق سیکھنا چاہیے۔
اشرف غنی نے ٹیلی ویژن سے خطاب میں کہا کہ افغانستان میں کوئی بھی جنگ اور تشدد کے ذریعے عوام پر اپنی مرضی کا نفاذ نہیں کرسکتا، اب وقت آگیا ہے کہ طالبان جنگ ترک کریں اور اقتدار میں اشتراک کے لیے جمہوری طریقہ کار اپنائیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ افغانستان سیاسی اور سلامتی کے انتشار میں ڈوب گیا ہے اور یہاں ریڈ آرمی کے خلاف کامیاب ‘جہاد’ کے بعد تباہی دیکھی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان ایک مرتبہ پھر سنگین حالات کا سامنا کر رہا ہے، جہاد کی کامیابی عوام میں ہم آہنگی اور قومی اتحاد کی وجہ سے تھی اور اسی ہم آہنگی اور متحد آواز کے ذریعے ہم پائیدار اور انصاف پسندی تک پہنچ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے رواں سال 11 ستمبر سے قبل امریکی فوجیوں کے افغانستان سے انخلا کا اعلان کرچکے ہیں۔
دوسری جانب افغانستان کے لیے امریکی سفیر زلمے خلیل زاد نے سینیٹ کی خارجی تعلقات کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے جو بائیڈن انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر طالبان افغانستان میں فوجی قبضہ کرتے ہیں تو واشنگٹن اور اس کے حلیف اس پر پابندیاں عائد کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ 40 سال سے جاری افغانستان تنازع کا فوجی حل ممکن نہیں ہے، علاقائی قوتوں کے تعاون سے ملک میں مذاکرات طے پانا اور پائیدار استحکام واحد راستہ ہے۔
زلمے خلیل زاد نے امن کی حمایت میں پاکستان کے کردار پر بھی روشنی ڈالی، ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد کو کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے حل کی حمایت کے لیے طالبان پر اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے رہنماؤں نے عوامی سطح پر اور امریکی عہدیداروں کو باور کرایا ہے کہ وہ طالبان کی جانب سے فوجی قبضے کی حمایت نہیں کرتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نہ صرف افغانستان بلکہ ان کے ملک کو بھی وسیع تر خانہ جنگی کی صورت میں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ان کی تقریر سے چند گھنٹے قبل امریکی محکمہ خارجہ نے امریکی شہریوں کو تجویز دی تھی کہ جو افغانستان سے جانا چاہتے ہیں وہ جلد از جلد وہاں سے چلے جائیں اور غیر ضروری امریکی سفارت خانے کے ملازمین کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا اور کہا کہ افغانستان کے تمام علاقوں کا سفر غیر محفوظ ہے۔


مشہور خبریں۔
بائیڈن اور ٹرمپ صدر بننے کے اہل نہیں ہیں: امریکی عوام
?️ 3 جولائی 2024سچ خبریں: امریکہ میں 72 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ ڈیموکریٹک
جولائی
طالبان کے متعلق ہندوستان کی پالیسی میں تبدیلی
?️ 10 جون 2021سچ خبریں:ہندوستان نے افغان طالبان کے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے
حکومتی اتحادی جماعتوں نے ایک بار پھر عمران خان کو یقین دہانی کرائی
?️ 2 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے
نومبر
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پراکسی وار سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا
?️ 21 اکتوبر 2021سچ خبریں: مشرقی بحیرہ روم کا تنازعہ اور اس مسئلے کو حل
اکتوبر
انسانی حقوق کی دہائی دینے والوں کا اصلی چہرہ
?️ 21 جولائی 2023سچ خبریں: برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین کا کہنا ہے کہ اس ملک
جولائی
تائیوان امریکی فوجیوں کی ممکنہ دلدل / کیا وائٹ ہاؤس ویت نام کے تلخ تجربے کو دہرائے گا؟
?️ 17 اکتوبر 2021سچ خبریں: اس سال اکتوبر کے آغاز کے بعد سےصورتحال اس طرح
اکتوبر
علی باقری حکومت کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ
?️ 20 مئی 2024سچ خبریں: علی باقری کنی، سیاسی نائب وزیر برائے خارجہ امور اور ایران
مئی
سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی ثالثی عدالت نے پاکستان کے موقف کی تائید کردی
?️ 28 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سندھ طاس معاہدے پر ثالثی عدالت نے اپنے
جون