جنگ اور صحافیوں کی جان

صحافیوں

?️

سچ خبریں: غزہ کی جنگ صحافیوں کے لیے قتل گاہ بن چکی ہے۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق 7 اکتوبر سے شروع ہونے والی غزہ جنگ میں اب تک صیہونی حکومت کے حملوں 35 صحافی مارے جا چکے ہیں جبکہ 8 صحافی زخمی اور 9 صحافی لاپتہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: صحافیوں کے ساتھ صیہونی حکومت کا سلوک

غزہ پر صیہونی حکومت کے حملے کے درمیان صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی نے انٹرنیٹ اور مواصلاتی آلات کو منقطع کرنے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدام سے معلومات حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

گزشتہ سال صحافیوں کی ہلاکتوں میں 30 فیصد اضافہ
انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے گزشتہ سال اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ اس سال دنیا میں 67 صحافیوں کی ہلاکتیں ہوئیں جبکہ اس سے پچھلے سال میں یہ تعداد 47 تھی، اس بین الاقوامی فیڈریشن نے یہ بھی کہا کہ رواں سال میں صحافیوں کی اموات میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔

20 سالوں میں 1700 صحافیوں کی ہلاکت
رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز تنظیم نے بھی گزشتہ سال کہا تھا کہ 2003 سے 2022 کے درمیان صحافیوں کے لیے مہلک سال رہے ، ان دو دہائیوں کے دوران دنیا میں تقریباً 1700 صحافی مارے گئے۔

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز آرگنائزیشن کے مطابق گزشتہ 20 سالوں کے دوران شام اور عراق صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں شامل رہے ہیں ، ان دونوں ممالک میں 578 صحافی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ،یہ اعدادوشمار دنیا میں مارے جانے والے صحافیوں کا ایک تہائی ہے۔

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ شام میں جنگ کی وجہ سے 2012 اور 2013 صحافیوں کے لیے سیاہ ترین سال تھے، ان دو سال میں اس ملک میں 142 صحافی ہلاک ہوئے۔

اگرچہ 2019 سے صحافیوں کی ہلاکتوں میں غیر معمولی کمی آئی ہے تاہم 2022 میں یوکرین جنگ کے باعث صحافیوں کی ہلاکتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کی رپورٹ میں دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران منظم جرائم اور بدعنوانی کی تحقیقات کی وجہ سے بہت سے صحافی محفوظ علاقوں میں ہلاک ہوئے۔

تاہم جنگوں، مقامی تنازعات، فسادات اور قدرتی آفات جیسے غیر محفوظ بحرانی حالات میں صحافیوں کی موجودگی ان تقاضوں سے مشروط ہے جن پر اگر توجہ دی جائے تو نقصان پہنچنے کا امکان کم ہے۔

صحافی میدان جنگ اور بحران زدہ علاقوں میں موجود سب سے زیادہ بے دفاع لوگوں میں سے ہیں، جن کی ذمہ داری موجودہ حالات سے آگاہ کرنا ہے اور تمام قومی اور بین الاقوامی اداروں اور اداروں کا فرض ہے کہ وہ ان کی جان بچانے سے غافل نہ ہوں۔

مزید پڑھیں: ایسی فوج جو صحافیوں پر بھی براہ راست گولی چلاتی ہے

قابل ذکر ہے کہ اس وقت غزہ کے آس پاس کے علاقوں میں صحافیوں کی موجودگی ایسی حالت میں کہ جب اسرائیل کی مجرم حکومت میزائلوں کی بارش کرنے، فضائی حملوں اور مختلف اہداف پر حملے کرنے سے دریغ نہیں کرتی، یقینی طور پر ضروری اقدامات کر کے یہ صحافی کامیابی اور بحفاظت غزہ کے مظلوموں اور صیہونی حکومت کے وحشیانہ جرائم کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی اپنی ذمہ داری کو پورا کر سکیں۔

مشہور خبریں۔

الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ممنوعہ فنڈز ضبط کرنے کا عمل شروع کر دیا

?️ 25 مارچ 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز جاری کیے گئے

نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا کے لیے کہاں تک گِر سکتے ہیں؟ سینیگال کے وزیر اعظم کی زبانی

?️ 1 ستمبر 2024سچ خبریں: سینیگال کے وزیر اعظم عثمان سونکو نے اسرائیل کے وزیر

ترکی نے عراق میں بڑے پیمانے پر فضائی اور زمینی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا

?️ 18 اپریل 2022سچ خبریں:  ترکی کی وزارت دفاع نے شمالی عراق میں PKK کے

ہم متحد چین کے اصول کو مانتے ہیں: نائیجیریا

?️ 14 اگست 2022سچ خبریں:   نائیجیریا کے صدارتی دفتر کی ترجمان فیمی آدیسینا نے ہفتے

مزید کوٹہ نہیں دے رہے، نجی شعبہ کے تحت 25 ہزار 698 عازمین فریضہ حج ادا کر سکیں گے، وزیر مذہبی امور

?️ 24 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے واضح

کیا دنیا غزہ کے لوگوں کی نسل کشی کو بھول چکی ہے ؟

?️ 4 مئی 2025سچ خبریں: اسرائیل کے ہاتھوں غزہ کے لوگوں کے قتل عام کو

وفاقی شرعی عدالت نے سودی نظام غیرشرعی قرار دے دیا۔

?️ 28 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وفاقی شرعی عدالت نے ملک میں رائج سودی نظام کے

وزیر اعظم کی پریانتھاکمارا کی بیوہ کو رقم عطیہ کرنے پر تاجر برادری کی تعریف

?️ 18 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان نے سری لنکن شہری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے