?️
سچ خبریں:قطبِ شمال کے قدرتی وسائل، اسٹریٹجک بحری راستوں اور فوجی اہمیت نے اسے عالمی طاقتوں کے درمیان ممکنہ جنگ کا نیا مرکز بنا دیا ہے، جہاں روس، امریکہ، چین اور نیٹو اثر و رسوخ بڑھانے کی دوڑ میں شامل ہیں۔
الجزیرہ نیوز چینل نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ قطبِ شمال عالمی طاقتوں کے درمیان نئی جنگ کا مرکز بن رہا ہے کیونکہ اس کے مواصلاتی راستے، غیر استعمال شدہ قدرتی وسائل اور اسٹریٹجک عناصر اسے مستقبل میں بڑی طاقتوں کے درمیان ممکنہ تصادم کا میدان بنا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وسطی ایشیا میں روس اور چین کے ساتھ امریکہ کا مقابلہ؛ ٹرمپ کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق قطبِ شمال عالمی اقتصادی اور جیوپولیٹیکل معاملات میں تیزی سے اہمیت اختیار کر رہا ہے اور رفتہ رفتہ روس، چین اور امریکہ سمیت کئی ممالک کے درمیان کشیدگی کا محور بنتا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ممالک بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور آئس بریکر جہازوں کے بیڑے کی تیاری میں شدید بین الاقوامی مقابلہ کر رہے ہیں، جو اس خطے کو مستقبل کی جنگ کا میدان بنا سکتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق روس قطبِ شمال کے بحری راستے کے بنیادی ڈھانچے میں اپنی سرمایہ کاری بڑھا رہا ہے، اپنے اسٹریٹجک بیڑے کو جدید بنا رہا ہے اور خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو وسعت دے رہا ہے۔ اسی دوران امریکہ قطبِ شمال میں اپنا سیاسی اثر و رسوخ مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ اور کینیڈا کو امریکہ میں شامل کرنے کے بیانات بھی اسی مسابقت کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ چین بھی اس خطے میں اپنی سائنسی اور لاجسٹک سرگرمیوں کو بڑھا رہا ہے تاکہ یورپ اور امریکہ تک مختصر تر تجارتی راستے حاصل کر سکے۔ دوسری طرف نیٹو بھی قطبِ شمال میں اپنی پوزیشن مضبوط بنا رہا ہے اور فوجی موجودگی میں اضافہ کر رہا ہے۔
قطبِ شمال کی اہمیت تین بنیادی عوامل پر مبنی ہے، قدرتی وسائل کی کثرت، بحری نقل و حمل کے اہم راستے اور منفرد جغرافیائی و عسکری حیثیت۔
قطبِ شمالی خطہ یوریشیا اور شمالی امریکہ کے حصوں پر مشتمل ہے اور تقریباً پورے منجمد شمالی بحرِ منجمد اور اس کے جزیروں کو گھیرے ہوئے ہے۔ اس کا رقبہ تقریباً ستائیس ملین مربع کلومیٹر ہے اور اس میں توانائی کے وسیع ذخائر، معدنیات اور نایاب اسٹریٹجک عناصر موجود ہیں۔ اس خطے کے پانیوں میں ڈیڑھ سو سے زائد اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں۔
روس، ناروے، ڈنمارک، کینیڈا اور امریکہ براہ راست قطبِ شمال تک رسائی رکھتے ہیں جبکہ آئس لینڈ، سویڈن اور فن لینڈ آرکٹک کونسل کے رکن ہیں۔ یورپی یونین، نیٹو اور چین، بھارت اور جاپان جیسے ممالک بھی اس خطے میں فعال ہیں۔
چین نے جنوری دو ہزار اٹھارہ میں اپنی پہلی آرکٹک پالیسی وائٹ پیپر جاری کی جس میں پولر سلک روڈ کے تحت بحری تجارتی راستوں کی ترقی کا اعلان کیا گیا۔ چین تیل، گیس اور معدنیات کی تلاش میں بھی سرگرم ہے اور آئس بریکر جہازوں کی تعمیر کر رہا ہے۔
اگرچہ چین کو براہ راست قطبِ شمال تک رسائی نہیں مگر وہ بین الاقوامی بحری قوانین کے تحت سائنسی تحقیق، قدرتی وسائل کی تلاش اور آزادانہ جہاز رانی کا حق تسلیم کرواتا ہے۔
بھارت بھی قطبِ شمال میں دلچسپی دکھا رہا ہے اور آئس بریکر جہاز تیار کر رہا ہے جبکہ جاپان نقل و حمل، توانائی اور مواصلاتی نیٹ ورکس پر توجہ دے رہا ہے۔
امریکہ روس اور چین کو قطبِ شمال میں اپنی حکمتِ عملی کے لیے بڑا خطرہ سمجھتا ہے، جیسا کہ مارچ دو ہزار پچیس کی انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا۔ امریکہ کے مطابق چین اگرچہ قطبی طاقت نہیں مگر عملی طور پر اس خطے کو اپنی خارجہ پالیسی اور اقتصادی منصوبوں میں شامل کر چکا ہے۔
روس کے لیے قطبِ شمال قومی سلامتی کا بنیادی حصہ ہے اور اس کے پاس مرکزی فوجی کمان، فضائی اڈے، بندرگاہیں، مواصلاتی نظام اور فضائی دفاع موجود ہے، جس پر امریکہ مسلسل تشویش ظاہر کرتا ہے۔
روس کے لیے شمالی بحری راستہ انتہائی اہم ہے اور وہ اسے اپنا قومی بحری علاقہ سمجھتا ہے جبکہ امریکہ اسے بین الاقوامی پانی تسلیم کرتا ہے۔
شمالی بحری راستہ یورپ کو ایشیا پیسیفک سے جوڑنے والا مختصر ترین راستہ ہے جس میں ستر سے زائد بندرگاہیں شامل ہیں اور یہ ایل این جی برآمدات کے لیے اہم ہے۔
سوویت یونین نے انیس سو انسٹھ میں پہلا جوہری آئس بریکر لینن لانچ کیا تھا اور انیس سو اٹھتر سے سال بھر جہاز رانی ممکن ہوئی۔
روس کے پاس اکتالیس آئس بریکر جہاز ہیں جن میں آٹھ جوہری ہیں، جبکہ کینیڈا کے انیس، فن لینڈ کے دس، سویڈن کے پانچ، امریکہ کے تین اور چین کے دو آئس بریکر ہیں۔
تاہم اس راستے کی قانونی حیثیت متنازع ہے کیونکہ امریکہ اسے روسی داخلی پانی تسلیم نہیں کرتا۔ اس کے علاوہ غیر قطبی ممالک کی بڑھتی دلچسپی خطے میں وسائل کی بین الاقوامی تقسیم کے دباؤ کو بڑھا رہی ہے۔
قطبِ شمال میں درجہ حرارت عالمی اوسط سے دوگنا تیزی سے بڑھ رہا ہے اور برفانی چادر ہر دہائی میں تیرہ فیصد کم ہو رہی ہے، جس سے نئے راستے اور وسائل تک رسائی ممکن ہو رہی ہے۔
اس صورتحال میں روس اپنی فوجی موجودگی مضبوط کر رہا ہے جبکہ چین خود کو نیم قطبی ملک قرار دے کر اس خطے میں سرگرم ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں:امریکہ نے وینزویلا سے روس، چین، ایران اور کیوبا سے تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا ہے
الجزیرہ کا اندازہ ہے کہ دو ہزار تیس تک قطبِ شمال عالمی طاقتوں کے درمیان شدید تناؤ کا میدان بن سکتا ہے، خاص طور پر شمالی بحری راستے پر کشیدگی ایک عالمی تصادم کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔


مشہور خبریں۔
اف بی آئی کی جانب سے ٹرمپ کی حویلی میں جوہری ہتھیاروں کی تلاش جاری
?️ 12 اگست 2022سچ خبریں: برطانوی اخبارگارڈین نے خبر دی ہے کہ فلوریڈا کے
اگست
کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی واردتوں پر سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع
?️ 31 مارچ 2024کراچی: (سچ خبریں) کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی واردتوں پر سندھ اسمبلی
مارچ
ایکس پر خبروں کی ہیڈلائن دوبارہ دکھانے کا اعلان
?️ 26 نومبر 2023سچ خبریں: مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) کے مالک ایلون مسک
نومبر
شب برات کے موقع پر جامع مسجد سرینگر میں کشمیریوں کو عبادات سے روکنے کی مذمت
?️ 14 فروری 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں
فروری
الیکشن ملتوی کروانے کی ایک اور قرارداد سینیٹ میں جمع
?️ 14 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات ملتوی
جنوری
غزہ جنگ میں صیہونیوں کو ہتھیار فراہم کرنے والے ممالک
?️ 14 مئی 2024سچ خبریں: 7 ماہ سے زائد عرصے سے فلسطینیوں کی نسل کشی
مئی
غزہ کے کتنے لوگ لاپتہ ہیں؟
?️ 13 دسمبر 2023سچ خبریں: غزہ کی سول انتظامیہ کے اعدادوشمار کے مطابق اس پٹی
دسمبر
صیہونی وزیر اعظم کا سیاست کو خیرآباد
?️ 28 جون 2022سچ خبریں:اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے صرف ایک سال کی اپنی
جون