?️
راولپنڈی: (سچ خبریں) راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 190 ملین پاؤنڈ کے ریفرنس میں بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو 14 سال قید اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنا دی۔
ڈان نیوز کے مطابق احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے عمران خان پر 10 لاکھ اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا، جرمانے کی عدم ادائیگی پر عمران خان کو مزید 6 ماہ جب کہ بشریٰ بی بی کو 3 ماہ کی قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔
احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو بھی سرکاری تحویل میں لینے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
فیصلہ سنانے کے وقت بانی پی ٹی آئی کو پیش کیا گیا، سابق خاتون اول بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل کی عدالت میں موجود رہیں، نیب پراسیکیوشن ٹیم کے 3 اراکین بھی اڈیالہ جیل میں تھے، تفتیشی افسر ڈپٹی ڈائریکٹر نیب میاں عمر ندیم بھی اڈیالہ جیل کی عدالت پہنچ گئے تھے۔
احتساب عدالت اسلام آباد نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ وکلائے صفائی استغاثہ کی شہادتوں کو جھٹلا نہیں سکے، استغاثہ کا مقدمہ دستاویزی شہادتوں پر تھا، جو درست ثابت ہوئیں۔
تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کےدفاع میں پیش کی گئی دستاویزی شہادتیں بھی بے وقعت تھیں، استغاثہ نےٹھوس مستند،مربوط، ناقابل تردید، قابل اعتماد، شہادت پیش کی، معمولی تضادات ہوسکتےہیں جو وائٹ کالرکرائم میں فطری بات ہے۔
فاضل جج کی جانب سے تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بار بار مواقع ملنے کے باوجود استغاثہ کے موقف کو جھٹلایا نہیں جاسکا، ملزمان کےدفاع میں پیش کی گئی دستاویزی شہادتوں کی حیثیت نہیں تھی۔
190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سزا سنانے کے بعد احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے سزا کا وارنٹ جیل انتظامیہ کو بھیج دیا، بشری بی بی کی سزا کا وارنٹ جیل انتظامیہ کو بھیجا گیا ہے۔
سزا کے وارنٹ میں کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کو نیب کے سیکشن 10 اے کے تحت 7 سال قیل قید کی سزا کا حکم سنایا گیا ہے، 5 لاکھ روپے جرمانہ اور عدم ادائیگی پر مزید 3 ماہ قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔
قانونی ماہر اشتر اوصاف نے ڈان نیوز سے گفتگو میں کہا کہ عدالت نے کیس میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے ہیں، کابینہ ارکان سے بھی حقائق چھپائے گئے، عمران خان پر بطور وزیر اعظم اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات بھی تھے، انہوں نے وزیراعظم ہوتے ہوئے ٹرسٹ بنایا، شہزاد اکبر ان کے معاون خصوصی تھے، برطانوی ادارے کو بھی گمراہ کیا گیا، یہ سارا معاملہ براہ راست سابق وزیر اعظم خود دیکھ رہے تھے۔
ماہر قانون راجا خالد نے ڈان نیوز سے گفتگو میں کہا کہ یہ اوپن اینڈ شٹ کیس تھا، برطانوی کرائم ایجنسی کی جانب سے قومی خزانے میں جمع کروانے کے لیے دیے جانے والے 190 ملین پاؤنڈ کی خطیر رقم بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض کے جرمانے کی ادائیگی کے لیے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع کروائی گئی، اور بدلے میں مالی فوائد حاصل کیے، عمران خان نے بطور وزیر اعظم کابینہ سے بھی جھوٹ بولا، حقائق چھپائے، بند لفافے میں تفصیلات رکھ کر کابینہ کی منظوری لی گئی۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آج شرمناک فیصلہ سامنے آیا ہے، نواز شریف کے بیٹے نے کئی ارب کی پراپرٹی خریدی لیکن ان سے کوئی سوال نہیں ہوا، یہ جائیداد ملک ریاض کو بیچی گئی، آپ ایون فیلڈ بنائیں، منی لانڈرنگ کریں، لندن میں جائیداد بنالیں، کیس معاف کروا لیں، یہ سیاست کی یا پاکستان کی سیاسی اخلاقیات کی کم ترین سطح تھی، میں آج کے فیصلے کی مذمت کرتا ہوں، ہم اعلیٰ عدالتوں سے رجوع سمیت ہر حد تک جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سیرت النبیﷺ کی تعلیم اور دینی علوم کے لیے جامعہ بنانے پر سزا دی گئی۔
قبل ازیں فیصلہ سنانے سے پہلے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2 سال سے زیادتیاں ہورہی ہیں، اگر انصاف پر مبنی فیصلہ ہوا تو بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی بری ہوں گے۔
پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا نے اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ فیصلہ جو بھی ہوگا ہمیں کوئی اچھی امید نہیں، ہم اس کو اعلیٰ عدالتوں میں بھی لڑیں گے، بانی پیچھے نہیں ہٹے اپنے اصولی موقف ہر قائم ہیں۔
یاد رہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ تین بار پہلے مؤخر کیا گیا تھا۔
قبل ازیں احتساب عدالت کے عملے نے پی ٹی آئی وکلا کو اس حوالے سے آگاہ کر دیا تھا کہ کیس کا فیصلہ صبح ساڑھے 11 بجے سنایا جائے گا، احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا محفوظ شدہ فیصلہ سنائیں گے۔
خیال رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس ٹرائل ایک سال کے عرصے میں مکمل ہوا، نیب ریفرنس کا ٹرائل گزشتہ سال 18 دسمبر کو مکمل ہوا تھا، کیس کا فیصلہ ابتدائی طور پر 23 دسمبر کو سنایا جانا تھا۔
بعد ازاں عدالت نے چھٹیوں اور کورس کے باعث سماعت ملتوی کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیس کا فیصلہ 6 جنوری کو سنایا جائے گا۔
تاہم، 6 جنوری کو بھی فیصلہ نہیں سنایا جاسکا اور یہ ایک بار پھر موخر کردیا گیا تھا۔
13 جنوری کو ہونے والی سماعت کے دوران احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید 9 بجے سے کمرہ عدالت میں موجود تھے تاہم عمران خان، بشریٰ بی بی اور ان کے وکلا کمرہ عدالت میں نہیں پہنچے۔
14 جنوری کو احتساب عدالت کی جانب سے تحریری حکمنامہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے طلب کیا گیا مگر بانی پی ٹی آئی نے کمرہ عدالت آنے سے انکار کیا۔
احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید کی جانب سے تحریر کیے گئے فیصلے میں کہا گیا کہ 2 گھنٹے انتظار کے باوجود ملزمان عدالت میں پیش نہ ہوئے، عمران خان نے فیصلہ سننے کے لیے کمرہ عدالت آنے سے انکار کیا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ریفرنس کا فیصلہ اب 17 جنوری کو سنایا جائےگا، آئندہ تاریخ پر ملزمان اور متعلقہ افراد بر وقت حاضری یقینی بنائیں۔


مشہور خبریں۔
کولمبیا کا مطالبہ: یورپ اور لاطینی امریکہ اسرائیل کے ساتھ معاہدے معطل کریں
?️ 15 اپریل 2026سچ خبریں: کولمبیا کے صدر نے لاطینی امریکہ اور یورپی ممالک سے
اپریل
صیہونی جاسوس کے ہیڈکوارٹر پر ایران کے میزائل حملے کے 4 اہم پیغامات
?️ 16 مارچ 2022سچ خبریں: اپنے نئے مضمون میں خطے کے عسکری ماہر اور اسٹریٹجک
مارچ
ریونیو میں کمی کے باوجود حکومت کا بینکوں سے قرض پر انحصار سے گریز
?️ 5 مارچ 2025کراچی: (سچ خبریں) ٹیکس جمع کرنے میں کمی کے باوجود وفاقی حکومت
مارچ
عالمی برادری تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت پر دباؤ بڑھائے ، حریت کانفرنس
?️ 23 اگست 2025سرینگر: (سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس نے عالمی برادری سے اپیل
اگست
الجزیرہ کا برطانوی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا راز فاش
?️ 25 ستمبر 2022سچ خبریں:الجزیرہ نے اعلان کیا کہ اس نے برطانوی لیبر پارٹی کے
ستمبر
وینزویلا پر حملے کا مقصد دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر تک رسائی ہے
?️ 4 جنوری 2026 وینزویلا پر حملے کا مقصد دنیا کے سب سے بڑے تیل
جنوری
الاخبار کا انکشاف: نیتن یاہو لبنان پر بڑے پیمانے پر زمینی حملہ کرنا چاہتے ہیں
?️ 2 مئی 2025سچ خبریں: الاخبار اخبار نے صیہونی حکومت کے لبنان پر بڑے زمینی
مئی
امریکہ یوکرین میں جنگ کو ہوا دینے کی کوشش کر رہا ہے:چینی میڈیا
?️ 19 مارچ 2023سچ خبریں:چینی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین اور روس کے
مارچ