آبنائے ہرمز سے باب المندب تک؛ متعدد ناکہ بندیوں نے عالمی معیشت کے ساتھ کیا کیا؟

عالمی

?️

سچ خبریں:ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز اور باب المندب میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ سعودی تیل کی ترسیل، عالمی منڈی اور ایندھن کی قیمتوں پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت جمعرات کو 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جس کے بعد ماہرین کی توجہ اس بات پر مرکوز ہو گئی ہے کہ یمن کی انصار اللہ تحریک بحیرۂ احمر سے کن جہازوں کو گزرنے کی اجازت دیتی ہے، کیونکہ ان کے بقول یہی فیصلہ آئندہ خام تیل کی عالمی منڈی کی سمت متعین کرے گا۔

برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 6.58 ڈالر (6.96 فیصد) اضافے کے بعد 100.65 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جو مئی کے آخر کے بعد پہلی مرتبہ 100 ڈالر کی حد سے اوپر گئے ہیں۔

یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد انصار اللہ نے بھی اس بحری راستے کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا جس کے ذریعے سعودی عرب اپنے خام تیل کا ایک حصہ برآمد کرتا ہے۔

انصار اللہ نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ سعودی عرب، اسرائیل اور امریکہ سے وابستہ آئل ٹینکروں پر باب المندب میں حملے کریں گے، جو بحیرۂ احمر کو بحرِ ہند سے ملانے والی اہم آبی گزرگاہ ہے۔

جمعرات کو انصار اللہ نے دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی خبر رساں ادارے نے بعد میں تصدیق کی کہ ان میں سے ایک جہاز میں آگ لگ گئی تھی۔

بحری تجزیاتی ادارے ونڈورڈ کے مطابق یہ واضح نہیں کہ دوسرا جہاز بھی حملے کی زد میں آیا یا نہیں۔

ادارے کی سینئر میری ٹائم انٹیلی جنس تجزیہ کار میشل باکمن نے کہا کہ انصار اللہ کی حکمت عملی مکمل طور پر متغیر ہے اور ناکہ بندی کی حدود واضح نہیں ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت خاص طور پر اس بات پر نظر رکھی جا رہی ہے کہ آیا سعودی بندرگاہ ینبع سے روانہ ہونے والے چینی آئل ٹینکر باب المندب سے گزر سکتے ہیں یا نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انصار اللہ ماضی میں ڈرون کے پرزہ جات سمیت بعض ضروریات کے لیے چین پر انحصار کرتے رہے ہیں، اسی لیے چینی جہازوں کو ماضی میں نسبتاً آزادانہ آمدورفت حاصل رہی ہے۔

ونڈورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق 20 جولائی کو باب المندب سے گزرنے والا ایک سعودی تیل بردار جہاز، جس کا عملہ اور منزل چین تھی، بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے راستے پر گامزن رہا۔

ادارے کے مطابق موجودہ صورتحال میں پابندی کا انحصار کارگو پر نہیں بلکہ جہاز کے وابستہ فریق پر ہے، یعنی ناکہ بندی اس بات کا تعین کر رہی ہے کہ سعودی تیل کون منتقل کرے گا، نہ کہ یہ کہ تیل منتقل ہوگا یا نہیں۔

میشل باکمن کے مطابق انصار اللہ بخوبی جانتے ہیں کہ عالمی منڈی میں شدید ردعمل پیدا کرنے کے لیے ہمیشہ بڑے پیمانے کی کارروائی ضروری نہیں ہوتی۔

متعدد آبنائے عالمی منڈی کے لیے نیا خطرہ

سینٹر فار اے نیو امریکن سیکیورٹی کی سینئر فیلو ریچل زمبا نے کہا کہ باب المندب میں پیدا ہونے والا تعطل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے بحران کے بعد عالمی خام تیل کے ذخائر ابھی مکمل طور پر بحال نہیں ہوئے۔

ان کے مطابق دنیا اب ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں متعدد اہم آبی گزرگاہیں ایک ساتھ دباؤ کا شکار ہیں اور ساحلی ممالک اپنے جغرافیائی محل وقوع کو ایک مؤثر تزویراتی دباؤ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

ڈیزل کی قیمتیں بھی شدید متاثر

آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش اور باب المندب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے صرف خام تیل ہی نہیں بلکہ ایندھن کی قیمتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

امریکہ میں پٹرول کی اوسط قیمت بڑھ کر 4.09 ڈالر فی گیلن جبکہ ڈیزل کی قیمت 5.34 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔

گیس بڈی کے تیل تجزیہ کار پیٹرک ڈی ہان کے مطابق خام تیل میں حالیہ اضافہ آئندہ ایک سے دو ہفتوں میں امریکی صارفین کے لیے فی گیلن پٹرول کی قیمت میں 10 سے 20 سینٹ تک مزید اضافہ کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیزل کی قیمتیں نسبتاً زیادہ متاثر ہوئی ہیں، جس کی ایک وجہ یوکرین کے ڈرون حملوں کے باعث روس کی بعض آئل ریفائنریوں کی بندش بھی ہے، جس کے نتیجے میں روس نے ڈیزل کی برآمدات محدود کر دی ہیں۔

ان کے مطابق خام تیل کی برآمد ایک مسئلہ ہے، لیکن پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول کی مسلسل فراہمی اس سے کہیں زیادہ اہم معاملہ ہے۔

چین کا کردار بھی غیر یقینی

ماہرین کے مطابق اس بحران میں ایک اہم اور غیر متوقع عنصر چین بھی ہے، جس نے گزشتہ چند ماہ کے دوران خام تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی کی ہے، جس سے عالمی طلب میں کمی آئی اور قیمتوں کو استحکام ملا۔

پیٹرک ڈی ہان کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ چین اپنے تزویراتی ذخائر استعمال کر رہا ہے یا دوبارہ بڑے پیمانے پر درآمدات شروع کرے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے ساتھ ساتھ امریکہ میں آنے والا سمندری طوفانوں کا موسم بھی عالمی ریفائننگ صلاحیت اور تیل کی قیمتوں کے لیے ایک نیا غیر متوقع خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

صیہونی حکومت کی ایک بڑی ویب ہوسٹنگ کمپنی ہیک

?️ 30 اکتوبر 2021سچ خبریں:اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ ہیکر گروپ "بلیک شیڈو” نے مقبوضہ

وزیراعظم کی اشیاء خورونوش کی خلیجی ممالک کو برآمد کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت

?️ 25 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت آج

دمشق کو تنہا کرنے کی امریکہ کی سازش ناکام ہو گئی: عطوان

?️ 2 مئی 2023سچ خبریں:گزشتہ چند سالوں کے دوران عرب ممالک نے شام پر پابندیاں

سعودی عرب کو روس کے ساتھ تعاون مہنگا پڑ سکتا ہے:بائیڈن

?️ 13 اکتوبر 2022سچ خبریں:امریکی صدر نے کہا کہ روس کے تعاون سے تیل کی

ٹرمپ: میں کم جونگ ان سے ملنا چاہتا ہوں

?️ 27 اگست 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے جنوبی کوریا کے ہم

امریکی قابضین کے ہاتھوں شام کے 70 آئل ٹینکرز چوری

?️ 17 مئی 2022سچ خبریں:امریکی فوج نے ایک بار پھر شام کا تیل چوری کرکے

وزیراعظم کا بڑا اعلان؛ صنعتوں کے لیے بجلی سستی کردی

?️ 30 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کاروباری برادری اور صنعتوں

صیہونی فوج نے ایک بار پھر اپنی اصلیت دکھا دی

?️ 15 جون 2023سچ خبریں:نابلس پر صیہونی فوج کے حملے کے چند گھنٹے بعد ان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے