کسی سیاسی جماعت کو انتخابی عمل سے روکنے کیلئےاحکامات جاری نہیں کیے گئے، نگران وزیراعظم

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو عام انتخابات کے لیے معاونت فراہم کرنے کی ذمہ داری پوری کریں گے اور کسی بھی سیاسی جماعت کو انتخابی عمل سے روکنے کے لیے کوئی انتظامی احکامات جاری نہیں کیے گئے۔

سرکاری خبر ایجنسی ’اے پی پی‘ کے مطابق وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو انتخابی عمل سے روکنے کے لیے کوئی انتظامی احکامات جاری نہیں کیے گئے۔

نگران وزیراعظم نے کہا کہ نگراں حکومت نے کوئی بھی قدم ماورائے آئین و قانون نہیں اٹھایا، معیشت سمیت دیگر چیلنجز کا سامنا ہے، نگراں حکومت کو گورننس کے مسائل بھی ہیں، روزمرہ کے معاملات حل کرنا ضروری ہوتا ہے، بروقت معاشی فیصلہ نہ کرنے سے لوگوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، اسی لیے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ایسے فیصلے کریں جن سے عوام پر دوررس اثرات مرتب ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق حکومت نے انتخابات کے معاملے پر قانون سازی کی ہے اور انتخابات کرانے کا مینڈیٹ الیکشن کمیشن کو دیا ہے، نگراں حکومت انتخابی عمل میں الیکشن کمیشن کی معاونت کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لینا ہے اور اپنے امیدوار نامزد کرنے ہیں اور ہمارا کام فنڈز کی فراہمی سمیت دیگر معاونت ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر نے انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کو تجاویز دی ہیں، اس بارے میں نگراں حکومت کی صدر مملکت سے مشاورت کوئی قانونی تقاضا نہیں۔

نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ انتخابات کے دوران سیاسی جماعتیں اپنے تاثر سے ووٹر کو راغب کرتی ہیں، نگران حکومت شفاف، غیرجانب دارانہ اور منصفانہ انتخابات یقینی بنائے گی، کسی جماعت کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جو جماعت الیکشن کمیشن میں رجسٹر ہے، اس سے انتخابات میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے، 9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ کے واقعات ہوئے جس کو عالمی اور قومی میڈیا میں دکھایا گیا، جس کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی گئی اور ذمہ داروں کو گرفتار کیا گیا، لہٰذا اسے سیاسی عمل میں شمولیت پر قدغن سے نہیں جوڑا جا سکتا، صرف جنہوں نے قانون کی خلاف ورزی کی ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں مقیم افعان شہریوں کی تین کیٹگریز ہیں، ان میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تعداد 17 لاکھ ہے، ان کو نکالنے کی کسی نے بات نہیں کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم عالمی وعدوں اور اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا تحفظ قیام یقینی بنائیں گے، دوسرے وہ لوگ ہیں جنہوں نے رجسٹریشن نہیں کرائی، انہیں رہنے کا حق نہیں کیونکہ رجسٹریشن کے بغیر معلوم نہیں کہ وہ کس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانوں کے علاوہ دیگر ممالک کے شہری بھی اس میں شامل ہیں، پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم تمام شہریوں کو ان کے وطن واپس بھیج دیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ تیسری کیٹگری میں وہ لوگ ہیں جنہوں نے جعلی پاسپورٹس اور شناختی کارڈ بنا رکھے ہیں، ان کو نکالا جائے گا، یہ ہر ریاست کا قانونی حق بھی ہوتا ہے، بغیر ویزا، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے کسی ملک کا شہری دوسرے ملک میں کاروبار، ملازمت اور تعلیم حاصل نہیں کر سکتا، ہم قانونی طریقہ کار کے تحت اقدامات کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے بلوچستان کو بہت زیادہ مواقع ملے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی تعیناتی سنیارٹی کی بنیاد پر ہوئی، ان کی خدمات قابل تعریف ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی کو سیاسی اختلاف کی بنیاد پر گرفتار نہیں کیا جاتا، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کو سیاسی رائے سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔

مشہور خبریں۔

امریکہ یوکرین کے فوجی حل پر اصرار کرنا بند کرے: چین

?️ 21 اپریل 2023سچ خبریں:چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے کہا کہ

چین کی 46 امریکی کمپنیوں پر پابندی

?️ 22 جون 2026سچ خبریں:چین کی وزارت خزانہ نے 46 امریکی کمپنیوں کی مصنوعات کو

عین الاسد بیس پر راکٹ حملہ

?️ 31 مئی 2022سچ خبریں:  بعض عراقی ذرائع ابلاغ نے منگل کی صبح اطلاع دی

ایران کا پرامن ایٹمی پروگرام کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں ہے

?️ 2 اپریل 2026سچ خبریں: تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کی سفارت خانے نے لندن

سعودی شہزادوں کو بن سلمان کی اجازت کے بغیر ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں

?️ 20 فروری 2022سچ خبریں:سعودی ذرائع نے بتایا کہ سعودی شہزادوں کو سعودی عرب چھوڑنے

فواد خان اور ماہرہ خان کی رومانوی فلم ’نیلو فر‘ کا میوزک متعارف

?️ 27 اکتوبر 2025کراچی: (سچ خبریں) فواد خان اور ماہرہ خان کی آنے والی رومانوی

صیہونی وزیر کے لیے خفیہ معلومات تک رسائی ممنوع

?️ 7 مارچ 2024سچ خبریں: صیہونی متنازعہ اور انتہاپسند وزیر بن گوئر کی جانب سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے