ایران کے خلاف جنگ کے بعد امریکی اڈوں کا مستقبل غیر یقینی؛ عالمی میڈیا میں جنگ کے اثرات کا جائزہ

ایران کے خلاف

?️

سچ خبریں:عالمی میڈیا نے ایران کے خلاف امریکی اور صہیونی جنگ کے بعد امریکی فوجی اڈوں کے مستقبل، آبنائے ہرمز میں کشیدگی، خلیجی ممالک کی سکیورٹی اور جنگ کے معاشی اثرات کا جائزہ لیا ہے۔

امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے آغاز سے نہ صرف اس کارروائی کے اعلان کردہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکے بلکہ مغربی حکام اور امریکی میڈیا کے اعترافات کے مطابق جارح قوتوں کو اس جنگ میں اسٹریٹجک تعطل اور میدان و سیاست میں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یہ جنگ بڑے پیمانے پر حملوں اور عام شہریوں، جن میں بے گناہ طلبہ بھی شامل تھے، کے قتل سے شروع ہوئی اور تیزی سے انسانی، سکیورٹی اور معاشی سطح پر وسیع اثرات میں تبدیل ہوگئی۔

عالمی میڈیا نے بھی اپنے اپنے زاویہ نگاہ سے اس جنگ کی مختلف تصویر پیش کی ہے، جن کا جائزہ جنگ کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

مغربی میڈیا

نیویارک ٹائمز نے ایران بیورو کی سربراہ ایریکا سولومون کی رپورٹ میں لکھا کہ امریکی معاشی دباؤ میں اضافے اور آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول کمزور ہونے کے خدشے کے پیش نظر ایران نے کشیدگی بڑھانے کے لیے آمادگی ظاہر کردی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمدباقر قالیباف نے اعلان کیا کہ متناسب جوابی کارروائی کا دور ختم ہوچکا ہے اور ایران کے مفادات اور سلامتی کے خلاف کسی بھی جارحیت کا زیادہ تیز، بھاری اور تکلیف دہ جواب دیا جائے گا۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے رکن محسن رضایی نے بھی خلیج فارس میں بحری جہازوں کے لیے ممنوعہ علاقہ قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے 2 امریکی جنگی بحری جہازوں پر میزائل حملے کے بعد زیادہ جارحانہ حکمت عملی اختیار کی ہے اور جنگ کی پہل دوبارہ اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کر رہا ہے۔

جنیوا انسٹی ٹیوٹ کی تجزیہ کار فرزانہ ثابت کے مطابق ایران کشیدگی بڑھا کر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے یا آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ بند کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے تجزیہ کار حمیدرضا عزیزی کا کہنا ہے کہ ایران کے حساب کتاب میں تبدیلی آئی ہے اور امریکی جنگی بحری جہازوں پر حملہ اس تبدیلی کی علامت ہے۔

نیویارک ٹائمز مزید لکھتا ہے کہ ایرانی رہنماؤں کا خیال ہے کہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھانے کا یہ بہترین وقت ہے۔ علاقائی تجزیہ کار محمدعلی شبانی نے موجودہ صورتحال کو فیصلہ کن لمحہ قرار دیا ہے۔

 دوسری جانب ایرانی معیشت شدید دباؤ میں ہے اور حکومت نے پٹرول کی بعض قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عالمی معیشت کی بگڑتی صورتحال بالآخر ٹرمپ حکومت کو کسی محدود معاہدے کی طرف لے جاسکتی ہے۔

نیویارک ٹائمز نے یمن کی انصار اللہ کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافے اور باہمی دھمکیوں کا بھی ذکر کیا ہے، جس سے علاقائی تنازع مزید بھڑک رہا ہے۔

اکانومسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ آبنائے ہرمز کی وقفے وقفے سے بندش اور بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کو زمینی اور ریلوے کوریڈورز بحال کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عراق روزانہ 1300 آئل ٹرک شام کے صحرا کے راستے بحیرہ روم کی بندرگاہ بانیاس بھیج رہا ہے، جو عراق کی تیل برآمدات کا تقریباً 5 فیصد ہے۔

 متحدہ عرب امارات میں دبئی ایئرپورٹ کی کارگو اور مسافر ٹریفک میں 30 فیصد کمی کے بعد سڑک کے ذریعے نقل و حمل میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور ایک لاجسٹکس کمپنی کے مطابق جنگ کے پہلے مہینے یعنی مارچ میں اس نے گزشتہ پورے سال سے زیادہ آمدنی حاصل کی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ریلوے نیٹ ورک بھی دوبارہ فعال ہورہے ہیں۔ ایران کی بحیرہ کیسپین کی بندرگاہوں سے تہران جانے والی ٹرینیں ہر 20 منٹ بعد چل رہی ہیں جبکہ ایران-افغانستان ریلوے پر ماہانہ تجارت 2 گنا سے زیادہ ہوگئی ہے۔

 خلیجی تعاون کونسل کے ممالک نے بھی 2100 کلومیٹر طویل کویت-عمان ریلوے منصوبے کی تکمیل تیز کردی ہے، جس کی مالیت 250 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ عراق نے روزانہ 2 ملین بیرل تیل کی منتقلی کے لیے 4.6 ارب ڈالر مالیت کی بصرہ-حدیثہ پائپ لائن کی تعمیر کو بھی ترجیح دی ہے۔

اکانومسٹ نے سعودی عرب-شام کے سلک لنک جیسے بڑے فائبر آپٹک منصوبوں اور شیورون، آرامکو اور قطر کی جانب سے عراق سے بحیرہ روم تک پائپ لائنوں کی بحالی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ خطے کے معاشی جغرافیے کو تبدیل کررہی ہے۔

 اگرچہ بحری نقل و حمل اب بھی سب سے سستا ذریعہ ہے، تاہم طویل عرصے تک جاری رہنے والی رکاوٹیں ساحلی بندرگاہوں کے مقابلے میں اندرون ملک تجارتی مراکز کی اہمیت بڑھا رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جنگ نے وہ کام کیا جو سفارت کاری بارہا نہیں کرسکی: اس نے مشرق وسطیٰ کے ہمسایہ ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ دوبارہ تجارت کرنے پر مجبور کردیا۔

این بی سی نیوز نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں غیر معمولی اضافے کی خبر دی۔ رپورٹ کے مطابق سینٹ کام نے دعویٰ کیا کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے 2 میزائل حملوں کے جواب میں 5 ایرانی آئل ٹینکروں کو تباہ کیا گیا، جن میں 4 آبنائے عمان اور ایک جزیرہ خارگ کے قریب تھا۔ سینٹ کام کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ کسی بھی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے بھی ایک بیان میں کہا کہ اس نے 2 امریکی جنگی بحری جہازوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنا کر انہیں نقصان پہنچایا اور اس کے بعد اردن میں امریکی الازرق ایئربیس پر بھی میزائل حملہ کیا۔ سپاہ کی بحریہ نے ایک غیر معمولی انتباہ جاری کرتے ہوئے کویت اور بحرین کی بندرگاہوں پر موجود آئل ٹینکروں کے عملے سے کہا کہ وہ فوری طور پر اپنے جہاز خالی کردیں، کیونکہ ان دونوں ممالک کو امریکی فوجیوں کی میزبانی اور امریکی اقدامات میں شراکت داری کے باعث نشانہ بنایا جائے گا۔

این بی سی نیوز کے مطابق آبنائے ہرمز جنگ کا مرکزی میدان بن چکا ہے اور آئل ٹینکروں پر باہمی حملے جاری ہیں۔ ٹرمپ حکومت نے ایرانی فضائی صنعت کے خلاف نئی پابندیاں بھی عائد کیں، جن کے تحت 24 سے زائد تجارتی و نجی ایئرلائنز اور غیر ملکی کارگو سروس فراہم کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ میں حملوں اور جوابی حملوں کے ایک خطرناک چکر کی تصویر پیش کی گئی ہے، جس میں دونوں فریق ایک دوسرے کی سرخ لکیروں کو مسلسل تبدیل کررہے ہیں۔ ایران اپنے منظور کردہ راستے سے بحری جہازوں کی آمدورفت کا مطالبہ کررہا ہے جبکہ امریکہ اپنی نگرانی میں جنوبی راستے کو فروغ دے رہا ہے۔

نیشنل پبلک ریڈیو (این پی آر) نے خلیج فارس میں ایرانی حملوں کے بعد امریکی فوجی اڈوں کے غیر یقینی مستقبل کا جائزہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق واشنگٹن اور اس کے عرب اتحادیوں کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ آیا ایران کے خلاف تحفظ کے نام پر ہزاروں امریکی فوجیوں کی میزبانی کا موجودہ ماڈل برقرار رہے گا یا نہیں۔

 خلیج فارس میں این پی آر کے نمائندے نے کہا: حقیقت یہ ہے کہ خلیج فارس میں امریکی دفاع کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ پینٹاگون کے سابق مشیر بلال صاب نے بھی کہا کہ عرب ممالک بنیادی طور پر اپنی پالیسی پر نظرثانی کررہے ہیں، یہ کہنا مبالغہ آمیز ہے۔

تاہم قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے اعتراف کیا کہ جنگ نے ظاہر کردیا ہے کہ خلیج فارس کا سکیورٹی نظام کمزور بازداریت پر قائم تھا۔ ان کے مطابق ایک ڈرون قطر کی مائع قدرتی گیس کی پیداوار کی صلاحیت میں 17 فیصد کمی کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ اس ڈرون کی پوری سپلائی چین میں لاگت شاید 100000 ڈالر سے زیادہ نہیں تھی۔ بحرین میں ایڈمرل ڈیرل کیڈل نے بھی واضح الفاظ میں کہا: ہم اتنی جلد وہاں واپس نہیں جارہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ سے قبل بحرین میں موجود تقریباً 8000 امریکی فوجی اہلکاروں میں سے اب 100 سے بھی کم باقی رہ گئے ہیں جبکہ 1300 فوجی خاندانوں کو وہاں سے نکالا جاچکا ہے۔ اسی دوران خلیجی عرب ممالک نئے دفاعی معاہدوں، جن میں ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ مکہ معاہدہ اور یوکرین کے ساتھ ڈرونز کے شعبے میں تعاون شامل ہے، کے ذریعے اپنی سکیورٹی کے لیے امریکی انحصار کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

بی بی سی نے رپورٹ کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان باہمی حملوں اور یمن کی انصار اللہ کی جانب سے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت پہلی بار جولائی کے اواخر کے بعد 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ نے اپنے ایک جنگی بحری جہاز پر ایرانی میزائل حملے کے جواب میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سے منسلک 5 ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جن میں 4 آبنائے عمان اور ایک جزیرہ خارگ کے قریب تھا۔ سینٹ کام نے دعویٰ کیا کہ یہ جہاز سپاہ کو مالی معاونت فراہم کرنے والے کئی ارب ڈالر کے خفیہ نیٹ ورک کا حصہ تھے۔

تہران نے جواباً اردن میں امریکی اڈے پر میزائل داغ کر، 2 امریکی جنگی بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر اور آبنائے ہرمز میں 8 آئل ٹینکروں پر حملہ کرکے جوابی کارروائی کا سلسلہ جاری رکھا۔

اسی دوران انصار اللہ یمن نے سعودی عرب کی توانائی تنصیبات اور شہری بنیادی ڈھانچے پر ڈرون اور میزائل حملے کیے، جن کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوئے اور سعودی تیل تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی۔

بی بی سی نے یاد دلایا کہ جنگ سے قبل برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 70 ڈالر فی بیرل تھی اور آبنائے ہرمز کی بندش، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے، قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ بنی ہے۔

عرب میڈیا

الجزیرہ نے قطر کے ثالث کے کردار اور فوجی حملوں کا نشانہ بننے کے تضاد کے عنوان سے ایک تجزیہ میں لکھا کہ ستمبر 2025 میں اسرائیل نے دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کی موجودگی والی جگہ پر حملہ کیا تھا؛ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب قطر غزہ میں جنگ بندی کے لیے امریکہ کی حمایت سے مذاکرات کی میزبانی کررہا تھا۔ ایک سال بعد امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے دوران قطر خود ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنا۔

ان حملوں کے باوجود دوحہ نے اپنے ثالثی کردار سے دستبرداری اختیار نہیں کی اور غزہ مذاکرات کو آگے بڑھانے اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔

تجزیہ کے مطابق قطر کو جنگ میں براہ راست شمولیت کے باعث نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ علاقائی تعلقات کے نیٹ ورک میں اس کی پوزیشن اور ثالثی کے کردار نے اسے غیر محفوظ بنایا۔

تجزیہ کار کے مطابق ثالثی قطر کی توازن سازی کی حکمت عملی کا حصہ ہے، تاہم اس کردار کو برقرار رکھنے کے لیے صرف متنوع تعلقات اور سکیورٹی ضمانتیں کافی نہیں بلکہ ثالث ممالک کے تحفظ کے لیے زیادہ مؤثر بین الاقوامی فریم ورک ضروری ہے۔

المیادین نے ایک تجزیہ میں یمن اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا جائزہ لیا۔ تجزیہ کے مطابق سعودی عرب نے گزشتہ چند روز کے دوران یمن کے 5 صوبوں پر 120 سے زائد فضائی حملے کیے، جبکہ یمنی فورسز نے درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے جنوبی سعودی عرب میں اہم فوجی اور معاشی اہداف، جن میں جیزان، ابہا اور نجران میں آرامکو کی تنصیبات اور کنگ خالد ایئربیس شامل ہیں، کو نشانہ بنایا۔

تجزیہ کار کے مطابق یہ حملے یمن کی جانب سے جوابی کارروائی کا دائرہ وسیع کرنے کی صلاحیت اور سعودی فضائی دفاعی نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔ تجزیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یمنی فورسز سعودی حمایت یافتہ فوجی عناصر کی بعض نقل و حرکت اور سازوسامان کو تباہ کرنے کے علاوہ متعدد سعودی ڈرونز بھی مار گرانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

تجزیہ کے مطابق مسلسل فوجی کارروائی، محاصرے اور سیاسی تعطل نے سعودی عرب کو اسٹریٹجک شکنجے اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے دوچار کردیا ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان وسیع تر محاذ آرائی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

رائے الیوم نے ایک تجزیہ میں امریکی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے ایران میں عام شہریوں، خصوصاً میناب کے ایک اسکول اور سیریک میں شادی کی تقریب، پر ہونے والے حملوں کا جائزہ لیا۔ تجزیہ کار نے زور دیا کہ یہ حملے صدمے اور خوف کی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد عوام میں خوف پیدا کرنا، ان کے حوصلے پست کرنا اور ایرانی حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے۔

تجزیہ کار کے مطابق خواتین اور بچوں کا قتل ایرانی معاشرے کے عزم کو توڑنے کے بجائے قومی یکجہتی اور مزاحمت کے جذبے کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ تجزیہ میں عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی خاموشی کی بھی مذمت کی گئی اور ان حملوں کو جنگی جرائم قرار دیا گیا۔

تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ امریکہ تکنیکی اور انٹیلی جنس برتری کے باوجود ایرانی معاشرے کے مزاج اور ردعمل کو سمجھنے میں اسٹریٹجک غلطی کا شکار ہوا ہے۔

تجزیہ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ فوجی دباؤ اور عام شہریوں کا قتل ایران کو تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کے بجائے مزاحمت اور واشنگٹن کے مطالبات کی مخالفت میں اضافہ کرے گا۔

روسی اور چینی میڈیا

چین کے پیپلز ڈیلی نے چین مشرق وسطیٰ کو مشکل سکیورٹی صورتحال سے نکالنے کے لیے عملی راستہ تجویز کرتا ہے کے عنوان سے ایک تجزیہ میں لکھا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے گفتگو کے دوران مشرق وسطیٰ میں مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سکیورٹی کے اصولوں پر مبنی نئے سکیورٹی نظام کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

 شی جن پنگ نے اس مقصد کے لیے 4 نکات تجویز کیے: علاقائی ممالک کی اپنی سکیورٹی یقینی بنانے کی صلاحیت مضبوط کرنا، بحرانوں کے حل کے لیے جامع نقطہ نظر اپنانا، سکیورٹی کو ترقی کے ساتھ جوڑنا اور بین الاقوامی سطح پر تعاون و رابطہ بڑھانا۔

تجزیہ میں زور دیا گیا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کو اپنے سکیورٹی معاملات کے بارے میں خود فیصلے کرنے چاہئیں اور مذاکرات و تعاون کے ذریعے خطے کی حقیقتوں سے ہم آہنگ فریم ورک تشکیل دینا چاہیے۔ چین کے نقطہ نظر کے مطابق مشرق وسطیٰ کے بحران ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور انہیں الگ الگ حل کرنا کافی نہیں۔

 اس تناظر میں مسئلہ فلسطین اب بھی علاقائی بحرانوں کے مرکز میں ہے، اس لیے 2 ریاستی حل پر عمل درآمد اور ایک منصفانہ حل کا حصول ترجیح ہونی چاہیے۔

تجزیہ کار نے اقتصادی ترقی کو پائیدار سکیورٹی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ اور آزادانہ جہازرانی کی اہمیت پر زور دیا۔

چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان راستوں کے تحفظ، اقتصادی تعاون کے فروغ اور باہمی اعتماد میں اضافے کے لیے خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

اس چینی میڈیا ادارے نے تجزیہ کے ایک اور حصے میں مشرق وسطیٰ کے بحرانوں کے حل میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قانون کے کردار پر زور دیا اور اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر یک طرفہ پابندیوں اور ماورائے سرحدی اختیار کو غیر مؤثر قرار دیا۔

تجزیہ میں کہا گیا کہ چین بالادستی اور بلاکی کشمکش کی مخالفت کرتا ہے اور بیجنگ کا نقطہ نظر مشرق وسطیٰ میں ایک نئے سکیورٹی نظام کی تشکیل کی کوشش ہے، جس میں مذاکرات، ترقی، ریاستوں کی خودمختاری اور مشترکہ سکیورٹی کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔

شینہوا نے ایران کے معاشی جنگی کمانڈ سینٹر کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟ کے عنوان سے ایک رپورٹ میں لکھا کہ ایران کی وزارت اقتصادی امور و خزانہ نے معاشی اور جنگی دباؤ میں اضافے کے دوران مختلف اداروں کے درمیان تیز تر رابطہ کاری اور جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے اقتصادی جنگ کمانڈ سینٹر قائم کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران کو کئی دہائیوں سے جاری پابندیوں کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہونے والے معاشی نقصانات، امریکی بحری محاصرے اور واشنگٹن کے نئے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔

اس کمانڈ سینٹر کا بنیادی مشن جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشی رکاوٹوں کی نشاندہی کرنا اور تجارت، مالیاتی وسائل کی فراہمی اور کاروباری اداروں کی سرگرمیوں سے متعلق مسائل کے لیے عملی حل پیش کرنا ہے۔

شینہوا نے ایرانی حکام اور ماہرین کے حوالے سے کہا کہ یہ کمانڈ سینٹر مختلف سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے ذریعے بیوروکریسی میں کمی لاسکتا ہے اور سپلائی چین، درآمدات و برآمدات، بنیادی اشیائے ضروریہ، ادویات اور خام مال کی فراہمی اور پیداواری یونٹس کی معاونت کو یقینی بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

شینہوا کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ادارے کا قیام ایران کی جانب سے امریکی دباؤ کا طویل عرصے تک مقابلہ کرنے کی تیاری کی علامت ہے۔ ان کے مطابق 4 دہائیوں سے زائد عرصے کی پابندیوں کے بعد ایرانی معیشت نے بیرونی پابندیوں سے مطابقت پیدا کرنے کی کچھ صلاحیتیں پیدا کرلی ہیں۔

تاہم موجودہ صورتحال زرمبادلہ اور بجٹ کے نظام میں اصلاحات، نجی شعبے کو مضبوط بنانے، مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کے معاشی مسائل کم کرنے کا ایک موقع بھی بن سکتی ہے۔

مشہور خبریں۔

چینی سپلائی پر ضرورت سے زایدہ انحصار کی وجہ؟

?️ 4 اکتوبر 2023سچ خبریں:جبکہ امریکی حکام نے چند ہفتے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ

ن لیگ کی سیاست ختم ہو چکی، یہ اب مقدمہ بازی پر اتر آئے، فواد چودھری

?️ 13 مارچ 2023دینہ: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما فواد چودھری نے

ہمیں روسی اثاثوں کے استعمال کے خطرات پر غور کرنا چاہیے: یورپی کمیشن کی سربراہ

?️ 20 دسمبر 2025سچ خبریں:یورپی کمیشن کی سربراہ کا کہنا ہے کہ ہمیں روسی اثاثوں

حکومت صاف و شفاف انتخابات چاہتی ہے

?️ 3 جنوری 2022فیصل آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق فیصل آباد میں میڈیا سے

 صیہونیوں کا غزہ جنگ بندی میں روڑے اٹکانے کی کوشش؛صیہونی اخبار کی زبانی

?️ 13 اکتوبر 2025سچ خبریں:صیہونی اخبار کے مطابق، قابض حکومت نے اعلان کیا ہے کہ

علیمہ خان کی توہین قابل مذمت اور ناقابل برداشت ہے۔ مولانا فضل الرحمان

?️ 6 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل

شہید سلیمانی نے مزاحمت کی نئی نسل کو کیسے پروان چڑھایا ؟

?️ 31 دسمبر 2023سچ خبریں: مزاحمت کے مرکزی کردار کی حیثیت سے شہید سلیمانی کا

آئی فون کے ٹکر کا ون پلس 12 متعارف

?️ 6 دسمبر 2023سچ خبریں: اسمارٹ موبائل فون بنانے والی چینی کمپنی ون پلس نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے