?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر اتفاق رائے کے لیے وزیراعظم کے طلب کردہ حکمران اتحادی جماعتوں کے اجلاس نے بظاہر یہ اتحاد دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی قیادت میں ایک دھڑے کا کہنا ہے کہ وہ قومی اہمیت کے معاملے پر اپوزیشن جماعت سے بات چیت کے حامی ہیں، جب کہ جے یو آئی (ف) اور جمہوری وطن پارٹی اس خیال کی سخت مخالفت کرتی ہیں، تاہم مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ’ابھی تک مشاورت کر رہی ہے‘۔
البتہ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے مذاکراتی عمل میں تعطل کا ذمہ دار پی ٹی آئی چیئرمین کو ٹھہراتے رہے۔
صحافی طلعت حسین سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نے ماضی میں ان کی بات چیت کی پیشکش کو واضح طور پر مسترد کر دیا تھا۔
اس ضمن میں وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ڈان کو بتایا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کے آپشن پر پارٹی کے اندر ’مشاورت جاری ہے‘۔
انہوں نے میڈیا رپورٹس کی بھی تردید کی کہ اتحاد کے اندر اختلاف رائے ہے اور کہا کہ تمام فیصلے اتفاق رائے کے بعد کیے جائیں گے، پارٹیوں کی رائے مختلف ہو سکتی ہے لیکن ہمارے فیصلے اتفاق رائے سے ہوتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی پارٹی کے اس مؤقف کو دہرایا کہ حکومت کو پی ٹی آئی سے قومی اہمیت کے معاملات پر مذاکرات کرنے چاہئیں اور مذاکرات کا دروازہ بند کرنا جمہوری اور سیاسی اصولوں کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کے مطالبے کو بی اے پی کے رہنما خالد مگسی، مسلم لیگ (ق) کے چوہدری سالک حسین اور محسن داوڑ کی حمایت حاصل تھی۔
جے ڈبلیو پی کے سربراہ شاہ زین بگٹی نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت کے خلاف نہیں لیکن عمران خان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ ’جھوٹے‘ ہیں۔
ایم کیو ایم پاکستان کے ذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کا معاملہ بہت نازک ہے اور اس کا فیصلہ تمام اتحادی جماعتوں کے سربراہوں کو کرنا چاہیے، کیونکہ اتحادی جماعتوں کے اس اجلاس میں ایم کیو ایم پی کے کنوینر خالد مقبول صدیقی، جے یو آئی (ف) کے فضل الرحمٰن اور مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت موجود نہیں تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اصولی طور پر ہم ہر اسٹیک ہولڈر کے ساتھ بات چیت کی حمایت کرتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم نے آج کی میٹنگ میں پیپلز پارٹی کے مؤقف کی حمایت کی۔
اجلاس کے دوران انتخابات کے لیے فنڈز کا معاملہ بھی سامنے آیا اور ذرائع کا کہنا ہے کہ شرکا نے نشاندہی کی کہ جب حکومت مالی بحران کی وجہ سے فنڈز جاری کرنے سے انکار کر رہی ہے تو وہ اس حقیقت کے بعد رقم مختص کرنے کا جواز کیسے دے سکتی ہے۔
اتحاد نے عدالت عظمیٰ کے حکم کے مطابق پنجاب میں انتخابات کے انعقاد کے لیے درکار 21 ارب روپے کے فنڈز مختص نہ کرنے سے متعلق پارلیمنٹ کے فیصلے کو برقرار رکھنے کا بھی عزم کیا۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ بیوروکریسی حکومت کی اطاعت کرنے یا توہین عدالت کا سامنا کرنے کے بارے میں مخمصے کا شکار ہے۔
اندرونی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ بیوروکریسی عدالت کے حکم کو ماننے سے گریزاں ہے کیونکہ ’اسے معلوم ہے کہ موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال چیف جسٹس کی مدت 3 ماہ میں پوری ہو جائے گی‘۔
اجلاس میں اتحادیوں نے حیرانگی کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا میں 90 دن میں انتخابات کا انعقاد پنجاب کی طرح کیوں ضروری نہیں؟
اجلاس کے دوران حکمران جماعتوں نے زور دے کر کہا کہ وہ تمام تر مشکلات کے باوجود اکتوبر میں ختم ہونے والی اپنی مدت پوری کریں گی۔
اجلاس میں اپنے اتحادیوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی حکومت سے ورثے میں ملنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد رہنے پر ان کی تعریف کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’جمہوریت میں فیصلے مشاورت سے کیے جاتے ہیں، مسلط نہیں کیے جاتے‘۔
چیف جسٹس کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کے بل پر عدالتی فیصلے کے حوالے سے جاری تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی کسی عدالت نے قانون کے نفاذ سے پہلے ہی اس کے نفاذ پر روک نہیں لگائی۔


مشہور خبریں۔
تنازعہ کشمیرپاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کا باعث بن سکتا ہے: شبیر شاہ
?️ 18 مئی 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر نظربند کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر
مئی
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہیں بڑھ رہیں۔
?️ 15 مئی 2022اسلام آباد (سچ خبریں)اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ
مئی
پنجاب میں سیلابی صورتحال، پاک فوج کا ریلیف آپریشن جاری
?️ 17 جولائی 2025راولپنڈی (سچ خبریں) پنجاب کے مختلف اضلاع میں حالیہ مون سون بارشوں
جولائی
سعودیوں نے سات سال میں یمن میں کیا پایا کیا کھویا
?️ 28 مارچ 2022سچ خبریں:یمن کی جنگ ایسے وقت میں آٹھویں سال میں داخل ہو
مارچ
گورنر پنجاب نے مودی کو سب سے بڑا دہشت گرد اور امن دشمن قرار دے دیا
?️ 12 اپریل 2021لاہور(سچ خبریں)گورنر پنجاب چوہدری محمد سرورنے مودی کو سب سے بڑا دہشت
اپریل
وزیرداخلہ کی چینی ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو، داسو واقعہ پر بات چیت
?️ 17 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر داخلہ شیخ رشید اور چینی ہم منصب
جولائی
فرانسیسی ریفائنریوں میں ہڑتال سے پٹرول پمپ تشنہ
?️ 6 اکتوبر 2022سچ خبریں: فرانسیسی توانائی کمپنی ٹوٹل انرجی پر ہڑتال کے 9ویں دن
اکتوبر
صیہونی جاسوس لبنانی فوج کے ہاتھوں گرفتار
?️ 23 جون 2023سچ خبریں:لبنانی فوج کے محکمہ اطلاعات نے آج صیہونی حکومت کے ایک
جون