الجزائر اور فرانس کے درمیان نوآبادیاتی ماضی پر تنازع، تاریخی یادداشت کا بحران بدستور برقرار

الجزائر

?️

سچ خبریں:الجزائر کی آزادی کو چھ دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود یہ مسئلہ آج بھی دونوں ممالک کے تعلقات کی مکمل بحالی میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔

الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون کے فرانسیسی استعمار کے دوران ہلاکتوں سے متعلق بیان نے ایک بار پھر الجزائر اور فرانس کے درمیان تاریخی یادداشت، نوآبادیاتی ذمہ داری اور دوطرفہ تعلقات پر جاری تنازع کو نمایاں کر دیا ہے۔

الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون کے حالیہ بیان، جس میں انہوں نے فرانسیسی استعمار کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد کا ذکر کیا، نے ایک بار پھر پیرس اور الجزائر کے درمیان تاریخی یادداشت کے حساس مسئلے کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

عبدالمجید تبون نے 5 جولائی کو الجزائر کے یوم آزادی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ فرانسیسی استعمار کے 132 سالہ دور میں الجزائر کے عوام نے بھاری قیمت ادا کی اور اس عرصے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 5 ملین 630 ہزار تک پہنچ گئی۔

 انہوں نے زمین کو جلا دینے کی پالیسی، اجتماعی قتل عام اور وسیع پیمانے پر جبر کا حوالہ دیتے ہوئے فرانسیسی استعمار کو الجزائر کی جدید تاریخ کے تاریک ترین ادوار میں سے ایک قرار دیا۔

الجزائر 1830 میں فرانس کے قبضے میں آیا تھا اور 1962 تک فرانسیسی اقتدار کے زیر تسلط رہا۔ الجزائر نے قومی آزادی محاذ اور فرانسیسی افواج کے درمیان سات سال تک جاری رہنے والی خونریز جنگ کے بعد آزادی حاصل کی۔

 1954 میں شروع ہونے والی یہ جنگ بیسویں صدی کے اہم ترین نوآبادیاتی بحرانوں میں شمار کی جاتی ہے، جس کے اختتام نے نہ صرف الجزائر کو آزادی دلائی بلکہ فرانس کو اپنی نوآبادیاتی سلطنت سے متعلق پالیسیوں پر نظرثانی پر بھی مجبور کیا۔

استعمار کے خاتمے کو کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود تاریخی یادداشت کا مسئلہ آج بھی پیرس اور الجزائر کے تعلقات کے حساس ترین موضوعات میں شامل ہے۔

الجزائر کی حکومت متعدد بار مطالبہ کر چکی ہے کہ فرانس نوآبادیاتی دور میں ہونے والے جرائم کی سرکاری سطح پر ذمہ داری قبول کرے، تاہم فرانس کی مختلف حکومتوں نے اب تک باضابطہ معافی مانگنے یا مکمل قانونی ذمہ داری تسلیم کرنے سے گریز کیا ہے۔

حالیہ برسوں میں فرانس نے بعض تاریخی واقعات، جن میں 17 اکتوبر 1961 کو پیرس میں الجزائری مظاہرین کا قتل عام اور 8 مئی 1945 کو سطیف اور قالمہ میں احتجاجی مظاہروں کا کچلنا شامل ہے، کو تسلیم کیا ہے۔

 اس کے باوجود پیرس اب بھی تاریخی واقعات کو تسلیم کرنے اور استعمار کی ذمہ داری قبول کرنے کے درمیان فرق برقرار رکھے ہوئے ہے، جسے الجزائر ناکافی سمجھتا ہے۔

نوآبادیاتی ماضی پر اختلاف صرف ایک تاریخی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور جغرافیائی اثرات بھی ہیں۔ الجزائر حالیہ برسوں میں اپنی قومی شناخت اور سیاسی خودمختاری پر زور دیتے ہوئے شمالی افریقہ اور بحیرہ روم کے خطے میں اپنا کردار مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

دوسری جانب فرانس، جس کے شمالی افریقہ کے ممالک کے ساتھ تاریخی، اقتصادی اور سلامتی کے گہرے تعلقات ہیں، اپنے روابط برقرار رکھتے ہوئے نوآبادیاتی ماضی سے متعلق تنازعات کو مزید شدت اختیار کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

فرانس اور الجزائر کے تعلقات میں وقفے وقفے سے پیدا ہونے والے بحران اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ افریقی ممالک کے لیے استعمار محض ماضی کا ایک باب نہیں بلکہ آج بھی ان کی سیاسی اور قومی شناخت کا اہم حصہ ہے۔

پیرس اور الجزائر کے درمیان نوآبادیاتی تاریخ پر جاری تنازع دراصل یورپ اور افریقی ممالک کے درمیان بدلتے ہوئے طاقت کے توازن اور ان ممالک کی جانب سے برابری اور قومی خودمختاری کی بنیاد پر نئے تعلقات استوار کرنے کی کوششوں کی علامت ہے۔

اس تناظر میں الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون کے حالیہ بیانات کو اس وسیع تر رجحان کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے، جس کے تحت افریقی ممالک نوآبادیاتی ورثے پر ازسرنو غور اور سابق نوآبادیاتی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کی نئی بنیادیں قائم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ رجحان مستقبل میں فرانس اور پورے افریقی براعظم کے تعلقات پر بھی نمایاں اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

بلوچستان: کورونا کیسز میں اضافے کے پیش نظر  نئی پابندیاں عائد

?️ 11 جولائی 2021کوئٹہ(سچ خبریں) بلوچستان حکومت نے صوبے میں کورونا کیسز میں اضافے کے

صیہونی قیدیوں کی حفاظت کے بارے میں حماس کا تازہ ترین بیان

?️ 16 اپریل 2025 سچ خبریں:حماس کی عسکری ونگ کتائب القسام بریگیڈ کے ترجمان کا

امریکہ عراق سے اپنی فوج واپس بلانے میں سنجیدہ نہیں ہے؛الحشد الشعبی کے کمانڈر کا اعلان

?️ 25 جولائی 2021سچ خبریں:عراقی الحشد الشعبی مزاحمتی گروپ کے ایک کمانڈر نے کہا کہ

اربیل سمٹ میں شریک ہونے والے افراد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری

?️ 28 ستمبر 2021سچ خبریں:عراقی سپریم کورٹ نے اربیل میں صہیونی حکومت کے ساتھ تعلقات

عمران خان موجودہ حکومت کے لیے بارودی سرنگیں بچھا کر گئے ہیں:مریم نواز

?️ 16 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)نائب صدر مسلم لیگ (ن) مریم نواز نے کہا ہے

اپنے بچوں کے فون سے ٹِک ٹاک کو ہٹا دیں

?️ 14 جنوری 2023سچ خبریں:ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی کشیدگی

’مجھے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے‘، نیب ترامیم کیس میں عمران خان بذریعہ ویڈیو لنک پیش

?️ 30 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں قومی احتساب بیورو (نیب) ترامیم

 فاشر پر حملے کے دوران سوڈانی شہریوں کے خلاف اعصابی گیس کا استعمال

?️ 3 نومبر 2025سچ خبریں: خاموشی توڑتے ہوئے سوڈان کے سفیر نے تیز رفتار حمایتی دستوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے