پنجاب میں انتخابات: وفاقی، صوبائی حکومتوں نے نظرثانی درخواست دائر کردی

🗓️

اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی حکومت اور پنجاب کی نگران حکومت نے صوبے میں انتخابات کے فیصلے پر سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کردی۔ وفاقی حکومت نے الیکشن کمیشن کی درخواست پر اپنا جواب جمع کروا دیا۔

انتخابات نظرثانی کیس میں وفاقی حکومت نے اپنے جواب میں کہا کہ آزادانہ اور شفاف انتخابات کروانے کی آئینی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، سپریم کورٹ نے خود تاریخ دے کر الیکشن کمیشن کے اختیار کو غیر مؤثر کر دیا۔

وفاقی حکومت نے اپنے جواب میں کہا کہ اگر پنجاب میں انتخابات پہلے ہوئے تو قومی اسمبلی کے انتخابات متاثر ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ پنجاب سب سے زیادہ نشستیں رکھنے والا صوبہ ہے۔

وفاقی حکومت کے جواب میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں جیت سے یہ تعین ہوتا ہے کہ مرکز میں حکومت کون کرے گا، پنجاب میں انتخابات قومی اسمبلی کے ساتھ ایک ہی وقت میں ہونے چاہئیں، لہٰذا سپریم کورٹ اپنے 4 اپریل کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

علاوہ ازیں پنجاب کی نگران حکومت نے بھی صوبے میں فوری انتخابات کی مخالفت کردی۔

پنجاب کے چیف سیکریٹری نے تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا جس میں کہا گیا ہے الیکشن کی تاریخ دینے کا سپریم کورٹ کا اختیار نہیں، انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار ریاست کے دیگر اداروں کو ہے۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ 14 مئی کو الیکشن کی تاریخ دے کر اختیارات کے آئینی تقسیم کی خلاف ورزی ہوئی ہے، آرٹیکل 218 کے تحت صاف شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔

اختیارات کی تقسیم کے پیش نظر سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا کے الیکشن کی تاریخ نہیں دی۔

پنجاب حکومت کی طرف سے جواب میں کہا گیا کہ الیکشن پروگرام میں تبدیلی کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے، 9 مئی کے واقعات کے بعد سیکیورٹی حالات صوبے مین تبدیل ہو گئے ہیں۔

چیف سیکریٹری نے اپنے جواب میں کہا کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد سول ملٹری املاک کو نقصان پہنچایا گیا، اور ان کی گرفتاری کے بعد پرتشدد احتجاج اور مظاہرے ہوئے۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ مظاہروں میں 162 پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور 97 پولیس گاڑیوں کا جلایا گیا۔

مزید کہا گیا کہ پنجاب میں الیکشن کے لیے 5 لاکھ 54 ہزار سیکیورٹی اہلکار درکار ہوں گے اور اس وقت اگر الیکشن ہوئے تو صرف 77 ہزار کی نفری دستیاب ہے۔

خیال رہے کہ 4 اپریل کو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات ملتوی ہونے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 22 مارچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ کی جانب سے گزشتہ روز سماعت مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے 8 اکتوبر کو انتخابات کرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور پنجاب اسمبلی کے انتخابات کا شیڈول بحال کرتے ہوئے 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کی تاریح دی تھی۔

مشہور خبریں۔

ترکی میں سویڈن کے سفیر کو طلب کیا گیا

🗓️ 5 اکتوبر 2022سچ خبریں:   ترکی کی وزارت خارجہ نے آج بدھ کو ترکی اور

شاہد خاقان کی ای سی ایل سے نام خارج کرنیکی درخواست پر نیب سمیت دیگر سے جواب طلب

🗓️ 22 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی ایگزٹ کنٹرول لسٹ

بھارت کشمیریوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کے کشمیر مخالف ایجنڈے پر عمل پیرا ہے ، حریت کانفرنس

🗓️ 22 دسمبر 2023سرینگر: (سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی

پولیس کرائے کی پولیس بن گئی، ریاست کرپشن اور اسمگلنگ میں معاونت کرتی ہے: چیف جسٹس

🗓️ 12 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے 70

جنرل السیسی کا نیتن یاہو سے بات کرنے سے انکار

🗓️ 28 اکتوبر 2024سچ خبریں:صہیونی میڈیا کے مطابق، مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے اسرائیلی وزیر

پرتگالیوں نے مکانات کی زیادہ قیمت کے خلاف احتجاج کیا

🗓️ 3 اپریل 2023سچ خبریں:پرتگال میں 2010 کے بعد سے جائیداد کی قیمتوں میں 75%

سیلاب سے ہونے والی تباہی سے کوئی ملک اکیلا نہیں نمٹ سکتا، شیریں رحمٰن

🗓️ 4 اکتوبر 2022 اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن کا

پاک-برطانیہ کثیرالجہتی روابط مزید مضبوط ہوئے ہیں، شہباز شریف کا برطانیہ روانگی سے قبل بیان

🗓️ 3 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے