🗓️
اسلام آباد: (سچ خبریں) مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ کے لیے نامزدگی کے بعد پارٹی میں مایوسی پھیل گئی، جس کا اظہار سوشل میڈیا پر بھی کیا جارہا ہے۔
انتخابات سے قبل مسلم لیگ (ن) نے دعویٰ کیا تھا کہ وزارت عظمیٰ کے لیے پارٹی کا انتخاب نواز شریف ہوں گے، جس کی تصدیق عام انتخابات سے قبل پارٹی کی جانب سے ایک بھرپور میڈیا مہم کے ذریعے بھی کی گئی۔
تاہم مسلم لیگ (ن) سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی، جس کے نتیجے میں 3 بار وزیراعظم بننے والے نواز شریف کے بجائے شہباز شریف کے وزیراعظم کے امیدوار بننے کی راہ ہموار ہوئی۔
اب جبکہ نواز شریف بظاہر ’سائیڈ لائن‘ ہو چکے ہیں، اس لیے پارٹی کے عام اراکین کو یہ حقیقت قبول کرنا مشکل ہو رہا ہے، گزشتہ روز ’ایکس‘ پر’پاکستان کو نواز دو’ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے حامیوں کی جانب سے 91 ہزار سے زائد ٹوئٹس کی گئیں۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے متعدد ٹوئٹس میں یہ سوالات پوچھے جا رہے تھے کہ ’پاکستان کو نواز دو‘ کے انتخابی نعرے کا کیا ہوا اور کیا نواز شریف کا سیاسی کیریئر ختم ہو گیا؟
اسی طرح نواز شریف کے پولیٹیکل سیکریٹری سینیٹر آصف کرمانی نے بھی ممکنہ مخلوط حکومت کی قیادت کے لیے شہباز شریف کی بطور وزیراعظم نامزدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ نواز شریف نے مخلوط حکومت کی وزارت عظمی ٹھکرا کر دلیرانہ اور مدبرانہ فیصلہ کیا لیکن ان کے ووٹرز، سپورٹرز اور چاہنے والے، جنہوں نے ’پاکستان کو نواز دو‘ کے نعرے پر مسلم لیگ ( ن ) کو ووٹ دیا، انہیں اِس فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے۔
پارٹی کی سینیئر نائب صدر اور پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی امیدوار مریم نواز نے وزیراعظم کے عہدے کی دوڑ سے اپنے والد کے دستبردار ہونے کے فیصلے کا دفاع کیا اور اس فیصلے کو 8 فروری کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی سے جوڑا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی جانب سے وزارت عظمیٰ کا عہدہ قبول نہ کرنے کا مطلب اگر یہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ نواز شریف سیاست سے کنارہ کش ہو رہے ہیں تو اس میں کوئی سچائی نہیں ہے، آئندہ 5 سال وہ نہ صرف بھرپور سیاست کریں گے بلکہ وفاق اور پنجاب میں اپنی حکومتوں کی سرپرستی کریں گے۔
مریم نواز نے کہا کہ نوازشریف کی تینوں حکومتوں میں عوام نے واضح اکثریت دی تھی اور یہ بات وہ انتخابی تقاریر میں میں واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی مخلوط حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے، جو لوگ نواز شریف کے مزاج سے وقف ہیں انہیں قائد کے اصولی مؤقف کا پتا ہے۔
شریف خاندان کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر ہونے کا فیصلہ اپنی بیٹی مریم نواز کے لیے کیا ہے، جو پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بنیں گی۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف مخلوط حکومت میں وزیراعظم کا عہدہ سنبھال سکتے تھے لیکن پھر مریم نواز وزیراعلیٰ پنجاب نہ بن پاتیں، اپنی بیٹی کی محبت کی خاطر نواز شریف نے چوتھی بار وزیراعظم بننے کی خواہش قربان کردی۔
پارٹی ذرائع نے بتایا کہ اگر شہباز شریف کے بجائے نواز شریف ڈرائیونگ سیٹ پر ہوتے تو شہباز شریف کو پنجاب کی قیادت سنبھالنے کے لیے کہا جانا چاہیے تھا جو صوبائی ایڈمنسٹریٹر کے طور پر اپنے وسیع تجربے کی بدولت صوبے میں پارٹی کا کھویا ہوا مقام واپس دلواسکتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس نا موافِق ماحول میں ناتجربہ کار مریم نواز کی بطور وزیراعلیٰ پنجاب تعیناتی کا فیصلہ اچھا اقدام نہیں ہے بلکہ یہ ایک تباہ کن فیصلہ ثابت ہوگا۔
مشہور خبریں۔
سیکیورٹی فورسز کی خیبر پختونخوا میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک، متعدد گرفتار
🗓️ 2 مئی 2023خیبر پختونخوا 🙁سچ خبریں) خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے
مئی
ہمیں بینچ ہی قبول نہیں تو اس کا فیصلہ کیسے قبول ہوگا، نواز شریف
🗓️ 1 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف نے خیبر پختونخوا
اپریل
خیر پختونخوا: بڈھ بیر میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، انتہائی مطلوب 4 دہشت گرد ہلاک
🗓️ 16 نومبر 2023پشاور: (سچ خبریں) خیر پختونخوا کے ضلع پشاور کے علاقے بڈھ بیر
نومبر
نئے نیب آرڈیننس کو حتمی قانونی حیثیت مل گئی
🗓️ 8 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) نئے نیب آرڈیننس کو حتمی قانون کی حیثیت
اکتوبر
راشد غنوشی کو 22 سال قید کی سزا
🗓️ 6 فروری 2025سچ خبریں: تیونس کی ایک عدالت نے اسلام پسند النہضہ تحریک کے
فروری
کورونا سے نمٹنے کیلئے تمام اقدامات کررہے ہیں: عثمان بزدار
🗓️ 5 مئی 2021لاہور(سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ کورونا سے
مئی
حکومتی اتحادی جماعتوں نے ایک بار پھر عمران خان کو یقین دہانی کرائی
🗓️ 2 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے
نومبر
صیہونی عرب اتحاد کے پس پردہ مقاصد
🗓️ 25 فروری 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت اور خلیج فارس کے شیوخ کے درمیان متعدد فوجی
فروری