فائزر اور موڈرنا ویکسینز کے حوالے سے نئی تحقیق

فائزر اور موڈرنا ویکسینز کے حوالے سے نئی تحقیق

?️

واشنگٹن (سچ خبریں)امریکہ میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ فائزر اور موڈرنا ویکسینز کئی سالوں تک انسانوں کو تحفظ مہیا کرسکتی ہیں۔ محققین کے مطابق کوویڈ-19 کے شکار ہونے والے افراد کے ہڈیوں کے گودے (بون میرو) میں وائرس کم سے کم 8 ماہ تک رہ سکتا ہے لیکن بعد میں اگر وائرس سے متاثرہ ایسے افراد کو ویکسین لگا دی جائے تو پھر ان میں قوت مدافعت کئی سال تک برقرار رہ سکتی ہے۔

مذکورہ تحقیق واشنگٹن یونیورسٹی کے اسکول آف میڈیسن کے سائنس دانوں نے کی جس کے نتائج سے معلوم ہوا کہ موڈرنا اور فائزر کی ویکسینیں لگوانے والے افراد کے جسم میں وائرس کے مقابلے میں قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے اور اس سے کووڈ-19 کے مقابلے میں تا دیر تحفظ مہیا ہوتا ہے۔

آن لائن میڈیکل نیوز ایجنسی ہیلتھ کی رپورٹ کے مطابق تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کرونا وائرس کی موجودہ نئی شکلوں سے محفوظ رہنے کے لیے ویکسین کی تیسری تقویتی خوراک لگوانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اگروائرس کی کوئی ایسی نئی شکل ظہور پذیر ہوتی ہے جو آر این اے پر مبنی ان دونوں ویکسینوں کے مقابلے میں طاقتور ثابت ہوتی ہے تو پھراس کا کوئی نیا تدارک کرنا پڑے گا۔

اس ضمن میں کی جانے والی تحقیق کے لیے ایسے افراد کو شامل کیا گیا جو ویکسین لگوا چکے تھے تاکہ ان کے خلیوں کا مطالعہ کیا جا سکے۔تحقیق کے مطابق خلیوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے جائزے سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ویکسین کی پہلی خوراک لگوانے کے بعد خلیے مستقل طور پر اس اندازمیں عمل کررہے تھے کہ جسم کا وائرس کے مقابلے میں کیسے دفاع کیا جاسکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق اس طرح ان میں مسلسل قوت مدافعت پیدا ہورہی تھی اور اس کی بدولت وہ وائرس کی ظہور پذیر ہونے والی ایسی نئی شکلوں کے مقابلے میں بھی تحفظ مہیا کرسکتے ہیں۔سینٹ لوئی میں واقع واشنگٹن یونیورسٹی کے وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹرعلی العبیدی کے زیر نگرانی ٹیم نے امریکہ کی دواساز فرموں کی تیارکردہ دونوں ویکسینوں کے دیرپا اثرات کا یہ مطالعہ کیا ہے۔

اس میں شامل 14 شرکاء کو پہلے ویکسین کی ایک خوراک لگائی گئی اور پھر 15 ہفتے تک ان کے خلیاتی نظام میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ وائرس کی شناخت کرنے والے میموری (حافظے) کے خلیوں کی تعداد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی تھی۔

ڈاکٹر علی العبیدی نے امریکہ کے مؤقر اخبار نیو یارک ٹائمز سے اس ضمن میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اچھی علامت ہے اور اس سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ اس ویکسین سے ہمارا مدافعتی نظام کتنا پائیداراور مضبوط ہوتا ہے؟انہوں ںے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ویکسین لگوانے کے تقریباً 4 ماہ بعد تک ردعمل جاری رہا جو بہت ہی اچھی علامت ہے۔

اس تحقیق کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ فائزر اور موڈرنا کی ویکسینیں لگوانے والے افراد کی کثیرتعداد کورونا وائرس اور اس کی اب تک سامنے آنے والی شکلوں سے کئی سال تک محفوظ رہ سکتی ہے۔لیکن ضعیف العمرافراد یا کم زور قوت مدافعت کے حامل افراد کو ویکسین کے اضافی تقویتی انجکشن لگانے کی ضرورت ہوگی مگر وائرس کے مقابلے میں ایم آراین اے ویکسینیں کتنے عرصے تک تحفظ مہیا کرسکتی ہیں؟ اس کا ابھی تعین نہیں کیا گیا ہے۔

مشہور خبریں۔

چین کے بڑھتے دباؤ کے درمیان تائیوان کا دفاعی بجٹ ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

?️ 21 اگست 2025چین کے بڑھتے دباؤ کے درمیان تائیوان کا دفاعی بجٹ ریکارڈ سطح

غزہ میں بھوک جنگ کے متاثرین میں اضافہ / لیبارٹریوں اور بلڈ بینکوں کی مخدوش صورتحال

?️ 19 اگست 2025سچ خبریں: غزہ کے طبی ذرائع نے پٹی کے خلاف صیہونی حکومت

صوفیہ نے ماسکو کو پیوٹن کو بلغاریائی ہوائی راہداری استعمال کرنے کی اجازت دی

?️ 21 اکتوبر 2025سچ خبریں: بلغاریہ کے وزیر خارجہ گئورگ جارجیف کا کہنا ہے کہ

الحشد الشعبی اور داعش کے درمیان جھڑپ

?️ 4 اپریل 2021سچ خبریں:عراقی صوبہ صلاح الدین کے شہر تکریت میں مزاحمتی تحریک کی

صیہونی ریاست میں سیاسی تعطل جاری

?️ 29 مارچ 2021سچ خبریں:نیتن یاہو کے مخلاف مقدمات کی سماعت اس دن ہوگی جس

کیا مصر بھی برکس میں شامل ہونے والا ہے؟

?️ 26 اگست 2023سچ خبریں: مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے مصر کو اس گروپ

ایک بار پھر پارٹی دہشتگردوں کے نشانے پر ہے، بلاول بھٹو

?️ 1 فروری 2024خضدار: (سچ خبریں) پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین اور سابق

محبت ایک خوبصورت احساس کانام ہے: شنیرا اکرم

?️ 13 مارچ 2021کراچی (سچ خبریں) وسیم اکرم کی اہلیہ شنیزا اکرم نےاپنے مداحوں کو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے