واحد پچھتاوا یہ ہے کہ اپنے دور اقتدار میں جنرل باجوہ پر اعتماد کیا، عمران خان

?️

راولپنڈی: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے اپنے دور اقتدار کا کا واحد پچھتاوا یہ ہے کہ میں نے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ پر اعتماد کیا کرنا تھا اور الزام عائد کیا کہ دوسری مرتبہ توسیع لینے کے لیے انہوں نے جھوٹا بیانیہ بنایا۔

اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان نے ’زیٹیو‘ کے صحافی مہدی حسن کو انٹرویو میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا جس میں خاص طور پر ان کے سابقہ دوست اور بعد میں بڑے مخالف بن جانے والے جنرل قمر جاوید باجوہ کو خصوصی طور پر آڑے ہاتھوں لیا گیا۔

صحافی مہدی حسن نے بذریعہ خط سوالات جیل بھیجے تھے اور صحافی دوبدو ملاقات کی سہولت میسر نہ تھی جس کی وجہ سے انہیں جیل سے خط کے ذریعے میں بھجوائے گئے جوابات پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنی قید کا ذمے دار کسی سمجھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے یہ سزا جنرل باجوہ کی ترتیب کردہ ہے اور میں کسی اور کو اس کا ذمہ دار نہیں سمجھتا۔

ان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ نے یہ منصوبہ بہت احتیاط سے ترتیب دیا اور اس پر عمل کیا، قومی اور بین الاقوامی سطح پر افراتفری پھیلانے کے لیے جھوٹی اور من گھڑت داستانیں اور بیانیے بنائے تاکہ وہ دوسری مرتبہ بطور آرمی چیف اپنی مدت ملازمت میں توسیع کرا سکیں۔

2019 میں عمران خان نے بطور پر وزیراعظم جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں ان کی ریٹائرمنٹ سے محض تین ماہ قبل مزید تین سال توسیع کی منظوری دی تھی تاہم بول نیوز کو 2022 میں دیے گئے انٹرویو میں عمران خان کہا تھا کہ انہوں نے توسیع دے کر غلطی کی تھی۔

عمران خان نے حالیہ انٹرویو میں مزید کہا کہ جنرل باجوہ جمہوریت اور پاکستان پر ان کے اقدامات کی وجہ سے مرتب ہونے والے نقصان دہ اثرات کو سمجھنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اب بھی یقین رکھتے ہیں کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے بغاوت میں ملوث تھی تو اس بار عمران خان نے اس معاملے کی تمام تر ذمے داری سابق آرمی چیف جنرل باجوہ پر عائد کی۔

انہوں نے کہا کہ جنرل باجوہ نے اکیلے ہی امریکا جیسے ممالک میں میرے بارے میں کہانیاں پھیلائیں اور ایسے ظاہر کیا کہ جیسے میں امریکا مخالف ہوں یا ان کے ساتھ اچھے تعلقات میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔

عمران نے کہا کہ اقتدار کے لیے ان کی ہوس نے انہیں ناقابل اعتبار بنا دیا تھا اور وہ ذاتی مفاد کے لیے وہ سوچے سمجھے بغیر ایسے فیصلے لینے لگے جس سے ملک کو نقصان پہنچا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے پاکستان میں قانون کی حکمرانی کے لیے مسلسل جدوجہد کی ہے، اگر معاشرے میں یکساں بنیادوں پر انصاف فراہم کیا جا رہا ہوتا تو ملکی سیاست میں مجھ جیسے شخص کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔

جب ان سے پاکستان کے دیرینہ دوست اور مسلم برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ ساتھ پاکستانی عسکری اور فوجی قیادت سے تعلق خراب کرنے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو بای پی ٹی آئی نے کہا کہ میں نے اپنی حکومت گرائے جانے کے بعد بھی زیادہ تر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھے تھے، جنرل باجوہ کے زہریلے بیانیے کا اثر کچھ وقت تک تو رہ سکتا ہے لیکن یہ دیرپا نہیں رہے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر ممالک ہماری فوج کو غیر مستحکم سیاسی منظر نامے میں ایک مستحکم قوت کے طور پر دیکھتے ہیں، جب ملک کی ’ایک مستقل طاقت‘ کا سربراہ وحشیانہ طاقت اور دھوکا دہی کا بے دریغ استعمال کرتا ہے تو بہت سے ممالک کے لیے بات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ لوگ میرے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کے بارے میں نہ بولیں لیکن دنیا کو جمہوریت اور پاکستان کے ان 25 کروڑ عوام کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے جن کا مینڈیٹ دن دیہاڑے چرا لیا گیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ موجودہ حکومت کو تسلیم کرتے ہیں تو عمران نے کہا کہ یہ حکومت جائز نہیں ہے اور مسلم لیگ(ن) پارلیمنٹ میں بمشکل ہی کوئی سیٹ جیت سکی تھی۔

عمران خان نے کہا کہ تشدد، اور پری پول دھاندلی واضح تھی جبکہ انتخابات کے بعد بھی انہیں نتائج کو تبدیل کرنے میں تقریباً دو دن لگے اور فارم 45 کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ کام بھی ٹھیک سے نہیں کر سکے۔

عمران نے دعویٰ کیا کہ کوئی بھی پاکستانی یہی کہے گا کہ موجودہ حکومت جائز نہیں ہے، ہماری شناخت اور قیادت کو کمزور کرنے کی کوششوں کے باوجود انتخابات میں میری پارٹی کی جیت واضح تھی۔

انہوں نے صحافی کو بتایا کہ مجھے اپنے کیے پر کوئی پچھتاوا نہیں اور میں ایک پاکستانی اور مسلمان کے طور پر اپنا فرض ادا کر رہا ہوں۔

بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ لوگوں میں میری مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ میں ان سے کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا، وہ جانتے ہیں کہ کوئی رقم مجھے خرید یا تبدیل نہیں کر سکتی، وہ جانتے ہیں کہ میں کبھی جھکوں گا اور نہ انہیں مایوس کروں گا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ دنیا کے لیے ان کا کیا پیغام ہے تو عمران خان نے کہا کہ یہ صرف عمران خان کی بات نہیں ہے، یہ جمہوریت اور ڈھائی کروڑ عوام کے حق خود ارادیت پر حملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت پر ہر ممکن طریقے سے حملہ کیا گیا اور اس ملک کی ہر پارٹی اس الیکشن کو ملکی تاریخ کا بدترین الیکشن قرار دیتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انتخابات سے عوام کے اعتماد اور مینڈیٹ کی بدولت ملک میں استحکام لانا ہوتا ہے، اس الیکشن نے نہ تو کچھ حاصل تو نہ کیا بلکہ الٹا عوام اور حکمران اشرافیہ کے درمیان غیر یقینی صورتحال اور عدم اعتماد کی خلیج کو مزید وسیع کردیا ہے۔

مشہور خبریں۔

صنعا نے کیا برطانیہ کو یمن کے خلاف جارحیت کے نتائج سے خبردار 

?️ 30 اپریل 2025سچ خبریں: صنعا کی تبدیلی اور تعمیر کی حکومت نے آج امریکہ

پاک بھارت میچ میں دہشتگردی کے خطرے کے پیش امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں، دفتر خارجہ

?️ 31 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ

صیہونیوں کے جرائم روکو ؛رام اللہ کی امریکہ اور سلامتی کونسل سے اپیل

?️ 6 فروری 2022سچ خبریں:فلسطینی محکمہ خارجہ اور تارکین وطن کی وزارت نے ایک بیان

کیا غزہ جنگ کے سلسلہ میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلاف ہے؟

?️ 11 نومبر 2023سچ خبریں: مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع میں امریکہ اور اسرائیل کے

خوراک تیار کرنے والی کمپنیاں سیلاب متاثرہ بچوں کیلئے عطیہ کریں: وزیراعظم

?️ 22 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اس

غزہ میں قحط کی باضابطہ تصدیق کے بعد امریکہ کو اسرائیل حمایت ختم کرنی چاہیے

?️ 24 اگست 2025غزہ میں قحط کی باضابطہ تصدیق کے بعد امریکہ کو اسرائیل حمایت

پاکستان کے پاس افغانستان کیخلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ طارق فضل چوہدری

?️ 23 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ

حزب اللہ کے ہتھیاروں کے خلاف امریکی ایلچی کی نئی بیان بازی

?️ 20 اکتوبر 2025سچ خبریں: واشنگٹن کے خصوصی نمائندہ برائے شام ٹام باراک نے دعویٰ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے