?️
ڈی آئی خان: (سچ خبریں) سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو چکی ہے، کارکن اسلام آباد جانے کی تیاری کریں۔
ڈیرہ اسمٰعیل خان میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو چکی ہے، پارلیمنٹ گھر کی لونڈی ہے، اب اسٹیبلشمنٹ کی وہ حیثیت نہیں رہی، ہم تمہارے جعلی ایوانوں کو اپنی ٹھوکر پر رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم جس جمہوریت کے علمبر دار ہیں، وہ جمہوریت، آئینی جمہوریت، اسلام کی علمبردار جمہوریت، قرآن و سنت کی علمبردار جمہوریت، عوام کی نمائندہ جمہوریت ہے، اور اگر وہاں قرآن و سنت نہیں ہے، اگر وہاں اسلام کی سربلندی نہیں ہے، اگر وہاں کلمۃ اللہ نہیں ہے، وہاں ٹرمپ اور امریکا کی غلامی ہے تو ہم ایسے نظام پر لعنت بھیجتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اپنے نوجوان کو بیدار کرو اور انہیں بتاؤ کہ تمہارا مستقبل ٹرمپ کی سیاست نہیں ہے، تمہارا مستقبل یہود کی سیاست نہیں ہے، تمہارا مستقبل ہندوؤں کی سیاست نہیں ہے، تمہارا مستقبل مفتی محمود کی سیاست ہے۔
سربراہ جے یو آئی (ف) نے کارکنوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ سی پیک روٹ آپ کے لیے ہے، اسلام آباد جانےکی تیاری کریں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ میں اسٹیبلشمنٹ ، سیاستدانوں اور حکمرانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب 1977 میں پورے ملک میں الیکشن میں دھاندلی ہوئی، اُس دھاندلی کے خلاف پورے ملک میں تحریک اٹھی، اُس تحریک کی قیادت مفتی محمود نے کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ چوری سے نتائج برآمد کرنا، الیکشن میں دھاندلی کرنا، اس کے خلاف سب سے پہلی بڑی تحریک کی قیادت میرے قائد نے کی تھی، ہماری مٹھی میں یہ بات ڈال دی گئی کہ ہم پاکستان میں چوری شدہ الیکشن قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ چوری 2018 میں بھی ہوئی، ہم نے کہا ہم تسلیم نہیں کرتے، 2024 میں بھی ہوئی، اس صوبے کے الیکشن میں چوری ہوئی، ہم نے نہ صوبے کی چوری کو تسلیم کیا، نہ ہم نے وفاق کی چوری کو تسلیم کیا، نہ ہم نے 2018 کی چوری کو تسلیم کیا، نہ ہم نے 2024 کی چوری کو تسلیم کیا، اور لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ پاکستان کے عوام کو ان کے ووٹ کا حق واپس نہ دلایا جائے۔
سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ ہم اختلاف کرتے ہیں، ہم اختلاف کریں گے، لیکن ہماری سیاست گالیوں، بدتمیزی، بداخلاقی، فحاشی اور عریانی کی سیاست نہیں ہے، ہماری سیاست اعلیٰ اسلامی اقدار کی سیاست ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس ملک میں ایک اور تحریک شروع ہوئی کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے، اسرائیل کو تسلیم کرنے میں ہمارا بڑا مفاد ہے، لیکن آپ کی طاقت تھی جو میدان میں نکلی، اس نظریے کو مارا، اسرائیل کو تسلیم کرنے کے عزائم کو توڑا اور آج کوئی بھی پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اللہ رب العزت نے یہودیوں پر قیامت تک لعنت بھیجی ہے، اور یہ وہ سازشی لوگ ہیں کہ قرآن کہتا ہے کہ جب بھی معاہدہ کریں گے یہ توڑیں گے۔ مسلسل معاہدے توڑیں گے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ قائد اعظم نے اسرائیل کی حکومت بننے کے بعد سب سے پہلا بیان دیا تھا کہ یہ ایک ناجائز ریاست ہے، اس نے جس کو ناجائز ریاست کہا اور جس کو انہوں نے عربوں کی پیٹھ پر گھونپا ہوا خنجر قرار دیا، آج قائد اعظم کا نام لینے والے انہی کے اصول اور انہی کے فیصلوں کو روند رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ہم زندہ ہیں، میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں اور ان ساری قوتوں کو آگاہ کرتا ہوں کہ جب تک ہم زندہ ہیں، تمہارا باپ بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکے گا۔


مشہور خبریں۔
نیتن یاہو موساد کا نیا سربراہ مقرر کرنا چاہتے ہیں
?️ 4 دسمبر 2025سچ خبریں: نیتن یاہو موساد کے نئے سربراہ کے نام کا اعلان
دسمبر
شاہ محمود قریشی کا امریکی ہم منصب سے رابطہ، افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال
?️ 17 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی اور امریکی ہم منصب کے
اگست
مالی سال 2026 کیلئے بجلی کے بنیادی نرخوں میں کسی بڑی کٹوتی کا امکان نہیں
?️ 8 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے بجلی
مئی
صہیونی مغربی کنارے اور غزہ میں حالات کی خرابی سے پریشان
?️ 16 فروری 2022سچ خبریں: ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ مقبوضہ یروشلم کے
فروری
اربیل میں ایک خوفناک آگ
?️ 19 ستمبر 2022سچ خبریں: عراقی خبر رساں ذرائع نے عراقی کردستان میں واقع
ستمبر
غزہ کی سرنگیں صہیونیوں کو کیسی لگیں؟
?️ 21 جنوری 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ریڈیو نے ایک رپورٹ میں غزہ کی
جنوری
درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی، تجارتی خسارہ 12 ارب 58 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا
?️ 5 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) رواں مالی سال کے ابتدائی چار مہینوں کے
نومبر
گرینل ایران کے امور کے لیے خصوصی نمائندے کے طور پر منتخب
?️ 12 دسمبر 2024سچ خبریں: روئٹرز نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے
دسمبر