مضبوط معیشت کے بغیر ملک کی سیکیورٹی ممکن نہیں، معید یوسف

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے ملکی معیشت کو مضبوط بنانے اور اقتصادی حکمت عملی کی تحت اسے برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مضبوط معیشت کے بغیر پاکستان عسکری اور انسانی تحفظ حاصل نہیں کرسکتا۔

 ڈاکٹر معید یوسف نے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد میں ’بدلتی ہوئی جیوپولیٹکل صورتحال پر قومی سلامتی پالیسی کی اہمیت ’ کے عنوان پر سیمینار سے خطاب کیا۔ سابق مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے رواں سال جنوری میں جاری کی گئی پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی کو مرتب کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، پالیسی میں عوام کے تحفظ، سلامتی، وقار اور خوشحالی کے لیے معاشی، انسانی، روایتی تحفظ پر مشتمل جامع قومی سلامتی پالیسی کا حصول شامل تھا.

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجودہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے ملکی معیشت بحران کا شکار ہے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے قرض پروگرام کے آغاز پر بحران میں کمی کا امکان تھا لیکن ملک میں تباہ کن سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے تمام اُمیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

سابق مشیر قومی سلامتی نے مشاہدہ کیا کہ پاکستان کو غیر ملکی ذخائر میں کمی کا سامنا ہے، معیشت کو بہتر کرنے کے لیے 30 سے 35 ارب ڈالرز کی ضرورت ہے، معیشت میں اتنے بڑے فرق کی وجہ سے آزاد خارجہ پالیسی بننے کی راہ میں رکاوٹ آئی۔

معید یوسف نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ سرمایہ کاری میں اضافہ، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ترغیب اورتربیت یافتہ افرادی قوت میں اضافہ کرکے صورتحال پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی استحکام کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ دنیا مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، ہمیں ان حالات میں معاشی استحکام کے مقاصد کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

سابق مشیر قومی سلامتی نے خدشہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی خوراک کی قلت کے سبب صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔

مشہور خبریں۔

طوفان الاقصی کے بارے میں صیہونی فوج کا اعتراف

?️ 18 مارچ 2024سچ خبریں: صیہونی مسلح افواج کے سربراہ ہرتزی ہالوی نے 7 اکتوبر

ڈیموکریٹس کی وارننگ؛ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران پر حملہ قانون کی خلاف ورزی ہے

?️ 26 فروری 2026سچ خبریں: امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما نے اعلان کیا

خلیجی جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کی پذیرائی

?️ 5 اپریل 2026اسلام آباد (سچ خبریں) امریکا اسرائیل جنگ بندی کے لیے پاکستان کے

صیہونی ایک بار پھر سعودی عرب سے خوش

?️ 28 ستمبر 2023سچ خبریں: سیاحت سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے

حکومت 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد دھڑا دھڑ قانون سازی کررہی ہے، مولانا فضل الرحمٰن

?️ 18 نومبر 2024پشاور: (سچ خبریں) سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمٰن نے

عالمی بینک نے پاکستان کے ٹیکس نظام کوانتہائی غیر منصفانہ اور بے ہودہ قرار دیدیا

?️ 17 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) عالمی بینک نے پاکستان کے ٹیکس نظام کوانتہائی

صیہونیوں کی طرف سے لبنان میں جنگ بندی کی تجویز

?️ 31 اکتوبر 2024سچ خبریں: امریکی میڈیا لبنان اور صیہونی حکومت کے درمیان عنقریب جنگ

امریکی سینیٹ نے کی سالانہ فوجی بجٹ بل کی مخالفت

?️ 30 نومبر 2021سچ خبریں:  بل کو 45-51 ووٹوں سے منظور کیا گیا یعنی یہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے