?️
لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے انسداد دہشت گردی عدالت ون راولپنڈی سے کیسز دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی حکومت پنجاب کی درخواست پر ججز تعینات کرنے والی حکومتی کمیٹی کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
انسداد دہشتگری عدالت ون راولپنڈی سے کیسز دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی حکومت پنجاب کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خالد اسحٰق نے عدالت کو بتایا کہ جس رپورٹ کا آپ نے حکم دیا تھا وہ تیار ہے، حکومت نے ججز کی تعیناتی کے حوالے سے جان بوجھ کر تاخیر نہیں کی، یہ معاملہ انتظامی سطح پر بھی اٹھایا گیا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا کہنا تھا کہ ہم نے رجسٹرار کو لکھے گئے خط میں لکھا ہے کہ مشاورت کر لیں ہم دو دن میں تعیناتی کر دیں گے۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ملک شہزاد احمد خان نے استفسار کیا کہ نیب کی عدالتیں کب سے خالی ہیں ؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا کہنا تھا کہ اس پر تو وفاق جواب دے گا۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ وفاق میں بھی آپ کی ہی حکومت ہے، 5 ماہ سے انسداد دہشت گری کی عدالتیں خالی ہیں۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ بندے بغیر ٹرائل کے جیل میں پڑے ہیں، آپ چاہتے ہیں کہ پڑے رہیں۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ہمارے نامزد کیے ہوئے ججز آپ کو پسند نہیں، میں وزیر اعلی کے پاس چلا جاتا ہوں، ان سے بات کر لیتا ہوں۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ میں ایسا ہرگز نہیں کہہ رہا، جس پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ آپ کو کتنی بار رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ نے خط لکھا کہ اس ملک کے لوگوں پر رحم کریں،
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ اگر قانون میں مشاورت کا لکھا ہے کہ تو بتائیں اس کا طریقہ کار کیا ہے ؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ آپ کمیٹی سے بات کر لیں، تو اس پر گھنٹوں میں کارروائی شروع ہو جائے گی۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ کل آپ کمیٹی کو یہاں بلا لیں، ان سے مشاورت کر لیں گے، اوپن کورٹ میں مشاورت ہونی چاہیے، ساری قوم دیکھ لے، سارا ریکارڈ بھی لے آئیں کہ آج سے پہلے کتنی کمیٹیاں بنتی رہی ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ میری گزارش ہے کہ آپ اس معاملے کو انتظامی حوالے سے دیکھیں، مزید کہنا تھا کہ مجھے کچھ وقت دیا جائے کہ چیک کر سکوں کہ ماضی میں ایسی کمیٹیوں کے حوالے سے کیا پریکٹس رہی ہے؟
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ کل کمیٹی عدالت میں پیش ہو، اگر عدالت کو مناسب لگا تو کمیٹی سے انتظامی سطح پر معاملے کو دیکھا جائے گا۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ملک شہزاد احمد خان نے مزید کہا کہ ہماری کوئی خواہش نہیں ہے کہ وزیر اعلی صاحبہ کو تکلیف دیں، مگر کابینہ کی سربراہی وزیر اعلی کرتی ہیں، ان کی بھی ذمہ داری ہے۔
بعدازاں، عدالت نے ججز تعینات کرنے والے حکومتی کمیٹی کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
واضح رہے کہ پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ انسداد دہشتگری عدالت ون راولپنڈی سے کیسز دوسری عدالت میں منتقل کیے جائیں، پنجاب حکومت نے اے ٹی سی ون راولپنڈی کے جج کے خلاف ریفرنس دائر کر رکھا ہے۔


مشہور خبریں۔
پر تشدد احتجاج: مذہبی جماعت کے منتظمین کی نشاندہی، مشتعل عناصر کی فہرست بھی تیار
?️ 15 اکتوبر 2025لاہور (سچ خبریں) مذہبی جماعت کے پرتشدد احتجاج کے منتظمین کی نشاندہی
اکتوبر
اگر میں الیکشن جیت گیا تو یوکرین کی جنگ فوراً روک دوں گا: ٹرمپ
?️ 23 جون 2024سچ خبریں: امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر
جون
اپسٹین کیس میں نیتن یاہو کا نام بھی سامنے آ گیا
?️ 5 فروری 2026سچ خبریں:جفری اپسٹین کی فائلوں سے سامنے آنے والی ایک نئی ای
فروری
غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے نقصانات کی تفصیل
?️ 22 جنوری 2024سچ خبریں:صہیونی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق غزہ کی پٹی کے خلاف
جنوری
شہباز گل کی جانب سے فیصل آباد میں ریلی کا انعقاد
?️ 9 فروری 2022فیصل آباد(سچ خبریں) معاون خصوصی شہباز گل کی جانب سے فیصل آباد
فروری
عبرانی میڈیا: اسرائیل میں ہر 5 میں سے ایک فوجی نشے کا عادی ہے
?️ 31 دسمبر 2025سچ خبریں: اسرائیل میں 7 اکتوبر کے بعد شراب اور منشیات کے عادی
دسمبر
ایٹمی مذاکرات سے متعلق ایران کا مؤقف
?️ 7 اگست 2022سچ خبریں:ایرانی وزیر خارجہ نے ایٹمی معاہدے سے متعلق اپنے ملک کا
اگست
جیت جنون اور جذبے کی ہوگی فواد چوہدری کی پیشین گوئی
?️ 24 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر فواد چوہدری نے پاک بھارت میچ
اکتوبر