?️
سچ خبریں:امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں پر واضح کیا ہے کہ وہ ایسا کوئی معاہدہ دستخط نہیں کریں گے جس کے تحت امریکہ براہ راست ایران کو مالی وسائل فراہم کرے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے کہا ہے کہ وہ ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کریں گے جس میں ایران کو براہِ راست مالی فوائد یا منجمد اثاثوں کی فوری آزادی شامل ہو۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں مالی معاملات اہم رکاوٹ بن گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ ایک ایسے معاہدے کے خواہاں ہیں جسے وہ اپنے لیے سیاسی طور پر فائدہ مند قرار دے سکیں، جبکہ وہ ایران کے منجمد اثاثوں کی آزادی کے معاملے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ کی اس پالیسی کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ وہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے سے اپنے کسی بھی ممکنہ معاہدے کا موازنہ نہیں چاہتے۔
ٹرمپ ماضی میں اوباما انتظامیہ کو ایران کے تقریباً 1.7 ارب ڈالر کے اثاثے آزاد کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ سی این این کے مطابق بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایران نے ابتدائی معاہدے کے حصے کے طور پر تقریباً 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
مذاکرات سے واقف ایک امریکی عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ایران کے منجمد اثاثوں کا مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ ایک ایسے معاہدے کے خواہاں ہیں جو اوباما دور کے 2015 کے معاہدے سے زیادہ مضبوط دکھائی دے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے ثالثی کردار ادا کرنے والے ممالک کو یہ پیغام دیا ہے کہ جیسے ہی ابتدائی مفاہمتی دستاویز پر اتفاق ہو، اسی مرحلے پر اس کے کچھ اثاثے آزاد کیے جائیں اور اس معاملے کو مستقبل کی کسی تاریخ تک مؤخر نہ کیا جائے۔
تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ ابتدائی مرحلے میں اثاثوں کی آزادی سے ایران پر موجود اقتصادی دباؤ کم ہو جائے گا اور امریکہ کا مذاکراتی دباؤ یا اثر و رسوخ کمزور پڑ سکتا ہے۔
سی این این کے مطابق ٹرمپ نے اپنی ٹیم سے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو 2015 کے معاہدے سے کہیں زیادہ مضبوط نظر آئے، اور اسی بنیاد پر وہ ایران کے منجمد اثاثوں کی آزادی سے گریز کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے زور دیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں اس کے منجمد اثاثوں کی رہائی ایک بنیادی شرط ہونی چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق مالی معاملات میں تعطل کے باعث بعض حلقوں میں ایران کے لیے ایک سرمایہ کاری فنڈ قائم کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جو حتمی معاہدے کے بعد تعمیر نو اور اقتصادی سرگرمیوں کے لیے اربوں ڈالر فراہم کر سکے۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اس فنڈ میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا اور اس کے زیادہ تر مالی وسائل خلیج فارس کے ممالک کی جانب سے فراہم کیے جائیں گے۔
وائٹ ہاؤس کا اصرار ہے کہ جب تک ایران اپنی اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کی موجودہ ذخیرہ اندوزی ختم نہیں کرتا، اسے کسی قسم کی مالی سہولت نہیں دی جائے گی۔ امریکی حکام اس مؤقف کو بیان کرنے کے لیے یہ جملہ استعمال کر رہے ہیں کہ جب تک جوہری مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوتا، کوئی مالی رعایت نہیں دی جائے گی۔
گزشتہ ہفتے کابینہ کے اجلاس میں ٹرمپ نے ایران کے منجمد اثاثوں کے بارے میں کہا تھا کہ ہم اس رقم کو اپنے کنٹرول میں رکھے ہوئے ہیں جسے ایران اپنی ملکیت قرار دیتا ہے۔ جب وہ مناسب طرزِ عمل اختیار کریں گے اور ہماری نظر میں درست اقدامات کریں گے تو انہیں ان کے وسائل تک رسائی دی جا سکتی ہے، لیکن اس وقت ایسا نہیں ہوگا۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو نے بھی کہا ہے کہ پابندیاں فوری طور پر ختم نہیں کی جائیں گی۔
انہوں نے کانگریس میں ایک سماعت کے دوران کہا کہ مذاکرات کی میز پر کوئی پیشگی انعام موجود نہیں ہے اور تمام معاملات مطلوبہ شرائط کی تکمیل سے مشروط ہوں گے۔
روبیو نے مزید کہا کہ جو پابندیاں براہ راست جوہری پروگرام سے متعلق ہیں، ان پر اس وقت غور کیا جا سکتا ہے جب ایران ان تمام شرائط کو مکمل طور پر نافذ کرے جن کا امریکہ مطالبہ کر رہا ہے، تاہم یہ معاملہ مذاکرات کے اختتامی مراحل کا حصہ ہوگا، نہ کہ ابتدائی پیشگی اقدام۔
ڈونلڈ ٹرمپ, ایران امریکہ مذاکرات, ایران کے منجمد اثاثے, سی این این, جوہری معاہدہ, باراک اوباما, مارکو روبیو, امریکی پابندیاں, ایران امریکہ تعلقات, واشنگٹن, تہران, ایرانی اثاثے, اقتصادی پابندیاں, جوہری پروگرام, 2015 جوہری معاہدہ, خلیج فارس ممالک, سرمایہ کاری فنڈ, سفارتی مذاکرات, وائٹ ہاؤس, امریکی خارجہ پالیسی


مشہور خبریں۔
یحییٰ السنور پورے صیہونی ڈھانچے کے ساتھ کیا کیا؟؛ صیہونی سکیورٹی مطالعاتی مرکز کی زبانی
?️ 28 نومبر 2023سچ خبریں: صیہونی حکومت کے سب سے معتبر سکیورٹی ریسرچ سینٹر نے
نومبر
کیف کو ہتھیاروں کی ترسیل معطل کرنے کے فیصلے کے بعد امریکہ پر نیٹو کا دباؤ
?️ 3 جولائی 2025سچ خبریں: نیٹو میں امریکہ کے بعض اتحادیوں نے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ
جولائی
صہیونی حکومت کے اقدامات کے خلاف امریکی عوام کا صبر ختم ہو رہا ہے:سی این این
?️ 12 اپریل 2025 سچ خبریں:ایک مطلع ذریعے نے بتایا کہ صہیونی حکومت کے اقدامات
اپریل
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے پاکستان کے حوالے سے اہم بیان جاری کردیا
?️ 19 مارچ 2021جنیوا (سچ خبریں) اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان
مارچ
بس چلے تو ٹیکس کی شرح 15 فیصد کم کردوں مگر آئی ایم ایف کی وجہ سے مجبور ہوں، وزیراعظم
?️ 27 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ
جنوری
ایران کے خلاف نئی امریکی پابندیاں
?️ 30 مئی 2026 سچ خبریں:دہشت گرد امریکی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس
مئی
وزیراعلیٰ پنجاب نے 10 لاکھ ڈوز خریدنے کا اعلان کردیا
?️ 7 اپریل 2021لاہور (سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا کہ کورونا مریضوں
اپریل
وزیر خزانہ شوکت ترین کورونا وائرس میں مبتلا ہوگئے
?️ 19 جنوری 2022اسلام آباد(سچ خبریں)عالمی وبا کورونا وائرس نے پاکستان میں اپنے پاؤں جما
جنوری