عالمی ایجنسی نے پاکستان کی طویل مدتی خودمختار ریٹنگ میں کمی کردی

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) اسٹینڈرڈ اینڈ پورز (ایس اینڈ پی) گلوبل ریٹنگ ایجنسی نے ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام، بیرونی مالیاتی اور اقتصادی خسارے کے پیش نظر پاکستان کی طویل مدتی خود مختار کریڈٹ ریٹنگ ’بی مائنس‘ سے کم کرکے ’سی سی سی پلس‘ کردی۔

 کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی اسٹینڈرڈ اینڈ پورز گلوبل نے کہا ہے کہ آؤٹ لک (منظر نامہ) مثبت ہے اور اس نے پاکستان کی طویل مدتی ساورن (خود مختار) کریڈٹ ریٹنگ کو بی مائنس سے کم کرکے سی سی سی پلس، مختصر مدت ریٹنگ کو بی کیٹگری سے سی جبکہ سینئر غیر محفوظ شدہ قرض اور سکوک ٹرسٹ سرٹیفکیٹ پر طویل المدتی ایشو کی درجہ بندی ’سی سی سی پلس‘ کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ریٹنگ ایجنسی نے کہا کہ مستحکم آؤٹ لک کثیر جہتی اور دوطرفہ شراکت داروں کی جانب سے اضافی تعاون نہ ہونے کے باعث اگلے سال بھی پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اور مالیاتی کارکردگی مزید خطرات کی عکاسی ہے۔

ریٹنگ ایجنسی نے کہا کہ اگر پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر مزید بگڑتے ہیں یا مالیاتی خسارہ ڈومیسٹک بینکنگ سسٹم کی فنانسنگ صلاحیت سے بڑھ جاتا ہے تو ریٹنگ مزید کم کی جا سکتی ہے اور مقامی مالیاتی تناؤ سے حکومت کے سود کے بوجھ میں مزید اضافہ ہوگا جس کا تخمینہ 2023 میں حکومتی محصولات کے 40 فیصد سے زیادہ ہوگا۔

ریٹنگ ایجنسی نے مثبت عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر اور بیرونی خسارہ میں موجودہ صورتحال سے کچھ بہتری ہوتی ہے تو ریٹنگ بڑھائی جائے گی اور اس بہتری میں زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ، محصولات کی نسبت پاکستان کے قرض کی ادائیگی، اخراجات میں استحکام اور قرض کی پختگی میں طوالت شامل ہوسکتی ہے۔

ریٹنگ ایجنسی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ریٹنگ میں کمی زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی خسارے اور مسلسل معاشی عدم استحکام کی عکاسی کرنے کے لیے کی گئی ہے۔

مجموعی بیرونی مالیاتی ضروریات اور زرمبادلہ کے محدود ذخائر کے پیش نظر پاکستان کی ادائیگی کا توازن توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور غیر ملکی امداد کی دستیابی کے لیے کمزور ہے۔

ریٹنگ ایجنسی نے کہا کہ قرضوں کا جی ڈی پی اور بجٹ خسارے کا تناسب زیادہ رہے گا جس میں 40 فیصد سے زیادہ سود کی ادائیگی ہوگی اور اس طرح سرمایہ کاری اور سماجی معاونت کے لیے حکومت کی صلاحیت کم ہوگی۔

ریٹنگ ایجنسی نے مزید کہا کہ پہلے ہی کمی کا شکار پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 2023 میں بھی دباؤ میں رہیں گے اور تباہ کن سیلاب، خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگی توانائی، عالمی سطح پر بڑھتے شرح سود، درمیانی مدت کے دوران ری فنانسنگ کے چیلنجز معیشت اور مالیاتی اہداف کو کمزور کریں گے۔

ریٹنگ ایجنسی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو شدید سیاسی چیلنجز کا بھی سامنا ہے جو اس کی اگلے 12 ماہ کی پالیسی کو متاثر کر سکتے ہیں، اس کے علاوہ 2022 کے موسم گرما کے دوران شدید سیلاب نےکاروبار کے لیے مزید مشکلات پیدا کردیے ہیں جس کی وجہ سے ترقی کی شرح میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت کی طرف سے قرض کی قسط کے حصول کے سلسلے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے آٹھ جائزے مکمل ہونے کے بعد اگلے جائزوں کے تکمیل کے لیے کارکردگی کی ضروریات کو مکمل کرنے جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔

مشہور خبریں۔

عراقچی نے کالاس کو جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے اقدامات سے آگاہ کیا

?️ 2 مئی 2026 سچ خبریں:سید عباس عراقچی، وزیر خارجہ اسلامی جمہوریہ ایران، اور محترمہ

ٹرمپ کے وزیر خارجہ کی ایران پر کانگریس کے سینئر نمائندوں سے ملاقات

?️ 24 فروری 2026سچ خبریں: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کانگریس

برطانوی قدامت پسندوں کا نیا جنسی سکینڈل سنک کے لئے چیلنج

?️ 8 اپریل 2024سچ خبریں: جرمنی کے ہینڈلزبلاٹ نے برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کے لیے

امریکی سفیر کے ٹیل ایویو سے قاہرہ روانہ

?️ 28 ستمبر 2025سچ خبریں: امریکی سفیر مقبوضہ فلسطینی علاقوں، مائیک ہاکابی، نے ٹیل ایویو

شوکت ترین کو سینیٹ کا ٹکٹ مل گیا

?️ 2 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) شوکت ترین کو سینیٹ کا ٹکٹ مل گیا،

فیمنزم پر یقین نہیں رکھتی، عورت کو گھر میں ہی رہنا چاہیے، مائرہ خان

?️ 31 اکتوبر 2024کراچی: (سچ خبریں) ماڈل و اداکارہ مائرہ خان نے کہا ہے کہ

شہریوں کےساتھ سعودی حکومتی اداروں کا فراڈ

?️ 26 اپریل 2022سچ خبریں:  ایک سروے سے پتا چلا ہے کہ تقریباً دو تہائی

کراچی سمیت سندھ بھر میں دفعہ 144 میں ایک ماہ کی توسیع کردی گئی

?️ 11 نومبر 2025کراچی (سچ خبریں) شہر قائد سمیت سندھ بھر میں دفعہ 144 میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے