?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں زیر سماعت 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت میں وکیل عابد زبیری کے دلائل جاری رہے، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیئے کچھ وکلاء نے تویہ بھی کہا ہے آرٹیکل 191 اے کو سائیڈ پر رکھ کر کیس سنا جائے، سمجھ نہیں آتا آئین کے کسی آرٹیکل کو سائیڈ پر کیسے رکھا جائے؟ جسٹس عائشہ ملک نے کہا عدالتی فیصلے موجود ہیں کہ جو شق چیلنج ہو اسے کیسے سائیڈ پر رکھا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 8 رکنی آئینی بینچ نے 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر سماعت کی۔
سپریم کورٹ بار کے سابق صدور کے وکیل عابد زبیری نے دلائل جاری رکھتے ہوئے مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا اور موقف اختیار کیا کہ پارٹی جج پر اعتراض نہیں کرسکتی، مقدمہ سننے، نہ سننے کا اختیار جج کے پاس ہے، آئینی ترمیم سے پہلے موجود ججز پر مشتمل فل کورٹ بنایا جائے۔
جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ ایک جانب آپ کہتے ہیں فل کورٹ بنائیں، دوسری طرف کہتے ہیں صرف 16 جج کیس سنیں، پہلے اپنی استدعا تو واضح کریں کہ ہے کیا۔
دوران سماعت عابد زبیری کی جانب سے پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا کہ موجودہ 8 رکنی بینچ میں ہمیں اپیل کا حق نہیں ملے گا۔
جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے کہ اپیل کا حق دینا ہے یا نہیں یہ اب جوڈیشل کمیشن کے ہاتھ میں آ گیا ہے، یہ سیدھا سیدھا عدلیہ کی آزادی کا معاملہ ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ کچھ وکلا نے تویہ بھی کہا ہے آرٹیکل 191 اے کو سائیڈ پر رکھ کر کیس سنا جائے، سمجھ نہیں آتا آئین کے کسی آرٹیکل کو سائیڈ پر کیسے رکھا جائے؟ جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے عدالتی فیصلے موجود ہیں کہ جو شق چیلنج ہو اسے کیسے سائیڈ پر رکھا جاتا ہے۔
دوران سماعت جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ رولز 2025 میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ بینچ چیف جسٹس بنائے گا، عابد زبیری نے موقف اپنایا کہ فل کورٹ بینچ نہیں ہے، آج تک فل کورٹ کیسے بنے، آپ کی بھی ججمنٹ موجود ہے۔
جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ فل کورٹ کے حوالے سے رولز 2025 میں ہونا چاہیے تھا، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ کمیٹی کے پاس بینچز بنانے کا اختیار ہے، فل کورٹ بنانے کا اختیار نہیں، کمیٹی کے اختیارات چیف جسٹس کے اختیارات نہیں کہلائے جاسکتے، دونوں مختلف ہیں، ہم بینچز نہیں بلکہ فل کورٹ کی بات کررہے ہیں۔
دوران سماعت جسٹس جمال مندو خیل اور جسٹس عائشہ ملک میں اہم ریمارکس کا تبادلہ ہوا، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ رولز کے حوالے سے 24 ججز بیٹھے تھے، ان کے سامنے رولز بنے، جس پر جسٹس عائشہ ملک نے کہا سب کے سامنے نہیں بنے، میرا نوٹ موجود ہے۔
جسٹس جمال مندو کیل نے ریمارکس دیے کہ میٹنگ منٹس منگوائے جائیں، سب ججز کو ان پٹ دینے کا کہا گیا تھا، یہ کیس آگے نہیں چلے گا، جب تک یہ کلیئر نہیں ہوتا۔
اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا یہ ججز کا اندرونی معاملہ ہے، اس کو یہاں پر ڈسکس نہ کیا جائے، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیئے یہاں مجھے جھوٹا کیا جا رہا ہے، بعد ازاں عدالت نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت کل ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردی۔


مشہور خبریں۔
صیہونی معیشت حالیہ دہائیوں کے بدترین بحران سے دوچار
?️ 5 اپریل 2026سچ خبریں:یمنی میڈیا المسیرہ کے مطابق ایران کے خلاف جنگی کشیدگی کے
اپریل
شام کے خلاف پابندیوں نے تباہی کو مزید بڑھا دیا ہے: فیصل مقداد
?️ 8 فروری 2023سچ خبریں:شام کے وزیر خارجہ فیصل مقداد نے ایک انٹرویو میں کہا
فروری
مذاکرات آگے بڑھانے کیلئے تیار ہوں، وزیراعظم کی تحریک انصاف کو پارلیمانی کمیٹی بنانے کی پیشکش
?️ 30 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے تحریک انصاف کو پارلیمانی
جنوری
سید حسن نصر اللہ کے جنازے سے بھی دشمنوں کی صفوں میں خوف و ہراس
?️ 23 فروری 2025 سچ خبریں:لبنان میں سید حسن نصر اللہ کی تشییع جنازے کی
فروری
چینی دوا ساز کمپنیوں کا پاکستان کے ساتھ اہم معاہدہ
?️ 2 اپریل 2021کراچی (سچ خبریں)کورنا وائرس کی بڑھتی لہر کو دیکھتے ہوئے ایک مقامی
اپریل
مصر اور سعودی کی جانب سے رفح شہر کے خلاف اسرائیل کی سخت مخالفت
?️ 22 فروری 2024سچ خبریں:مصری وزارت خارجہ نے غزہ کی پیش رفت کے حوالے سے
فروری
الضیف اور شہید السنوار کی کچھ نئی تصاویر
?️ 25 جنوری 2025سچ خبریں: پہلی بار عزالدین القسام بریگیڈز کی ملٹری کونسل کے کمانڈ
جنوری
ٹرمپ کا ایران کے خلاف معاشی دباؤ کا پرانا نسخہ؛ ماہرین کیا کہتے ہیں؟
?️ 21 اگست 2026سچ خبریں: چھ ماہ کی جنگ کے بعد، ایران کے خلاف امریکی
اگست