250 سالہ امریکی تہذیب یا 400 جنگیں؟ کروڑوں متاثرین اور عالمی تباہی کی داستان

جنگیں

?️

سچ خبریں:امریکہ نے گزشتہ 250 برسوں میں تقریباً 400فوجی مداخلتیں اور جنگیں کیں جن کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک، کروڑوں بے گھر اور متعدد ممالک کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوا۔ اس رپورٹ میں امریکہ کی اہم جنگوں اور ان کے عالمی اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

جس چیز کو آج امریکہ کی 250 سالہ تہذیب کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، وہ درحقیقت 400سے زائد جنگوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے دنیا بھر میں لاکھوں انسانوں کی جانیں لیں اور متعدد ممالک کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا۔

امریکہ نے اپنی ریاست کے قیام کے بعد گزشتہ 250 برسوں کے دوران قوم سازی، اندرونی ترقی، دیگر ممالک پر عالمی بالادستی قائم کرنے اور بالآخر مشرق وسطیٰ اور افریقہ پر غلبہ حاصل کرنے کی کوششوں کے تحت متعدد جنگیں شروع کیں۔

امریکہ نے سن 1776 سے اب تک تقریباً 400 فوجی مداخلتیں انجام دی ہیں، جن کی رفتار سرد جنگ کے خاتمے کے بعد نمایاں طور پر بڑھ گئی۔ ان جنگوں نے دنیا پر بھاری معاشی اور انسانی بوجھ ڈالا۔ گیارہ ستمبر کے بعد ہونے والی جنگوں کی مجموعی لاگت، زخمی فوجیوں کے اخراجات اور قرضوں پر سود سمیت، تقریباً 6 اعشاریہ 4 کھرب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ان کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک اور کروڑوں لوگ بے گھر ہوئے۔

امریکہ کے آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے، جبکہ مسلح افواج کی اعلیٰ ترین کمان صدر کے سپرد ہوتی ہے۔ امریکی قانونی نظام میں اعلان جنگ اور فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ اعلان جنگ مکمل جنگی حالت پیدا کرتا ہے، جبکہ فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت صدر کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ کسی مخصوص ملک یا تنظیم کے خلاف باضابطہ اعلان جنگ کے بغیر فوجی کارروائی کر سکے۔

انیسویں صدی میں امریکہ اپنی جنگوں کو خودمختاری کے تحفظ، قوم سازی اور اپنے جغرافیائی دائرہ کار میں توسیع جیسے جواز پیش کرکے شروع کرتا تھا۔ ان جنگوں کا مقصد سرحدوں کا تحفظ، زرخیز زمینوں پر قبضہ اور تجارتی اثرورسوخ میں اضافہ قرار دیا جاتا تھا، جس کے نتیجے میں مقامی باشندوں کے خلاف جنگیں اور ہمسایہ طاقتوں سے تصادم سامنے آیا۔ امریکی سیاست دانوں کا خیال تھا کہ نئی سرزمینوں پر قبضہ اور امریکی طرز نظام کی توسیع تہذیب اور آزادی کے فروغ کے لیے ضروری ہے۔

عالمی طاقت بننے کے مرحلے میں، جو امریکہ کی آزادی کے اعلان کے بعد شروع ہوا، اس نے نئی منڈیوں تک رسائی، سمندری راستوں کے تحفظ اور یورپی طاقتوں سے مقابلے جیسے دلائل کے تحت دیگر ممالک کے خلاف جنگی پالیسیاں اختیار کیں۔

اشتراکیت کا سدباب بھی امریکی حکومتوں کی جنگی پالیسیوں کا ایک اہم جواز تھا، تاہم سوویت اتحاد کے انہدام کے بعد جنگوں کے جواز تبدیل ہوگئے اور ان کی جگہ علاقائی استحکام، تیل کے ذخائر کا تحفظ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی روک تھام جیسے دلائل نے لے لی۔

امریکہ کی اہم ترین جنگیں

جیسا کہ بیان کیا گیا، امریکہ نے اپنی 250 سالہ تاریخ میں دنیا بھر میں سینکڑوں جنگیں برپا کیں، ان جنگوں نے نہ صرف لاکھوں افراد کو موت اور بے گھری سے دوچار کیا بلکہ یہ بھی ظاہر کیا کہ تہذیب، آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق کے وہ دعوے، جنہیں گزشتہ کئی دہائیوں سے دیگر ممالک کے خلاف کارروائیوں کا جواز بنایا جاتا رہا، محض بہانے تھے۔ امریکی حکومتیں اس پورے عرصے میں مسلسل اپنے مفادات کے حصول اور دیگر ممالک کے وسائل پر قبضے کی کوشش کرتی رہیں۔ الجزیرہ نے اپنی ایک رپورٹ میں اس عرصے کے دوران امریکہ کی اہم جنگوں کا جائزہ لیا ہے۔

انیسویں صدی کی جنگیں اور ابتدائی توسیع

اس دور کی جنگیں امریکہ کے شمالی براعظم پر غلبے سے سمندر پار علاقوں میں توسیع اور بیرونی اثرورسوخ بڑھانے کی پالیسی کی عکاس ہیں۔

الف: امریکہ اور میکسیکو کی جنگ سن 1846 سے 1848 تک جاری رہی، جس میں 1733 امریکی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ 78 ہزار 718 امریکی فوجیوں نے حصہ لیا۔ اس جنگ کا اہم ترین نتیجہ کیلیفورنیا، نیو میکسیکو اور ٹیکساس سمیت وسیع علاقوں پر قبضہ اور بحرالکاہل تک امریکی حدود کی توسیع کی تکمیل تھا۔

ب: امریکہ اور اسپین کی جنگ سن 1898 میں ہوئی، جس کا مقصد پورٹو ریکو، گوام اور فلپائن پر قبضہ اور کیوبا پر عملی کنٹرول حاصل کرنا تھا۔ امریکہ اس جنگ کے ذریعے خود کو دنیا کی بڑی سامراجی طاقتوں کی صف میں شامل کرنا چاہتا تھا۔ بیرون براعظم مداخلت اور حکومتوں کی تبدیلی کی ابتدائی مثال قائم کرنا، نئی تجارتی منڈیوں تک رسائی اور بحری گزرگاہوں و اڈوں کا حصول بھی اس جنگ کے نمایاں مقاصد تھے۔

ج: فلپائن اور امریکہ کی جنگ سن 1899 سے 1902 تک جاری رہی، جس کا مقصد فلپائن پر امریکہ کے براہ راست نوآبادیاتی تسلط کو بیسویں صدی کے وسط تک برقرار رکھنا تھا۔ بحرالکاہل میں تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے فوجی اڈوں کا جال بچھانا اور ایشیا میں امریکی تزویراتی اثرورسوخ کو وسعت دینا بھی واشنگٹن کے اہداف میں شامل تھا۔ یہ جنگ امریکہ کی جانب سے آزادی کی قومی تحریکوں کو دبانے اور انسداد بغاوت کی سخت کارروائیوں کی نمایاں مثال سمجھی جاتی ہے۔

عالمی جنگیں اور سرد جنگ

اگرچہ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کا آغاز امریکہ نے نہیں کیا، تاہم ان دونوں جنگوں نے امریکہ کے عالمی مفادات کو تقویت دینے اور بین الاقوامی طاقت کے توازن کو اس کے حق میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ خود کو عالمی سطح پر بلا مقابلہ طاقت کے طور پر منوانے میں کامیاب ہوا، جبکہ سرد جنگ کے نتیجے میں سوویت اتحاد کے انہدام کے بعد امریکی بالادستی پر مبنی یک قطبی عالمی نظام کا آغاز ہوا۔

کوریا کی جنگ سن 1950 سے 1953 تک جاری رہی۔ اس کا اختتام جنگ بندی، جزیرہ نما کوریا کی تقسیم اور اس خطے میں نئے اتحادوں کی تشکیل پر ہوا۔ یہ جنگ باضابطہ اعلان جنگ کے بغیر اس لیے لڑی گئی تاکہ مکمل جنگ کے قانونی تقاضوں اور براہ راست وسیع تصادم سے بچا جا سکے۔

ویتنام کی جنگ سن 1965 سے 1973 تک جاری رہی۔ اس جنگ نے امریکہ کو ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں الجھا دیا، جس کا اختتام 1973 میں امریکی افواج کے انخلا پر ہوا۔ اس کے نتیجے میں امریکہ کے اندر عوامی اعتماد میں کمی آئی اور بیرونی فوجی مداخلت اور سیاسی اداروں کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔

ویتنام کی جنگ طویل، مہنگی اور تھکا دینے والی جنگوں کی ایک نمایاں مثال تھی، جو باضابطہ اعلان جنگ کے بغیر اور انتظامی اختیارات کے استعمال کے ذریعے لڑی گئی۔

سرد جنگ کے بعد کی جنگیں

سن 1991 کے بعد ہونے والی یہ جنگیں یک قطبی عالمی نظام، طویل دورانیے، پیچیدہ اتحادوں اور جنگ کے نئے طریقوں کی وجہ سے امریکہ کی عسکری حکمت عملی میں بڑی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان جنگوں نے یہ ظاہر کیا کہ امریکہ ٹیکنالوجی پر مبنی برتری کے تصور سے نکل کر طویل جنگوں، محدود حملوں اور علاقائی اتحادوں کی پیچیدہ حکمت عملی کی طرف بڑھا، جن میں سے بیشتر گیارہ ستمبر کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عنوان سے لڑی گئیں۔

الف: پہلی خلیجی جنگ سن 1990 سے 1991 کے درمیان عراق میں ہوئی۔ اس جنگ کا بنیادی مقصد کویت سے عراقی افواج کا انخلا اور ان فوجی صلاحیتوں کو تباہ کرنا تھا جو امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ کے دوران صدام حسین کی حکومت کو فراہم کی تھیں۔

ب: کوسووو کی جنگ سن 1999 میں سابق یوگوسلاویہ، یعنی سربیا میں ہوئی۔ اس جنگ کی نمایاں خصوصیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو نظر انداز کرنا اور زمینی افواج کے استعمال کے بغیر شدید فضائی بمباری پر مکمل انحصار تھا۔

ج: افغانستان پر حملہ سن 2001 سے 2021 تک جاری رہا۔ اس جنگ نے بھی امریکہ کو ایک طویل اور مہنگی جنگ میں الجھا دیا، جس کا اختتام مکمل امریکی انخلا اور سن 2021 میں طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی پر ہوا۔ اس جنگ نے امریکہ اور افغانستان دونوں کو بھاری مالی نقصان اور وسیع انسانی جانی نقصان سے دوچار کیا۔

علاقائی اور غیر روایتی دشمن کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کی تشکیل، امریکہ کی طویل ترین جنگ میں شمولیت، اور براہ راست زمینی تصادم کم کرنے کے لیے بغیر پائلٹ طیاروں جیسی جدید ٹیکنالوجی کا وسیع استعمال اس جنگ کی نمایاں خصوصیات تھیں۔

د: عراق پر حملہ سن 2003 سے 2011 تک جاری رہا۔ اس جنگ کا سب سے اہم نتیجہ صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ اور 2011 تک عراق میں امریکہ کا طویل قبضہ رہا۔ امریکہ نے عراق میں اپنی فوجی کارروائیوں پر ایک کھرب ڈالر سے زائد خرچ کیے جبکہ اس جنگ کے نتیجے میں دس لاکھ سے زیادہ عراقی شہری جان سے گئے۔

ہ: شام اور عراق میں داعش کے خلاف جنگ۔ یہ جنگ سن 2014 سے 2019 تک داعش کے خلاف کارروائی کے نام پر لڑی گئی، حالانکہ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے صدارتی انتخابی مہم کے دوران اعتراف کیا تھا کہ سابق امریکی حکومتیں ہی اس تنظیم کے قیام کی بنیادی ذمہ دار تھیں۔

اس جنگ میں وسیع زمینی قبضے سے گریز کرتے ہوئے شدید فضائی حملوں کے ذریعے مفادات کا تحفظ امریکہ کی اہم حکمت عملی رہی۔ دور سے محدود حملے، بغیر پائلٹ طیاروں کا استعمال اور جنگ کو طویل ہونے سے روکنے کی کوشش بھی اسی دور کی نمایاں عسکری حکمت عملی تھی۔

و: ایران کے ساتھ سن 2026 کی جنگ، جس نے عالمی معیشت پر بھاری مالی اور اقتصادی بوجھ ڈالا۔ اس جنگ کی نمایاں خصوصیات میں بغیر پائلٹ طیاروں جیسی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، فریقین کے درمیان عددی اور تکنیکی فرق کو کم کرنے کی کوشش، اور جنگ کے لیے پیش کیے جانے والے مختلف جواز شامل تھے، جن میں جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور ایران کے نظام حکومت میں تبدیلی جیسے نکات نمایاں تھے۔

مشہور خبریں۔

اسلامی جہاد کے خوف سے تل ابیب کے حفاظتی اقدامات

?️ 2 اگست 2022سچ خبریں:  صہیونی فوج نے اسلامی جہاد تحریک کے انتباہ کے بعد

اب سے نیتن یاہو فراریوں اور پناہ گزینوں کے رہنما ہوں گے: عطوان

?️ 24 اکتوبر 2024سچ خبریں: علاقائی اخبار رای‌الیوم کے مدیر اور معروف فلسطینی تجزیہ نگار

غزہ کے صحافیوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے اور شخصیت کشی کرنے سے نیتن یاہو کا مقصد کیا ہے؟

?️ 13 فروری 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کا میڈیا پر کیچڑ اچھالنے کا منصوبہ 126

سردی؛ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر تشدد کا ایک نیا ہتھیار

?️ 26 دسمبر 2025سچ خبریں: فلسطینی اسیران کے میڈیا آفس نے سردیوں کی آمد کے

اردن کے بادشاه کی اقوام متحدہ کے اجلاس میں فلسطینیوں کی حمایت

?️ 25 ستمبر 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں اجلاس میں اردن

پورا مغرب ماسکو کے ساتھ برسر پیکار

?️ 10 اگست 2023سچ خبریں:روسی فیڈریشن کے وزیر دفاع Sergei Shoigu نے پولینڈ کے فوجی

صیہونی ماہر: ٹرمپ نے اسرائیل کو اپنی علاقائی حکمت عملی سے باہر کر دیا ہے

?️ 18 مئی 2025سچ خبریں: علاقائی پیشرفت کے بارے میں ٹرمپ کی پالیسیوں اور خاص

صیہونی حکومت رمضان المبارک میں مغربی کنارے کے حالات کے پریشان

?️ 13 فروری 2024سچ خبریں:Yediot Aharonot کے مطابق اسرائیلی سیکورٹی حلقے مغربی کنارے میں رمضان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے