امریکہ اب دنیا کا رہنما نہیں رہا، ٹرمپ کی پالیسیاں عالمی نظام کے لیے چیلنج: نیویارک ٹائمز  

دنیا کا رہنما

?️

سچ خبریں:نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کو ایک زومبی میں تبدیل کر دیا ہے اور دنیا میں اس کی قیادت کا کردار ختم ہوتا جا رہا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے اپنی تازہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے امریکہ کی عالمی قیادت کو کمزور کر دیا ہے، جس کے باعث اتحادی ممالک واشنگٹن پر انحصار کم کرنے اور اپنی سلامتی و معیشت کے لیے متبادل راستے اختیار کر رہے ہیں۔

امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ، جو اس ملک کی دہشت گرد حکومت کے صدر ہیں، کی خطے میں جنگی پالیسیوں اور عالمی سطح پر کشیدگی پیدا کرنے والی حکمت عملی پر امریکی حلقوں کی تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی تناظر میں نیویارک ٹائمز کے کالم نگار اسٹیون مارشی نے امریکہ ایک زومبی کی مانند ہے اور دنیا کا رہنما نہیں رہا کے عنوان سے شائع ہونے والے اپنے تجزیہ نگار میں لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں نہ صرف اس عالمی نظام کو کمزور کر رہی ہیں جس کی قیادت واشنگٹن کئی دہائیوں سے کرتا رہا، بلکہ امریکہ کے اتحادیوں کو بھی اپنی سلامتی اور اقتصادی پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کر رہی ہیں، کیونکہ اب امریکہ پر انحصار کو محفوظ انتخاب نہیں سمجھا جا رہا۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کو امریکہ میں شامل کرنے، گرین لینڈ پر قبضے، اتحادی ممالک پر محصولات عائد کرنے اور شمالی اوقیانوسی معاہدہ تنظیم کو کمزور کرنے جیسے بیانات پر ابتدائی ردعمل غصے اور تشویش پر مبنی تھا، لیکن بعد ازاں امریکی اتحادیوں نے محسوس کیا کہ واشنگٹن سے بتدریج فاصلہ اختیار کرنے کی قیمت اس سے کہیں کم ہے جتنا پہلے اندازہ لگایا جا رہا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مثال کے طور پر، ٹرمپ کی دوبارہ وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد کینیڈا کو امریکہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے تجارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

 کینیڈا کے مرکزی بینک کی ایک تحقیق کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے کینیڈین برآمدات پر 25 فیصد محصولات عائد کرنے سے اگرچہ معاشی ترقی کی رفتار سست ہوگی، تاہم یہ اس ملک کے لیے کسی معاشی تباہی کے مترادف نہیں ہوگا۔

تجزیہ نگار نے مزید کہا کہ کینیڈا کے شیلڈ ادارے کی ایک دوسری تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کو برآمدات میں کمی کی بڑی حد تک تلافی دنیا کے دیگر خطوں سے بڑھتی ہوئی طلب کے ذریعے ہو رہی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کینیڈا کی امریکی منڈی پر انحصار بتدریج کم ہو رہا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے کالم نگار نے واضح کیا کہ یہ تبدیلی صرف کینیڈا تک محدود نہیں بلکہ یورپ تک بھی پھیل رہی ہے، جہاں گزشتہ دو برسوں کے دوران مالیاتی منڈیوں نے واشنگٹن پر انحصار کم کرنے کے لیے دفاعی اخراجات کا رخ امریکی کمپنیوں کے بجائے یورپی دفاعی صنعتوں کی جانب موڑنا شروع کر دیا ہے۔

تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ کے حوالے سے ٹرمپ کی دھمکیوں نے یورپی اتحاد کو جوابی تجارتی اقدامات اختیار کرنے پر آمادہ کیا، جس کے نتیجے میں امریکی حکومت کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

 فوجی محاذ پر ایران کے ساتھ جنگ نے بھی امریکی طاقت کی حدود کو نمایاں کر دیا، کیونکہ تہران شدید فوجی دباؤ کے باوجود اپنا سیاسی نظام برقرار رکھنے میں کامیاب رہا اور بالآخر امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے ذریعے پابندیوں کے خاتمے تک پہنچ گیا۔

 دوسری جانب خلیج فارس کے ممالک بھی اس جنگ کے بعد امریکی سلامتی کی ضمانتوں کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہو گئے ہیں۔

اسٹیون مارشی نے مزید کہا کہ انقرہ میں حالیہ شمالی اوقیانوسی معاہدہ تنظیم کے اجلاس کے دوران ٹرمپ کی جانب سے اپنے متعدد اتحادیوں پر تنقید اور گرین لینڈ سے متعلق اپنے مطالبات کا اعادہ اب پہلے کی طرح باعث تشویش نہیں رہا، کیونکہ مختلف ممالک ان دھمکیوں کو محض ایک سیاسی مظاہرہ سمجھتے ہیں جس پر عملی درآمد کی صلاحیت موجود نہیں۔

تجزیہ نگار میں مزید کہا گیا ہے کہ کئی ممالک کافی عرصے سے تجارت، دفاع اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں امریکہ پر اپنا انحصار کم کر رہے ہیں۔

 کینیڈا نے مختصر مدت میں سو سے زیادہ بین الاقوامی تجارتی معاہدے کیے ہیں، جبکہ یورپی اتحاد امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر انحصار کم کرنے کی سمت گامزن ہے۔ اسی طرح بیلجیم اور فن لینڈ جیسے ممالک نے بھی ایمیزون کی ابری خدمات سے دوری اختیار کرنے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

تجزیہ نگار نے بین الاقوامی منظرنامے میں امریکہ کو ایک زومبی سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا کہ اگرچہ اس کے پاس اب بھی کافی طاقت موجود ہے، لیکن اندرونی سیاسی اختلافات اور مستقبل کے حوالے سے مسلسل غیر یقینی صورت حال نے، آئندہ انتخابات کے نتائج سے قطع نظر، اسے عالمی نظام کی مستقل قیادت کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا ہے۔

تجزیہ نگار کے اختتام میں زور دیا گیا ہے کہ دنیا اب امریکہ کے ساتھ ایک ایسے شراکت دار کے طور پر تعلقات استوار کر رہی ہے جس پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے اتحادی ممالک امریکی اثر و رسوخ پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی نظام میں تبدیلی کا عمل واشنگٹن کے حریفوں کی طاقت کی وجہ سے نہیں بلکہ خود امریکہ کی پالیسیوں کے باعث تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

حریدی کی وجہ سے اسرائیل کی معیشت کو اربوں کا نقصان 

?️ 4 جون 2025سچ خبریں: اسرائیلی اخبار "زیمان یسرائیل” کی رپورٹ کے مطابق، حاریدی یہودیوں کی

گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے ہفتہ وار مہنگائی 42 فیصد تک پہنچادی

?️ 18 نومبر 2023 اسلام آباد: (سچ خبریں) گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے

مسجد اقصیٰ میں 150 ہزار افراد نے عید الاضحی کی نماز ادا کی

?️ 9 جولائی 2022سچ خبریں:    ہزاروں فلسطینی آج ہفتہ کو عید الاضحی کی نماز

پنجاب حکومت ہماری آڑ میں وزیراعظم کو نشانہ بنا رہی ہے۔ شرجیل انعام میمن

?️ 5 اکتوبر 2025کراچی (سچ خبریں) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی تازہ دہشت گردی، 3 کشمیریوں کو شہید کردیا

?️ 15 جولائی 2021سرینگر (سچ خبریں)  بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں تازہ ترین دہشت گردی

لاہور: صرف 20 وینٹی لیٹرز دستیاب لواحقین شدید پریشان

?️ 26 اپریل 2021لاہور(سچ خبریں) مطابق لاہور کے تمام سرکاری اسپتالوں کے وینٹی لیٹرز95 فیصد

کیا متحدہ عرب امارات کے صدر نے امیر قطر کو انتباہی پیغام دیا؟

?️ 15 ستمبر 2025سچ خبریں: عبرانی زبان کے ایک میڈیا آؤٹ لیٹ نے دعویٰ کیا

آئینی عدالت کے قیام سے وفاق مضبوط ہوا ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

?️ 1 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے