?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ملک کے زرعی شعبے کی تشویشناک صورتحال پر خبردار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران زرعی قرضوں کی فراہمی میں 54 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے کسان شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ملک کے زرعی شعبے، جو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، اس کی ایک انتہائی تشویشناک تصویر پیش کی ہے، جس میں انہوں نے فصلوں کی تباہی، کم پیداوار، کسانوں کی شہروں کی طرف ہجرت اور بڑھتے ہوئے ماحولیاتی و معاشی بحرانوں کا ذکر کیا۔
محمد اورنگزیب نے پارلیمنٹ میں جمع کروائے گئے اپنے تحریری جواب میں کہا کہ فصلوں کی ناکامی، کم پیداوار اور کھلی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے باعث کسان نقدی کے بحران کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے قرضوں کی ادائیگیوں میں تاخیر ہوتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ (زیڈ ٹی بی ایل)، جو زرعی شعبے کے لیے سب سے بڑا مالیاتی ادارہ ہے، اس کی جانب سے زرعی شعبے کو دیا جانے والا قرض گزشتہ دو برسوں میں تقریباً 54 فیصد کم ہو کر صرف 39 ارب 66 کروڑ روپے رہ گیا ہے، یہ رقم 2023 میں 85 ارب 56 کروڑ 30 لاکھ روپے اور 2024 میں 61 ارب 36 کروڑ 20 لاکھ روپے تھی۔
وزیرِ خزانہ نے زرعی شعبے کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجوہات میں ماحولیاتی اور معاشی بحرانوں کو شامل کیا۔
ان کے مطابق سیلاب، خشک سالی یا کیڑوں کے حملے فصلوں کو تباہ کر دیتے ہیں، جس سے کسان قرضے واپس کرنے کے قابل نہیں رہتے، جب کہ مہنگائی جیسے معاشی مسائل بیج اور کھاد کی لاگت بڑھا دیتے ہیں، جس سے کسانوں کا منافع کم ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کسان برادری کی غیر مؤثر کاشتکاری کے طریقوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کم پیداوار کی بڑی وجوہات پرانے زرعی طریقے، خراب معیار کے بیج، کھاد کے ناکافی استعمال اور جدید زرعی معلومات کی کمی ہیں۔
اس کے علاوہ سماجی و معاشی مسائل کو بھی زرعی ترقیاتی بینک کی جانب سے کم قرض کی فراہمی کی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا، ان میں غربت، صرف زراعت پر آمدنی کا انحصار، کسانوں کی شہروں کی طرف ہجرت کے باعث زمینوں کا غیر آباد ہونا اور خاندانی یا صحت کے ہنگامی مسائل شامل ہیں، جن پر دستیاب رقوم خرچ ہو جاتی ہیں۔
وزیرِ خزانہ نے یہ تفصیلی رپورٹ سینیٹر سید مسرور احسن کے سوال کے جواب میں پیش کی، جنہوں نے گزشتہ تین برسوں میں پنجاب اور سندھ میں زیڈ ٹی بی ایل کی قرضوں کی فراہمی اور ان کی وصولی کی صورتحال کے بارے میں استفسار کیا تھا۔
سینیٹر مسرور احسن نے یہ بھی پوچھا تھا کہ کیا بینک نے مقررہ اہداف کے مطابق وصولی حاصل کی یا نہیں اور اگر نہیں، تو اس کی وجوہات کیا تھیں۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ زیڈ ٹی بی ایل کی جانب سے زرعی قرضوں کی فراہمی پنجاب میں 53 فیصد اور سندھ میں 59 فیصد تک کم ہوگئی ہے، حالانکہ یہ دونوں صوبے ملک کی زرعی پیداوار کے بڑے مراکز ہیں۔
پنجاب میں 2023 میں زرعی شعبے کو 75 ارب 16 کروڑ 70 لاکھ روپے کے قرض دیے گئے، جو 2024 میں 61 ارب 36 کروڑ 20 لاکھ روپے تک گر گئے، یعنی 18 فیصد سے زائد کمی، 2025 میں یہ مزید کم ہو کر 35 ارب 43 کروڑ روپے رہ گئے۔
سندھ میں 2023 میں زرعی قرضوں کی رقم 10 ارب 40 کروڑ روپے تھی، جو 2024 میں 7 ارب 22 کروڑ روپے تک گر گئی، یعنی 30.6 فیصد کمی، 2025 میں یہ مزید گھٹ کر 4 ارب 23 کروڑ روپے رہ گئی۔
رپورٹ کے مطابق بقیہ واجب الادا قرضوں کی رقم دونوں صوبوں میں معمولی حد تک اتار چڑھاؤ کا شکار رہی، مثال کے طور پر سندھ میں 2023 میں کل واجب الادا قرضے 32 ارب روپے تھے، جو 2024 میں بڑھ کر 32 ارب 76 کروڑ روپے اور 2025 میں 32 ارب 96 کروڑ روپے ہوگئے۔
پنجاب میں 2023 میں واجب الادا قرضوں کی رقم 147 ارب 70 کروڑ روپے تھی، جو 2024 میں بڑھ کر 154 ارب 20 کروڑ روپے ہوئی، مگر 2025 میں دوبارہ کم ہو کر 150 ارب 10 کروڑ روپے رہ گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں قرضوں کی وصولی کی شرح 2023 میں 77 فیصد تھی، جو 2024 میں بڑھ کر 82 فیصد ہوئی لیکن 2025 میں دوبارہ گھٹ کر 78 فیصد رہ گئی۔
دوسری جانب سندھ میں قرضوں کی وصولی کی شرح 2023 میں 60 فیصد تھی، جو 2024 میں گھٹ کر 57 فیصد ہوگئی اور 2025 میں بھی اسی سطح پر برقرار رہی۔


مشہور خبریں۔
سعودی عرب نے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے کھیلوں کا سہارا لیا
?️ 22 جنوری 2023سچ خبریں:نئے سال میں سعودی عرب کا پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کھیلوں کے
جنوری
حماس نے 2021 کے پارلیمانی انتخابات کے لیئے اپنے انتخابی امیدواروں کی فہرست جاری کردی
?️ 30 مارچ 2021غزہ (سچ خبریں) فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے 2021 کے
مارچ
واشنگٹن اور تل ابیب مزاحمتی ہتھیاروں سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟
?️ 7 اگست 2025سچ خبریں: لبنان کی پارلیمنٹ کے نمائندے قاسم ہاشم نے زور دے
اگست
شیخ کا ٹکٹ کا ضائع ہونا معمولی بات نہیں
?️ 25 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں)وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے قومی ٹیم
اکتوبر
انتخابی عمل کی نگرانی شفاف، غیرجانب دارانہ انداز میں کرنے کی کوشش ہوگی، نگران وزیراعظم
?️ 22 اگست 2023کراچی: (سچ خبریں) نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ہم
اگست
پاکستان میں ایک کروڑ کووِڈ ویکسین لگانے کا ریکارڈ بنا دیا: اسد عمر
?️ 9 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن
جون
کیا ایلان مسک منشیات استعمال کرتے ہیں؟ خود ان کا کیا کہنا ہے؟
?️ 2 جون 2025 سچ خبریں:ایلان مسک نے نیویارک ٹائمز کی اُس رپورٹ کو جھوٹ
جون
غزہ میں قتل عام نسل کشی نہیں تو پھر کیا ہے: وانس
?️ 8 جون 2025سچ خبریں: امریکی نائب صدر کملا ہیرس کے دفتر سے جاری بیان
جون