?️
اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ کی جانب سے سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران تین ترجیحات رواداری، مفاہمت اور بین الاقوامی قانون کی حمایت پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے اپنے ہمسایوں کے ساتھ ہمیشہ مذاکرات کی کوششوں کو سبوتاژ کیا ہے، بہتر ہے بھارت ان ترجیحات کا چیمپئین بننے سے قبل ان اصولوں کی پاسداری کرے۔
خیال رہے کہ بھارتی وزیر خارجہ نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ سلامتی کونسل کی اگست کے مہینے میں صدارت کے دوران بھارت کی تین ترجیحات ہیں جن میں رواداری، مفاہمت اور بین الاقوامی قانون کی حمایت شامل ہیں۔
اس پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت نے اپنے ہمسایوں کے ساتھ ہمیشہ مذاکرات کی کوششوں کو سبوتاژ کیا ہے، بہتر ہے بھارت ان ترجیحات کا چیمپئین بننے سے قبل ان اصولوں کی پاسداری کرے۔
بھارتی وزیر خارجہ کی جانب سے ترجیحات کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے میڈیا کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ نے اگست کے مہینے کے لیے سلامتی کونسل کی صدارت کے لیے تین ترجیحات رواداری، مفاہمت اور بین الاقوامی قانون کی حمایت کا تعین کیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ ایک ایسے ملک کی انتہائی منافقت ہے جس نے رواداری، مذاکرات کی کوششوں اور بین الاقوامی قانون کو منظم طریقے سے پاؤں تلے روند ڈالا ہے اور خود کو ان تین ترجیحات کی آواز کے طور پر پیش کرتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ انتہا پسند ’ہندو توا‘ نظریہ تمام بھارتی ریاستی اداروں میں اپنی جگہ بنا چکا ہے جبکہ آر ایس ایس۔بی جے پی حکومت کا ریکارڈ، اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو رواداری کا درس دینے سے قبل بھارت اپنے ملک کے اندر معاملات درست کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب سے بھارت نے اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعمیری اور بامعنی مذاکرات کے لیے کوششوں کو ہمیشہ سبو تاژ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالتے ہی عمران خان نے واضح کیا تھا کہ اگر بھارت امن کے لیے ایک قدم بڑھائے گا تو پاکستان دو قدم بڑھائے گا تاہم مذاکرات کے بجائے بھارت نے پانچ اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کے ذریعے ماحول کو مزید خراب کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ اب یہ بھارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بامعنی مذاکرات کے لیے ساز گار ماحول پیدا کرے جس سے خطے میں امن کو فروغ ملے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک بین الاقوامی قوانین کا تعلق ہے تو بھارت گزشتہ سات دہائیوں سے زائد سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں کی کھلم کھلا مخالفت کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیر قانونی بھارتی اقدامات بھی اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کے قراردادوں، فورتھ جینوا کنونشن سمیت بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں۔ترجمان نے کہا کہ بھارت خود کو تینوں ترجیحات کا چیمپئین کے طور پر پیش کرنے سے قبل ان اصولوں کی پاسداری کرے۔


مشہور خبریں۔
190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان کےخلاف جھوٹی گواہی دینے کیلئے شدید دباؤ ڈالا گیا، زلفی بخاری
?️ 22 جنوری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے
جنوری
امریکہ ریاض کو پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے پر راضی
?️ 3 اگست 2022سچ خبریں: امریکی دفاعی تعاون تنظیم نے منگل کو اعلان کیا
اگست
یمن کے خلاف اسرائیل کے 3 بڑے چیلنجز
?️ 22 دسمبر 2024سچ خبریں: صیہونی میڈیا نے یمنی میزائلوں اور ڈرونز کے خطرے سے
دسمبر
کینیڈا میں روسی سفیر؛ یوکرین کا نیٹو میں کوئی مستقبل نہیں
?️ 19 نومبر 2025سچ خبریں: روسی سفیر اولیگ اسٹیپانوف نے کینیڈا اور سویڈن کے مشترکہ
نومبر
سپریم کورٹ کے ججز ایسی کوئی چیز نہ کریں جس سے جمہوریت، آئین کی بالادستی کمزور ہو، عمران خان
?️ 9 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران
مارچ
صہیونی آباد کاروں کے وحشیانہ اغوا کا عینی شاہد بیان
?️ 17 دسمبر 2025سچ خبریں: صیہونی آباد کار برسوں سے فلسطینیوں پر ممکنہ شدید ترین
دسمبر
غزہ میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے پہلی بار شاور میزائل کا استعمال کیا
?️ 19 اپریل 2022سچ خبریں: آج صبح غزہ کی پٹی کے جنوب میں آسمان نے
اپریل
آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح پر سپریم کورٹ کا ماضی کے فیصلوں سے انحراف
?️ 1 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 (ون)(ایف) کی تشریح سے
دسمبر