?️
سچ خبریں:سی این این نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اب تک ایران کے خلاف جنگ کے اہداف، کامیابی کے معیار اور اس کے اختتام کے واضح خدوخال پیش کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث امریکہ ایک طویل اور مہنگی جنگ میں الجھ سکتا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے امریکی سینیٹ میں وزیر دفاع کی سماعت پر اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اب تک ایران کے خلاف جاری جنگ کے اہداف، کامیابی کے معیار اور اس کے اختتام کے بارے میں واضح مؤقف پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی سینیٹ کی بجٹ مختص کرنے والی کمیٹی میں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی سماعت نے ایران کے ساتھ جاری جنگ سے متعلق سوالات کے جواب دینے کے بجائے مستقبل کے حوالے سے موجود غیر یقینی صورتحال کو مزید نمایاں کر دیا۔
سی این این نے لکھا کہ سینیٹرز نے وزیر دفاع سے سوال کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کب ختم ہوگی، اس پر کتنی لاگت آئے گی اور ٹرمپ انتظامیہ اس جنگ میں کامیابی کو کس بنیاد پر دیکھتی ہے، تاہم پیش کیے گئے جوابات ان بنیادی سوالات کا اطمینان بخش جواب نہ دے سکے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے جنگی اخراجات اور پینٹاگون کی ضروریات کے لیے 87.6 ارب ڈالر کے اضافی بجٹ کی درخواست کی ہے، جبکہ اب تک تقریباً 37.5 ارب ڈالر اس جنگ پر خرچ کیے جا چکے ہیں اور اس کے باوجود تنازع مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے۔
سی این این نے امریکی حکومت کے مؤقف میں موجود تضاد کی بھی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا کہ پہلے حکام یہ دعویٰ کرتے تھے کہ امریکی حملوں نے ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، لیکن اب اسی جنگ کے تسلسل کو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے نام پر جائز قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس تضاد نے جنگ کے حقیقی مقاصد اور اس کی ضرورت سے متعلق سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تجزیے میں مزید کہا گیا کہ جنگ کے آغاز کے بعد واشنگٹن کے اعلان کردہ اہداف بھی تبدیل ہو چکے ہیں۔ ابتدا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں حکومت کی تبدیلی اور مشرق وسطیٰ میں نئی صورتحال پیدا کرنے کی بات کرتے تھے، جبکہ اب وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ صرف ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے اور آبنائے ہرمز میں اس کی صلاحیت محدود کرنے کو بنیادی ہدف قرار دے رہے ہیں۔
سی این این کے مطابق اس تبدیلی سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت کے پاس جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں اور اعلان کردہ اہداف حاصل ہونے کی صورت میں بھی امریکہ کو طویل عرصے تک خطے میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنی پڑ سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکہ کے اندر بھی اس جنگ کی مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ فوجی اخراجات بڑھنے کے ساتھ ساتھ بہت سے امریکی شہری جنگ کے معاشی اثرات، خصوصاً مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات زندگی پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹ رہنما بھی ٹرمپ انتظامیہ پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ وہ ملکی مسائل حل کرنے کے بجائے قومی وسائل کو ایک مہنگی اور غیر واضح نتائج والی جنگ پر خرچ کر رہی ہے۔
سی این این نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر نتیجہ اخذ کیا کہ وائٹ ہاؤس کے ابتدائی وعدوں کے باوجود آج تک نہ جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن پیش کی گئی ہے، نہ انخلا کی کوئی حکمت عملی سامنے آئی ہے اور نہ ہی فتح کی کوئی جامع تعریف دی گئی ہے، جس کے باعث امریکہ ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں مزید الجھ سکتا ہے۔


مشہور خبریں۔
غزہ جنگ ختم ہونےکا ابھی کوئی امکان نہیں
?️ 2 جنوری 2024سچ خبریں:عبرانی زبان کے اس میڈیا نے اپنے پیر کے شمارے میں
جنوری
وفاقی وزیر اطلاعات نے اسد قیصر کی پریس کانفرنس کو گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دے دیا
?️ 10 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اپوزیشن
اگست
حزب اللہ کی مخالفت اور سعودی حکومت کا شہری بننے والا لبنانی عالم کون ہے؟
?️ 19 نومبر 2021سچ خبریں: سعودی اپوزیشن کے ایک مصنف ترکی الشہلوب نے لبنان کے
نومبر
سوئٹزرلینڈ: ایران اور امریکہ کے درمیان ابتدائی مذاکرات جمعے کے لیے بدستور شیڈول ہیں
?️ 18 جون 2026سچ خبریں: سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران
جون
’پارٹی ٹکٹ فیس‘ سیاسی جماعتوں کیلئے فنڈنگ حاصل کرنے کا بڑا ذریعہ
?️ 27 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) آنے والے انتخابات مرکزی دھارے میں شامل تقریباً
نومبر
واٹس ایپ کے بیک گراؤنڈ میں متعدد تھیمز دیے جانے کا امکان
?️ 21 ستمبر 2024سچ خبریں: انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ کی جانب سے بیک
ستمبر
عمران خان نے پی ڈی ایم پر بات کرنے روک دیا
?️ 6 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے ترجمانوں کو پی ڈی
اپریل
جمہوریت کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں
?️ 2 اکتوبر 2023سچ خبریں:طالبان کی وزارت داخلہ کے نائب محمد نبی عمری نے اس
اکتوبر